Wednesday , September 19 2018
Home / ہندوستان / مودی حکومت میں فلسطین پر پالیسی تبدیل نہ ہونے کی توقع

مودی حکومت میں فلسطین پر پالیسی تبدیل نہ ہونے کی توقع

نئی دہلی ۔ 13 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) فلسطینی سفیر عدلی شعبان حسن صادق نے آج اس توقع کا اظہار کیا کہ نریندر مودی حکومت میں اسرائیل۔فلسطین مسئلہ پر ہندوستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ غزہ میں حالیہ بمباری کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل قرارداد کی تائید میں ووٹ دینے پر ہندوستان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے انہوں نے

نئی دہلی ۔ 13 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) فلسطینی سفیر عدلی شعبان حسن صادق نے آج اس توقع کا اظہار کیا کہ نریندر مودی حکومت میں اسرائیل۔فلسطین مسئلہ پر ہندوستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ غزہ میں حالیہ بمباری کی تحقیقات کیلئے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل قرارداد کی تائید میں ووٹ دینے پر ہندوستان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطین کو یہ توقع ہے کہ ہندوستان بین الاقوامی پالیسی کے معاملہ میں وسیع اور موثر رول ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار پر آنے کے بعد صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ ہم اس سے پہلے بھی بی جے پی زیر قیادت حکومت کا سامنا کرچکے ہیں۔ جب اقتدار حاصل ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہے اور بین الاقوامی صورتحال کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہوجاتا ہے ۔ عدلی شعبان حسن صادق نے کہا کہ حکومت کو متوطن موقف اختیار کرنا چاہئے اور اگر کوئی بات ہو ، جسکی مذمت کی جانی ہے تو یقیناً ایسی حرکت کی مذمت ہونی چاہئے ۔

اسی طرح جہاں جرات مندی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے وہاں ایسا کرنا چاہئے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ بی جے پی زیر قیادت حکومت سے کیا اندیشہ لاحق ہے کہ وہ اسرائیل کے زیادہ قریب ہوگی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایسا کوئی اندیشہ نہیں ہے ۔ ہندوستان نے اقوام متحدہ قرارداد کی تائید کی ہے اور یہ مثبت شروعات ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر مودی حکومت موجودہ اسرائیلی حکومت کے ساتھ روابط کو استوار کرتی ہے تو وہ اسے منفی تناظر میں دیکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اسرائیل یا اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ روابط استوار کرسکتی ہے لیکن حکومت کے ساتھ ایسا کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک عظیم ملک ہے اور فلسطینی عوام کا یہ احساس ہے کہ اسے سپر پاور کے طور پر ابھرنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بین الاقوامی پالیسی میں ہندوستان کے موثر اور وسیع تر رول کے خواہاں ہیں۔

عدلی شعبان نے انڈین ویمن پریس کور کے زیر اہتمام منعقدہ ایک پروگرام میں یہ بات کہی۔ انہوں نے چین کا حوالہ دیا اور کہا کہ اسرائیل کے بین الاقوامی قانون کے خلاف ورزیوں کی اس نے ہمیشہ مذمت کی ہے حالانکہ تل ابیب کے ساتھ چین کے گہرے معاشی روابط ہیں۔ فلسطینی سفیر نے کہا کہ 2012 ء میں اسرائیل کی بعض کارروائیوں کے خلاف ہندوستانی بیانات دیکھ کر انہیں مایوسی ہوئی۔ ہندوستان نے اسرائیل اور فلسطین کے مابین غزہ تشدد پر بیان جاری کرتے ہوئے ’’مذمت‘‘ کے بجائے لفظ ’’گہری تشویش‘‘ کا استعمال کیا تھا۔ بات چیت کے دوران انہوں نے وزیر امور خارجہ سشما سوراج کو ’’اسرائیل کی دوست‘‘ قرار دیا لیکن پھر یہ بھی کہا کہ اس وقت وہ اپوزیشن میں تھیں۔ انہوں نے بی جے پی لیڈر نتن گڈکری سے بات چیت کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔

TOPPOPULARRECENT