Wednesday , December 19 2018

مودی حکومت میں معیشت تہس نہس:منموہن سنگھ

نئی دہلی 18 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے آج مودی حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اس نے معیشت کو تہس نہس کردیا ہے ‘ اس حکومت نے جموں وکشمیر مسئلہ سے ٹھیک طرح سے نہیں نمٹا ہے ۔ وہ عوام کو دو کروڑ روزگار فراہم کرنے اور زرعی آمدنی کو دوگنی کرنے کیلئے صرف جملے بازی میں مصروف ہے ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کانگریس کے 84 ویں پلینری سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے بی جے پی زیر قیادت حکومت پر جموں و کشمیر تنازعہ سے ٹھیک طرح سے نہ نمٹنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ حکومت حکومت کی جانب سے ڈھائی جنگیں لڑنے کا دعوہ بھی کھوکھلا ہے ۔ ڈاکٹر سنگھ نے خارجہ پالیسی سے دفاع تک ‘ معیشت اور دیگر کئی مسائل پر اپنی تقریر میں ریمارکس کئے اور پلینری میں شریک قائدین نے ان کا خیر مقدم کیا ۔ کئی قائدین نے کھڑے ہوکر ان کے ریمارکس کی ستائش کی ۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے تنقید کی کہ مودی حکومت نے جملہ گھریلو پیداوار کا صرف 1.6 فیصد حصہ ہی دفاع پر خرچ کیا ہے جبکہ اس سے ان چیلنجس سے نمٹنا ممکن نہیں ہوسکتا جو سکیوریٹی کیلئے درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی کئی مسائل ہیں جن سے مودی حکومت نے غلط انداز میں نمٹا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے دو شعبے ایک دوسرے کے خلاف کام کر رہے ہیں اور اس سے ماحول ہردن بگڑتا جا رہا ہے ۔ یہ بات اس حقیقت سے واضح ہے کہ ہماری سرحدات محفوظ نہیں ہیں۔ چاہے وہ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی ہو یا پھر داخلی دہشت گردی ہو ‘ داخلی تخریب کاری ہو آج ایسے مسائل ہیں جو تمام شہریوں کو فکرمند کرنے کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کا خیال یہ ہے کہ یہ مسائل اپنے آپ حل ہوسکتے ہیں جبکہ ایسا ہو نہیں سکتا ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے انہوں نے کہا کہ ملک کو ریاست کے خصوصی مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور ان مسائل سے پوری سنجیدگی کے ساتھ نمٹا جانا چاہئے ۔

انہوں نے پاکستان کے تعلق سے کہا کہ ہندوستان کو یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ یہ ہمارا پڑوسی ملک ہے لیکن اس بات پر بھی تشویش ظاہر کرنی چاہئے کہ پاکستان مسلسل سرحد پار سے دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے ۔ یہ بات ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتی ۔ ہمیں پاکستان کو خبردار کرنا چاہئے کہ یہ وہ راستہ ہے جو باہمی امن اور خوشحالی کو تباہ کرسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ دونوں ممالک مل بیٹھ کر مسائل کو حل کرنے میں ہندوستان سے زیادہ فائدہ پاکستان کا ہے ۔ ایسے میں اسے دہشت گردوں کی مدد کا راستہ ترک کردینا چاہئے ۔ معیشت کے تعلق سے انہوں نے ادعا کیا کہ یو پی اے دور میں معیشت نے 7.8 فیصد کی شرح سے ترقی کی تھی جبکہ دنیا بھر میں ترقی کی شرح صرف 2.8 فیصد تھی ۔ ہندوستانی معیشت نے خود کو دنیا کی معیشت سے دوگنی بنالیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت معیشت کو گنجلک اور پیچیدہ کرکے رکھ دیا ہے ۔ جب نریند رمودی انتخابی مہم چلاتے ہیں وہ کئی وعدے کرتے ہیں لیکن ان کو پورا نہیں کیا جاتا ۔ بی جے پی نے 2014 میں وعدہ کیا تھا کہ اقتدار ملنے پر ہر سال دو کروڑ لوگوں کو روزگار دیدیا جائیگا تاہم اب تک دو لاکھ روزگار تک نہیں دئے گئے ۔ نوٹ بندی کے غلط فیصلے اور جی ایس ٹی پر جلد بازی سے کئی روزگار تباہ ہوگئے اور چھوٹی و اوسط صنعتوں کیلئے مسائل پیدا ہوئے ۔ ان شعبوں میں بھی روزگار متاثر ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT