Wednesday , November 21 2018
Home / شہر کی خبریں / !مودی حکومت میں بنکوں کو بند کرنے کی تیاریاں

!مودی حکومت میں بنکوں کو بند کرنے کی تیاریاں

دوبئی کی طرح کرپٹو کرنسی سے جڑنے کا منصوبہ، بلاک چین کے ذریعہ رقمی تبادلوں کو یقینی بنانے کا ارادہ !
حیدرآباد ۔ 17 جون (سیاست نیوز) ملک میں جو اقتصادی حالات ہیں، مودی حکومت کی جو معاشی پالیسیاں ہیں اور بیروزگاری کی شرح میں جس طرح مسلسل اضافہ ہورہا ہے رشوت ستانی، بدعنوانیوں سے کوئی محکمہ محفوظ نہیں ہے یہاں تک کہ بنکوں میں جمع کروائی گئی رقومات اور بنک لاکرس میں رکھے گئے زیورات و دستاویزات کی کوئی گیارنٹی نہیں ہے، ان حالات میں ایسا لگتا ہیکہ آنے والے برسوں میں ہمارے ملک میں بنکس رہیں گے نہ بنکرس اور رقمی تبادلہ میں مدد کرنے والے درمیانی افراد (بنک ملازمین، ایجنٹس وغیرہ وغیرہ) اور جب بنکس ہی نہیں ہوں گے تو آپ کو چیک بکس کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی اور رقمی ادائیگیوں کیلئے آپ کو چیک کاٹ کر دینا بھی نہیں پڑے گا۔ قارئین! آپ اسے کوئی مذاق مت سمجھئے ایسا ہونے والا ہے۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہیکہ مودی حکومت کا دعویٰ ہیکہ وہ ملک کو کرپشن سے پاک کرے گی یہ اور بات ہیکہ ہندوستان بھر میں فرقہ پرستی کی گندگی پھیلتی جارہی ہے۔ مودی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت چاہتی ہے کہ شہریوں کے ہر پیسہ پر نظر رکھے اسی لئے وہ متحدہ عرب امارات کی ایک ریاست دوبئی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے شہریوں کو بنکوں بنکرس، چیک بکس وغیرہ کی زحمتوں سے بچانے کی تدبیریں کررہی ہے لیکن اسے اندازہ نہیں کہ 1.25 ارب آبادی کے حامل ہندوستان میں اس طرح کے اقدامات سے بیروزگاری میں خطرناک اضافہ ہوگا۔ پیسے والوں (دولتمندوں) کی چاندی ہوگی۔ پہلے ہی سے پائی جانے والی عدم مساوات کی لعنت میں مزید اضافہ ہوگا۔ غریب پریشان ہوں گے، جس کے نتیجہ میں بے چینی بڑھے گی اور لوگ لوٹ مار کی طرف راغب بھی ہوسکتے ہیں۔ مودی حکومت کو دوبئی یا دنیا کے کسی اور ترقی یافتہ شہروں کی تقلید کرنے کی بجائے پہلے اپنے حالات پر طائرانہ نظر دوڑانی چاہئے۔ ہندوستان کا شمار دنیا کی چنندہ بڑی جمہوریتوں میں ہوتا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا میں ہندوستان کا دوسرا مقام ہے۔ بیرونی سے زیادہ بے شمار داخلی مسائل اور چیلنج کا ہمیں سامنا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج ملک میں بڑھتی مذہبی انتہاء پسندی ہے۔ بی جے پی کی سرپرست تنظیم ہر مسئلہ کو ہندوتوا کی عینک سے دیکھتی ہے۔ فرقہ پرستی، بیروزگاری، خواتین پر جنسی حملوں، غیرانسانی حرکات، ناانصافی اور اہم سرکاری اداروں پر سنگھ کے بڑھتے اثرورسوخ نے حالات کو سنگین بنادیا ہے۔ مذہب کے نام پر عوام کو تقسیم کرنے کی خطرناک پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے ۔ اس صورتحال میں معاشی اصلاحات کے نام پر بنکوں کو برخاست کرنے سے متعلق فیصلے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ تصور کیجئے کہ بنکنگ خدمات کی جگہ ایک اپنی نئی سہولت متعارف کروائی جائے جس میں نہ تو وکیل کی نہ ہی اکاؤنٹنٹ کی اور نہ ہی بنکرس کی نہ ہی ایمگریشن اور سرکاری عہدیداروں کی ضرورت ہوگی اور ملک میں رقمی تبادلہ جاری رہے گا تو کیا ہوگا؟ ہاں یہ دراصل ورچول کرنسی کا کھیل ہے اور دوبئی اس ٹکنالوجی سے جڑ چکا ہے۔ 2020ء تک اس کی پوری رقمی لین دین کا Virtual یعنی Blockchain ٹکنالوجی پر انحصار ہوجائے گا۔ بلاک چین دراصل ریکارڈس کی مسلسل بڑھتی فہرست ہے جسے بلاکس بھی کہا جاتا ہے۔ ڈسٹل پاسپورٹ کے ذریعہ دوبئی انٹرنیشنل ایرپورٹ پر Blockchain Security Chain ملے گی تمام ریئل اسٹیٹس اور اثاثوں سے جڑے رقمی تبادلے بلاک چین کے ذریعہ انجام پائیں گے۔ کرایہ سے لیکر ٹیلیکام بلز تک آپ بلاک چین کے ذریعہ جمع کرپائیں گے اور اکٹوبر میں تو دوبئی نے اپنے شہریوں کیلئے کرپٹو کرنسی جاری کی جو یہ کیش یعنی ڈسٹل کیش ہے Crypto Currency کا مطلب یہ ہیکہ رقمی تبادلوں کیلئے کوئی درمیانی شخص نہیں چاہئے۔ مائیکرو سافٹ آئی بی ایم ۔ سسکو، آئی پی ایس اور اس طرح کی دوسری 46 کمپنیاں بلاک چین ٹکنالوجی سے جڑ چکی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے جرأت کی ضرورت دوبئی کو کیوں پڑی؟ اور آیا ہندوستان بھی آنے والے وقت میں اسی راستے پر جانے کی تیاریاں کررہا ہے۔ جہاں تک دوبئی کا سوال ہے اس نے تقریباً ایک کروڑ دستاویزات کو بلاک چین ٹکنالوجی میں ڈال دیا ہے جس سے اس نے 2.5 کروڑ لوگوں کے کام کے گھنٹے بچا لئے اور 1.5 ملین ڈالر ٹیکس بھی بچا لیا۔ دوبئی کی ڈائرکٹر جنرل عائشہ کے مطابق ان کا مشن ہیکہ دوبئی دنیا میں سب سے الگ ہو ایک لحاظ سے کرہ ارض کا خوشحال شہر ہو جہاں کوئی کاغذی کام نہ ہو اور نہ ہی کوئی فراڈ۔ دوبئی کا ٹارگٹ 2020 ہے اور کیا ہندوستان بھی 2020 تک اس سمت میں بڑے پیمانے پر بڑھتا جائے گا۔ ویسے بھی عام خیال یہ ہیکہ مودی اگر 2019ء کے عام انتخابات میں کامیاب ہوتے ہیں تو ایسا کر بھی سکتے ہیں کیونکہ وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT