Sunday , April 22 2018
Home / Top Stories / مودی حکومت میں مسلمانوں اور دلتوں پر خوف کے سائے

مودی حکومت میں مسلمانوں اور دلتوں پر خوف کے سائے

کانشی رام ، سمرتی اپون لکھنؤ میں بی جے پی کی دلت رکن پارلیمنٹ برائے بہرائچ کا اظہارخیال

لکھنؤ ۔ 30 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بھگوا ملبوس پہنی ہوئی بی جے پی کی حلقہ بہرائچ کی دلت رکن پارلیمنٹ ساوتری بائی پولے نے بھارتیہ سم ودھان بچاؤ (دستورہند کو بچاؤ) جلسہ عام سے کانشی رام، سمرتی اپون لکھنؤ میں حکومت کی دلت دشمن پالیسیوں کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے کہا کہ چند مرکزی وزراء اور بی جے پی ارکان پارلیمنٹ ہیں جو مستقل طور پر دلت دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں اور ایس سی اور ایس ٹی کیلئے تحفظات ختم کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ پھولے نے مزید الزام عائد کیا کہ دلتوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتی طبقات کے تحفظات ختم کرنے کے قومی صدر بی جے پی امیت شاہ کے مطالبہ کے بعد ان تمام طبقات کے عوام خوف کے سائے تلے زندگی گذار رہے ہیں۔ اخبار نیشنل ہیرالڈ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہا جارہا ہیکہ ہم دستور کو تبدیل کرنے کیلئے آئے ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی کہا جاتا ہیکہ تحفظات پالیسی منسوخ کردی جائے گی اور بعض اوقات تحفظات پالیسی میں نرمی پیدا کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں حالانکہ یہ تحفظات دستور ہند کے عطا کئے ہوئے ہیں۔ بی جے پی چاہتی ہیکہ ان میں اس حدتک نرمی پیدا کی جائے کہ یہ کسی کام کے نہ رہیں۔ اگر تحفظات اور دستور محفوظ نہیں ہیں تو بہوجن عوام کے حقوق کا تحفظ کیسے کیا جاسکتا ہے۔ ایس سی ایس ٹی برادری ملک کی سب سے بڑی برادری ہے۔ اس کے باوجود اس کو مساوی مقام نہیں دیا جاتا۔ پھولے نے بعض نام لئے جیسے اومابھارتی، ادت راج، انوپریا پٹیل، آر ایل ایس پی قائد وغیرہ وغیرہ۔ لوک سبھا انتخابات کیلئے الٹی گنتی کا آغاز ہوگیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی یوپی کی بی جے پی میں گڑبڑ کے آثار نظرآرہے ہیں۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ ساوتری بائی پھولے نے مودی حکومت پر تیر چلاتے ہوئے پارٹی قائدین پر الزام عائد کیا کہ وہ دستورہند کے ساتھ کھلواڑ کررہے ہیں اور بی جے پی تحفظات کے خاتمہ پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس مسئلہ پر آئندہ ماہ وہ ایک احتجاجی جلوس نموبدھائی جن سیوا سمیتی کے پرچم تلے نکالیں گی۔ یہ جلوس دیگر پسماندہ طبقات، اقلیتوں، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کے مسائل پر غور کرے گا۔ بعض اوقات کہا جاتا ہیکہ ہمیں دستور کو تبدیل کرنا چاہئے اور بعض اوقات تحفظات پالیسی ختم کرنے کے مطالبے ہوتے ہیں۔ بہرائچ لوک سبھا نشست کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرنے والی مس پھولے نے واضح کردیا کہ وہ تحفظات کی جنگ کی تائید سے دستبردار نہیں ہوں گی اور دیگر پارٹیوں یا افراد سے جو ان کے موقف کی تائید کریں گے، اتحاد کریں گی۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس کی پالیسیوں میں درج فہرست ذاتوں اور قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے عوام کو زبردست جھٹکا دیا ہے۔ تاہم یوپی بی جے پی نے رکن پارلیمنٹ کے الزامات پر ردعمل ظاہر کرنے سے انکار کردیا جبکہ مس پھولے پارٹی قیادت کی مخالفت کا پختہ عہد کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یوپی کے وزیر اوم پرکاش راج بھر کا تذکرہ کیا جنہوں نے ریاستی حکومت پر دیگر پسماندہ طبقات اور دلتوں کے مفادات کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ ان کی ملاقات دہلی میں صدر بی جے پی امیت شاہ سے راجیہ سبھا انتخابات سے قبل ہوئی تھی اور انہوں نے یوگی حکومت کے خلاف زہر اگلا تھا۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ کتے نہیں شیر ببر ہیں۔ وہ اس انداز کو سختی سے مسترد کرتے ہیں جس میں ارکان اسمبلی کے گھروں پر دھاوے کئے جارہے ہیں اور راجیہ سبھا کے دو سالہ انتخابات کے دوران راست ووٹنگ ہورہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT