Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / مودی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد چوتھے دن بھی پیش نہیں کی جاسکی

مودی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد چوتھے دن بھی پیش نہیں کی جاسکی

لوک سبھا میں ٹی آر ایس اور انا ڈی ایم کے ارکان کی ہنگامہ آرائی، راجیہ سبھا کا اجلاس آغاز کے چارمنٹ بعد ہی ملتوی

نئی دہلی ۔ 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کی کارروائی لگاتار 13 ویں دن بھی ارکان کے ہنگامہآرائی کی نذر ہوگئی۔ انا ڈی ایم کے اور ٹی آر ایس جیسی چند جماعتوں نے لوک سبھا میں شوروغل کا سلسلہ جاری رکھا جس کے نتیجہ میں نریندر مودی حکومت کے خلاف تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس کی تحریک عدم اعتماد سے متعلق نوٹسیں غور کیلئے قبول نہیں کی جاسکی۔ راجیہ سبھا کا اجلاس آج کسی کارروائی کے بغیر اپنے آغاز کے بمشکل چار منٹ بعد دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ لوک سبھا کا اجلاس بھی آندھراپردیش، تلنگانہ اور ٹاملناڈو کی جماعتوں کے ارکان کے احتجاج و نعرہ بازی کے سبب پہلے دوپہر تک اور بعد میں دن بھر کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ راجیہ سبھا کے صدرنشین وینکیا نائیڈو نے کارروائی کے آغاز کے چارمنٹ ہی اجلاس کو دن بھر کیلئے ملتوی کردیا۔ جب کانگریس کے رکن کے وی پی رامچندر راؤ اور تلگودیشم کے ارکان آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کا موقف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے تھے۔ مقررہ مصروفیات کا ایجنڈہ پیش کرتے ہی ٹاملناڈو کی جماعتیں ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے کے ارکان اپنی ریاست اور کرناٹک کے مابین پانی کی تقسیم کیلئے کاویری آبی انتظامی بورڈ کی فوری تشکیل کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے تھے اور کانگریس کے ارکان بھی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ قائد اپوزیشن اور کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد درج فہرست طبقات وقبائل پر مظالم کے علاوہ عراق میں مغویہ 39 ہندوستانیوں کی ہلاکت سے متعلق وزیرخارجہ سشماسوراج کے بیان پر بحث کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کو سشماسوراج کی طرف سے گذشتہ سال دیئے گئے بیان اور کل کے بیان پربحث کرنے کی ضرورت ہے۔ ایوان کے صدرنشین وینکیا نائیڈو نے انہیں باضابطہ درخواست پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ارکان سے ایوان چلانے کی اجازت دینے کی خواہش کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ سب کیا ہورہا ہے۔ ہم کافی بے بس ہوگئے ہیں۔ آپ سب اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں اور مسائل اٹھائیں‘‘۔ وینکیا نائیڈو نے برہمی کے ساتھ سوال کیا کہ آیا ارکان چاہتے ہیں کہ قوم اس ایوان کی کارروائی کے درہم برہم ہونے سے متعلق تصاویر دیکھیں۔ ’’یہ پارلیمنٹ ہے یا کچھ اور؟… معاف کیجئے ایسا طریقہ کار اختیار نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ بعدازاں انہوں نے دن بھر کیلئے کارروائی ملتوی کردی۔ یہ لگاتار تیسرا دن تھا کہ نائیڈو نے ایوان میں ارکان کے جمع ہونے کے چند منٹ بعد ہی کارروائی ملتوی کی ہے۔ واضح رہیکہ پارلیمانی بجٹ سیشن کے پہلے مرحلے کی تکمیل پر ایک ماہ طویل تعطیلات کے بعد 5 مارچ سے شروع ہونے والے دوسرے مرحلے میں دونوں ایوانوں میں ایک دن بھی کارروائی نہیں چلائی جاسکی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT