Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / مودی حکومت میں ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور دستور کو خطرہ

مودی حکومت میں ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور دستور کو خطرہ

نئی دہلی میں اتوار 30 جولائی کو بڑے پیمانے پر قومی کنونشن ، ڈاکٹر منظور عالم کا خطاب
حیدرآباد ۔ 12 ۔ جولائی : ( دکن نیوز ) : ہندوستان جسے سونے کی چڑیا سے تعبیر کیا جاتا ہے اس ملک کو انگریزی سامراجیت اور ان کی غلامی سے چھٹکارا دلانے کے لیے مسلم ، سکھ ، عیسائی کے ساتھ ہندوؤں نے بھی کاندھے سے کاندھا ملا کر جنگ آزادی میں شامل ہوئے اور اپنی جان و مال کی قیمت ادا کی ۔ جب یہ ملک آزاد ہوا تو تمام طبقات کو مساویانہ حقوق ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا میں رہنے ، اپنے اپنے دین و مذاہب پر آزادانہ عمل پیرا و تعلیم اور دیگر امور کے لیے ایک جامع دستور ملک کے شہریوں کے لیے پیش کیا گیا جسے ملک کی ساری اقوام نے قبول بھی کیا ۔ اس وقت دستور ہند کے دیباچہ میں چار بنیادی امور کو اہمیت دی گئی کہ اس کی حفاظت ، اس پر آنچ نہ آنے دیا جائے لیکن مگر موجودہ اور دستور کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک کے باشندوں کی عزت و آبرو کے ساتھ کھلواڑ کررہا ہے جس سے نقصان زیادہ تر مسلم اقلیت کو ہی ہوا ہے ۔ اس کو دیکھتے ہوئے اقلیتیں ہی نہیں بلکہ اکثریتی طبقہ کے لوگ بھی دستور ہند کے وقار پر آنچ نہ آنے دینے کے لیے بے تاب و بے چین ہیں ۔ اگر اس ملک کو دستور نہیں دیا جاتا تو حالات اس سے زیادہ مزید بگڑتے ، جس نے ملک سے محبت کا دعویٰ کیا ہے اسے دستور سے بھی محبت کرنی چاہئے اگر دستور کی مسلسل خلاف ورزی ہوتی رہے گی تو یہ ہاتھ سے نکل جائے گا ۔ اور اس بات کا قوی امکان بھی نظر آتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر منظور عالم جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل دہلی نے قرآن فاونڈیشن سنٹر ین ایم ڈی سی مانصاحب ٹینک میں آل انڈیا ملی کونسل تلنگانہ و آندھرا پردیش کے زیر اہتمام جلسہ سے کیا ۔ ڈاکٹر منظور عالم نے ’ موجودہ صورت حال میں دستور بچاؤ ملک بچاؤ ‘ کے عنوان پر مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ جس ملک میں اپنی زندگی گذار رہے ہیں شعور و آگہی ، ہوش و حواس و فراست کے ساتھ گذارنی چاہئے کہیں ایسا نہ ہو کہ باطل و فرقہ پرست طاقتیں جو ملک کا اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں وہ مسلمانوں کو ہر نہج پر مزید نقصان پہنچائے جس کے لیے ہمیں ملک کے دستور سے آگہی ضروری ہے ۔ اس خصوص میں انہوں نے مسلمانان ہند کو دعوت دی کہ ملک میں مودی حکومت کے اقتدار کے بعد روا داری ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، تحمل و برداشت کے خلاف ایک تشویشناک فضا تیار ہوچکی ہے ۔ جو دستور ہند کے منافی ہے جس سے دستور کو خطرہ لاحق ہے ۔ اس لیے آل انڈیا ملی کونسل دہلی نے فیصلہ کیا کہ اتوار 30 جولائی 2017 کو بڑے پیمانے پر ’ قومی کنونشن ‘ ملک کے مرکزی شہر دہلی کے تال کٹورا انڈور اسٹیڈیم میں رکھا جائے جس میں مختلف مذاہب کے پیشوا ، دانشور ، قومی ، ملی ، فلاحی تنظیموں ، جماعتوں کے نمائندوں و شخصیات کے علاوہ جمہوری و آئینی اقدار اور انسانی حقوق کے لیے مسلسل جنگ لڑنے والوں کو مدعو کرتے ہوئے متحدہ احتجاج بلند کیا جائے تاکہ ایک لائحہ عمل کے ذریعہ ایسا عملی منصوبہ بنایا جائے جس سے ملک کے دستور کا ہر حال میں تحفظ فراہم ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی عوام اور مسلمانوں کا عدلیہ پر بھرپور بھروسہ ہے اور قانون کی حفاظت اور اسے مدون کرنے میں مسلمانوں نے اہم کردار ادا کیا اور اس کی حفاظت اور بچانے کے لیے قربانی دینے تیار ہیں ۔ انہوں نے ملک میں ٹاڈا اور دیگر قوانین پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ بی جے پی گاؤ رکھشک کے ذریعہ حالات کو مزید بگاڑنے کے درپے ہے ۔ حالانکہ گاؤ ذبیحہ کے ذریعہ مسلمانوں کی روٹی روزی ہے وہیں ملک کا مالیہ بھی مستحکم ہورہا ہے ۔ ابتداء میں جناب حیدر محی الدین غوری نے خیر مقدم کیا ۔ انہوں نے ریاست میں آل انڈیا ملی کونسل کی سرگرمی پر روشنی ڈالی ۔ حافظ و قاری منظور عالم کی قرات سے پروگرام کا آغاز ہوا ۔ اس جلسہ میں مولانا راشد نسیم ندوی ، اقبال احمد انجینئر ، مولانا فہیم ندوی ، مولانا فخر الدین ندوی ، جناب عثمان شہید ، ڈاکٹر فخر الدین ( میسکو ) ، ضیا الدین نیر ، علماء کرام ، اور آل انڈیا ملی کونسل تلنگانہ و آندھرا کے ذمہ دار اور دوسرے موجود تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT