Friday , April 20 2018
Home / Top Stories / مودی حکومت کیخلاف تلگودیشم کی تحریک اعتماد کو عام آدمی پارٹی کی تائید

مودی حکومت کیخلاف تلگودیشم کی تحریک اعتماد کو عام آدمی پارٹی کی تائید

چندرا بابو کی کجریوال سے ملاقات، اے پی کے خصوصی موقف اور دیگر مسائل پر تبادلہ خیال

آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے مرکز کے خلاف اپنی پارٹی تلگودیشم کی طرف سے پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر حصول تائید کیلئے جاری کوششوں کے ایک حصہ کے طور پر آج یہاں دہلی کے اپنے ہم منصب اروند کجریوال سے ملاقات کی۔ دونوں قائدین نے آندھراپردیش کو خصوصی موقف دینے سے متعلق مرکز کے وعدہ پر تبادلہ خیال کیا۔ تلگودیشم پارٹی کے رکن راجیہ سبھا سی رمیش نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’دہلی کے چیف منسٹر نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں وہ اپنے ارکان کے ذریعہ تلگودیشم پارٹی کی تائید کریں گے‘‘۔ چندرا بابو نے 2014ء کے آندھراپردیش تنظیم جدید قانون میں کئے گئے وعدہ کے مطابق اپنی ریاست کو خصوصی موقف اور مرکز کی طرف سے اس ضمن میں مبینہ ناانصافی اور دیگر مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ آندھراپردیش کو خصوصی موقف دینے سے مرکز کی طرف سے معذوری کے اظہار کے بعد تلگودیشم پارٹی مرکز میں بی جے پی کی زیرقیادت حکمراں این ڈی اے سے علحدگی اختیار کرلی تھی اور اس مسئلہ پر نریندر مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی۔ سمجھا جاتا ہیکہ نائیڈو نے مرکز کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر عام آدمی پارٹی (عاپ) سے تائید طلب کی ہے۔ لوک سبھا میں عاپ کے چار ارکان ہیں۔ آندھراپردیش کے چیف منسٹر نے جو گذشتہ روز یہاں پہنچے تھے مقصد پر مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بھی ملاقات کرچکے ہیں۔ انہوں نے گذشتہ روز کانگریس، سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، انا ڈی ایم کے، ڈی ایم کے اور شیوسینا کے قائدین سے ملاقات کی تھی، جس کا مقصد مرکز کے خلاف ان کی تحریک عدم اعتماد پر تائید حاصل کرنا تھا۔ نائیڈو نے کانگریس کے ویرپاموئیلی، این سی پی کے شردپوار، نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ کے علاوہ ترنمول کانگریس کے سدیپ بندھوپادھیائے، اپنادل کی انوپریہ پاٹل اور سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو سے بھی اس مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT