مودی حکومت ملک کو ہندومملکت میں تبدیل کرنے کوشاں

ہندوستان ایک مذہب کے ماننے والوں کا ملک نہیں : اپوزیشن کا ردعمل ، بی جے پی کی مدافعت

ہندوستان ایک مذہب کے ماننے والوں کا ملک نہیں : اپوزیشن کا ردعمل ، بی جے پی کی مدافعت
نئی دہلی / چینائی 8 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اپوزیشن جماعتوں اور حلیف پی ایم کے کی جانب سے وزیر خارجہ سشما سواراج کو تنقیدوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے کیونکہ انہوں نے بھگوت گیتا کو قومی کتاب قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ سیاسی قائدین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا مناسب نہیں ہے اور حکومت کی جانب سے تمام مذاہب کو مساوی طرز پر دیکھا جانا چاہئے ۔ بی جے پی نے تاہم سوراج کی مدافعت کی ہے اور کہا کہ اس مطالبہ میں کچھ غلط نہیں ہے ۔ مرکزی وزیر و بی جے پی لیڈر مختار عباس نقوی نے کہا کہ سشما سوراج نے جو کچھ کہا ہے اس میں کوئی غلط نہیں ہے ۔ اس پر اظہار خیال کرنے میں کیا غلط ہے ؟ ۔ بھگوت گیتا کو قومی کتاب قرار دینے کا سشما سوراج نے کل ایک جلسہ میں مطالبہ کیا تھا ۔ کانگریس لیڈر ششی تھرور نے سوال کیا کہ کئی مذاہب والے ملک میں کسی ایک کتاب کو کس طرح سب سے مقدس قرار دیا جاسکتا ہے ؟ ۔ اگر آپ گیتا کو یہ درجہ دیتے ہیں تو پھر ویداس کا کیا ہوگا ؟ اُپنیشد کا کیا ہوگا ۔ سابق مرکزی وزیر نے یہ بھی سوال کیا جب ملک میں کئی مذاہب پر عمل کیا جاتا ہے تو پھر صرف ایک قومی کتاب کی بات کس طرح سے کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں حکومت کیلئے ایسی باتیں کرنا مناسب نہیں ہے ۔ پی ایم کے کے بانی ایس رامدوس نے کہا کہ سشما سواراج کی جانب سے ایک طبقہ کے نظریات کو سارے ملک پر تھوپنے کی کوشش قابل مذمت ہے ۔ گیتا میں ہر مسئلہ کا حل ہونے سوراج کے ادعا پر انہوں نے کہا کہ اس سے انکار نہیں ہے کہ گیتا میں بہترین اقدار ہیں لیکن یہی اقدار قرآن مقدس میں اور انجیل مقدس میں بھی ہیں۔ ایسے میں اگر گیتا کو مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو صرف یہی تاثر مستحکم ہوگا کہ مودی حکومت ہندوستان کو ایک ہندو مملکت بنانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ڈی ایم کے سربراہ ایم کروناندھی نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر جمہوریہ ہے اور یہ دستور میں واضح ہے ۔ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ تمام مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک کرے ۔ بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے کہا کہ ہندوستان صرف ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کا ملک نہیں ہے ۔ یہاں کئی مذاہب کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں ایسے میں اس طرح کے بیانات دینے سے دوسرے مذاہب کے ماننے والے بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ انکی کتابوں کو قومی کتاب کا درجہ دیا جائے ۔ سی پی آئی لیڈر ڈی راجہ نے بیان پر ناراضگی ظاہر کی ہے اور کہا کہ انہوں نے یہ مسئلہ راجیہ سبھا میں اٹھانے کی نوٹس دی ہے جبکہ عام آدمی پارٹی کے منیش سیسوڈیا نے کہا کہ سوراج کا مطالبہ خود گیتا کی توہین ہے ۔ جنتادل یو کے لیڈر شرد یادو نے کہا کہ گیتا ‘ مودی حکومت سے بہت قدیم ہے اور ہندووں کی اس مقدس کتاب کو کسی کی تائید کی ضرورت نہیں ہے ۔ این سی پی لیڈر جتیندر اوہاد نے کہا کہ انھیں ہندو ہونے پر فخر ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہونچائی جائے ۔ سماج وادی پارٹی لیڈر ابواعظمی نے کہا کہ یہ سیکولر ملک ہے اور تمام مذاہب کا احترام کیا جانا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT