Wednesday , July 18 2018
Home / سیاسیات / مودی حکومت کیخلاف تلگودیشم کی تحریک عدم اعتماد، کانگریس کی تائید

مودی حکومت کیخلاف تلگودیشم کی تحریک عدم اعتماد، کانگریس کی تائید

جگن کی بی جے پی سے ساز باز ‘ ٹی نرسمہم کا الزام، وائی ایس آر کانگریس کی تحریک عدم اعتماد پر اعتماد نہیں، حکومت کو اکثریت حاصل، وزیر پارلیمانی اُمور

نئی دہلی 16 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مرکز میں بی جے پی کے زیرقیادت برسر اقتدار این ڈی اے کو آج اُس وقت دوہرا دھکا لگا جب دیرینہ حلیف علاقائی جماعت تلگودیشم پارٹی نے محاذ سے علیحدگی کیلئے اپنے صدر چندرابابو نائیڈو کی طرف سے امراوتی میں کئے گئے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی لوک سبھا میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردیا جس کے فوری بعد اپوزیشن کانگریس، بائیں بازو کی جماعتوں، انا ڈی ایم کے اور چند دوسری جماعتوں نے تلگودیشم ۔ وائی ایس آر کانگریس کی تحریک عدم اعتماد کی تائید کا اعلان کردیا۔ ترنمول کانگریس اور بی جے پی کی ایک اور حلیف شیوسینا بھی اس کی تائید کرسکتی ہے۔ تاہم حکومت نے اعتماد کا اظہار کیاکہ اس بحران کا مقابلہ کرتے ہوئے باہر نکلنے کیلئے اس کے پاس ارکان کی درکار تعداد موجود ہے۔ بی جے پی نے این ڈی اے سے علیحدگی کیلئے آندھراپردیش کی حکمراں جماعت کے فیصلہ کو ناگزیر قرار دیا اور الزام عائد کیاکہ مرکز کے خلاف شروع کردہ حالیہ شرانگیز پروپگنڈہ کے بعد اس فیصلہ پر کسی کو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ بی جے پی نے تاہم دعویٰ کیاکہ اس صورتحال سے اُس کو آندھراپردیش میں اُبھرنے اور آئندہ سال کے عام انتخابات میں تنہا مقابلہ کرنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں جہاں دونوں علاقائی جماعتیں تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس اس کی مخالف ہیں۔ اس ریاست میں برسر اقتدار تلگودیشم پارٹی نے گزشتہ روز وائی ایس آر کانگریس کی طرف سے مرکز کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد کی تائید کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن آج کہاکہ وہ اس تائید سے دستبردار ہورہی ہے کیوں کہ اس کو بی جے پی اور وائی ایس آر کانگریس کے درمیان سازش و ساز باز کا شبہ ہورہا ہے۔ وائی ایس آر کانگریس کی تحریک عدم اعتماد زیرتصفیہ ہے۔ آندھراپردیش کو خصوصی ریاست کا موقف دینے سے مرکز کے انکار کے بعد تلگودیشم کے دو وزراء نریندر مودی کابینہ سے پہلے ہی مستعفی ہوچکے ہیں۔ لوک سبھا میں تلگودیشم پارٹی کے فلور لیڈر تھوٹا نرسمہم نے کہاکہ ’’ہم اُصولوں کے مطابق پیشرفت کریں گے۔ ہمارے قائد محسوس کرتے ہیں کہ این ڈی اے کا حصہ رہتے ہوئے اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنا غیر اخلاقی ہوسکتا تھا چنانچہ ہم این ڈی اے کی تائید سے دستبردار ہوئے ہیں۔

مَیں آج صبح 9.30 بجے اسپیکر کو تحریک عدم اعتماد کا مکتوب پیش کرچکا ہوں‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ اتحاد سے باہر نکلنے اس پارٹی (تلگودیشم) کے فیصلے کے بارے میں بی جے پی قائدین کو مکتوب پہونچ جائیں گے۔ تھوٹانرنرسمہم کی جماعت کے ساتھی رکن رمیش نے دعویٰ کیاکہ وائی ایس آر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ وجئے سائی ریڈی کو وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی کوششوں میں مصروف دیکھا گیا اور یہ دراصل ان دونوں جماعتوں کے درمیان خفیہ ساز باز کا اشارہ ہے۔ رمیش نے کہاکہ ’’ہمیں ان (وائی ایس آر کانگریس) کی تحریک عدم اعتماد پر کوئی اعتماد نہیں ہے۔ چنانچہ ہم نے اپنے طور پر بھی یہ تحریک پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رمیش نے مزید کہاکہ ’’وقت کی کمی کے سبب آج اگر یہ نہیں کیا گیا تو پیر کو ہم مختلف جماعتوں کے 54 ارکان پارلیمنٹ کی دستخطیں حاصل کریں گے اور پوری طاقت کے ساتھ تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی‘‘۔ تحریک عدم اعتماد کو صرف اسی صورت میں قبول کیا جاتا ہے جب اس کو ایوان کے کم سے کم 50 ارکان کی تائید حاصل رہتی ہے۔ لوک سبھا میں تلگودیشم کے 16 اور وائی ایس آر کانگریس کے 9 ارکان ہیں۔ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف اس تحریک کی تائید کے لئے وہ تیار ہیں۔ سی پی آئی (ایم) کے محمد سلیم نے کہاکہ ’’آندھراپردیش کی جماعتیں جب لوک سبھا میں تحریک عدم اعتماد پیش کریں گے تو ہم اس کی تائید کریں گے‘‘۔ کانگریس کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے کہاکہ ان کی پارٹی بھی اس تحریک کی تائید کرے گی

لیکن انھوں نے کہاکہ دونوں علاقائی جماعتوں کو اس مسئلہ پر سیاسی کھیل نہیں کھیلنا چاہئے۔ ایک ایسے وقت جب اپوزیشن جماعتیں، حکومت کے خلاف تحریک پر ارکان کی تعداد گننے میں مصروف ہیں، وزیر پارلیمانی اُمور اننت کمار نے کہاکہ مودی پر سارے ایوان کی طرح سارے ملک کو پورا اعتماد ہے۔ اننت کمار نے کہاکہ ’’حکومت کے پاس ارکان کی درکار تعداد موجود ہے اور ہم کسی بھی وقت کسی بھی تحریک کا سامنا کرنے تیار ہیں‘‘۔ 536 رکن لوک سبھا میں تنہا بی جے پی کے ارکان کی تعداد ہی 274 ہے۔ علاوہ ازیں اس کو حلیفوں کی تائید بھی حاصل ہے۔ تحریک عدم اعتماد اگر قبول کی جاتی ہے تو اس کو شکست ہوگی لیکن اس سے آندھراپردیش میں زعفرانی جماعت یقینا سخت مشکلات سے دوچار ہوجائے گی۔ بی جے پی کے ترجمان بی وی ایل نرسمہا راؤ نے تلگودیشم پارٹی پر الزام عائد کیاکہ وہ اپنی نااہلی اور غیر کارکرد حکمرانی پردہ پوشی کے لئے جھوٹ پر اُتر آئی ہے۔ انھوں نے کہاکہ مرکز کے خلاف شرانگیز پروپگنڈہ پر اُتر آنے کے بعد مودی حکومت کی تائید سے اس کی دستبرداری کا فیصلہ ناگزیر تھا۔ تلگودیشم پارٹی کے صدر اور آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرابابو نائیڈو سے آج صبح ٹیلی کانفرنس کے بعد تلگودیشم پارٹی کے پولٹ بیورو نے یہ متفقہ فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT