Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مودی حکومت میں ہر طبقہ کی ترقی کے لیے اقدامات

مودی حکومت میں ہر طبقہ کی ترقی کے لیے اقدامات

مسلمانوں سے بی جے پی میں شمولیت کی خواہش ، صدر تلنگانہ بی جے پی ڈاکٹر لکشمن کی دعوت افطار
حیدرآباد ۔ 24 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت ’ سب کا ساتھ ، سب کا وکاس ‘ پروگرام کے ذریعہ ہر طبقہ کی ترقی کے لیے کوشاں ہے ۔ بلکہ تمام طبقات کی یکساں ترقی کے لیے اقدامات کررہی ہے ۔ آج یہاں کنگ کوٹھی کے پاس واقع روبی گارڈن میں صدر تلنگانہ بی جے پی ڈاکٹر کے لکشمن کی جانب سے منعقدہ دعوت افطار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر محنت و روزگار مسٹر بنڈارو دتاتریہ نے مذکورہ بات کہی اور بتایا کہ مذہب اسلام مل جل کر اتحاد و بھائی چارگی کے ساتھ رہنے کا درس دیتا ہے ۔ انہوں نے ماہ رمضان المبارک میں مسلم بھائیوں کے روزہ رکھنے و عبادت کرنے میں مصروف رہنے پر اپنی مسرت کا اظہار کیا اور عید الفطر کی پیشگی مبارکباد دی ۔ صدر تلنگانہ بی جے پی ڈاکٹر کے لکشمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی ملک کی ترقی کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں اور ہر طبقہ کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جارہی ہے ۔ انہوں نے مسلمانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ شامل ہوں اور اپنی ترقی کو یقینی بنائیں ۔ جناب طارق قادری نے بھی بعض مسائل پر توجہ دلاتے ہوئے ماہ رمضان المبارک کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی اور دعا کی ۔ جناب شجاعت علی شجیع نے کہا کہ بی جے پی کی جانب سے گذشتہ کئی عرصہ سے افطار پارٹی کا اہتمام ہوتا ہے اور یہ بہت ہی خوش آئند بات ضرور ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے لیے 12 فیصد تحفظات کی مخالفت نہ کر کے تائید و حمایت کی جاتی تو بہت ہی اچھی بات ہوگی ۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ 12 فیصد تحفظات کی بھی بی جے پی تائید ضرور کرے گی ۔ افطار پارٹی میں رامچندر راؤ ایم ایل سی و صدر سٹی بی جے پی سی ایچ سامبا مورتی جنرل سکریٹری بی جے پی جی کشن ریڈی فلور لیڈر بی جے پی ، افسر پاشاہ صدر ریاستی بی جے پی اقلیتی مورچہ ، لائق علی بی جے پی قومی اقلیتی قائد ، بدم بال ریڈی سابق رکن اسمبلی ، محترمہ سراج النساء ، علی بن سعید الگتمی تلگو دیشم قائد ، علی رضا سماجی جہد کار ، حنیف علی سینئیر بی جے پی قائد کے علاوہ دیگر بی جے پی اور اقلیتی مورچہ قائدین بھی شریک تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT