Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / مودی حکومت نوٹ بندی کے مقاصد میں مکمل ناکام

مودی حکومت نوٹ بندی کے مقاصد میں مکمل ناکام

کرپشن، کالا دھن اور دہشت گردی میں غیرمعمولی اضافہ:سیتا رام یچوری
نئی دہلی۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سی پی آئی ایم نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر نوٹ بندی کے مقاصد کے حصول میں پوری طرح ناکام ہوجانے کا الزام عائد کیا کیونکہ کرپشن، کالا دھن اور دہشت گردی میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال8 نومبر کو نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے کرپشن، کالا دھن، دہشت گردی اور جعلی کرنسی سے نمٹا جاسکے گا۔ بائیں بازو جماعت نے یہ جاننا چاہا کہ حکومت اس بات کا انکشاف کیوں نہیں کررہی ہے کہ اب تک بینکنگ سسٹم کیلئے کس قدر رقم ادا کی گئی۔ پارٹی کے جنرل سیکریٹری سیتا رام یچوری نے ٹوئٹ کیا کہ نوٹ بندی کے چھ ماہ بعد بھی کرپشن، کالا دھن اور دہشت گردی عروج پر ہے۔ مودی نے ان تینوں کے خاتمہ کا دعویٰ کیا تھا کہ لیکن اس میں اتنی ہی تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ 6 ماہ گذرنے کے باوجود پرانی کرنسی کے بدلے حکومت نے نئی کرنسی مارکٹ میں کس قدر پیش کی، یہ تفصیلات نہیں بتائی جارہی ہے۔ جعلی کرنسی کو کہیں قانونی شکل تو نہیں دی گئی؟ یچوری نے الزام عائد کیا کہ مرکز نے بھاری بینک قرض دہندگان کو چھوڑ دیا۔ ان کا اشارہ غیرکارکرد اثاثہ جات کے قیام کی طرف تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی غیررسمی معیشت کو نوٹوں کی تنسیخ کے ذریعہ تباہ و تاراج کیا گیا حالانکہ ملک کی آبادی کا دوتہائی سے زائد حصہ کا اسی معیشت پر انحصار ہے اور یہ معیشت کے جی ڈی پی کا نصف سے بھی زیادہ ہے۔ یچوری نے بی جے پی کے ہر سال ایک کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے انتخابی وعدہ کا بھی مضحکہ اڑایا اور کہا کہ یہ صرف عوام کو رجھانے کا حربہ تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ روزگار کے مواقع اور بھی کم ہوگئے اور ملازمتوں کی تعداد انحطاط پذیر ہے۔

دہلی اسمبلی میں ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کا عملی مظاہرہ
نئی دہلی۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی نے آج دہلی اسمبلی میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ساتھ مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ کا ’’عملی مظاہرہ‘‘ کیا۔ پارٹی رکن اسمبلی سوربھ بھردواج نے دعویٰ کیا کہ کوئی بھی شخص جسے ’’خفیہ کوڈ‘‘ معلوم ہو ، وہ ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرسکتا ہے اور یہ خفیہ کوڈ رائے دہی کے وقت مشین میں سیٹ کیا جاسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس الزام کو پھر ایک بار مسترد کردیا۔

TOPPOPULARRECENT