Sunday , November 19 2017
Home / مضامین / مودی حکومت کے تین سال کیا واقعی کوئی کامیابی ملی ہے ؟

مودی حکومت کے تین سال کیا واقعی کوئی کامیابی ملی ہے ؟

خلیل قادری
مرکز میں نریندر مودی حکومت نے اپنے اقتدار کے تین سال مکمل کرلئے ہیں۔ اس حکومت نے اپنے قیام کے ساتھ ہی بلند بانگ
دعوے کئے تھے ۔ اس حکومت نے ملک کا نقشہ بدلنے کی بات کہی تھی ۔ یہ نعرہ دیا تھا کہ اچھے دن لائے جائیں گے ۔ یہ وعدہ کیا تھا کہ سب کو ساتھ لے کر ان کی ترقی کیلئے کام کیا جائے گا ۔ یہ تیقن عوام کو دیا گیا تھا کہ ملک کی جانب بری نظروں سے دیکھنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائیگا اور انہیں سبق سکھایا جائے گا ۔ ملک کے ہر شہری کے اکاونٹ میں لاکھوں روپئے جمع کروائے جائیں گے ۔ غریبوں کی زندگیوں کو بدل دیا جائیگا ۔ ان کو ہر طرح کی سہولت دی جائے گی ۔ تشدد اور انتہا پسند کو برداشت نہیں کیا جائیگا ۔ آج اس حکومت نے اپنی معیاد کے تین سال پورے کرلئے ہیں۔ یعنی حکومت کی معیاد کا ایک بڑا حصہ گذر چکا ہے لیکن اگر ہم غیرجانبداری کے ساتھ حالات کا جائزہ لیں تو یہ واضح ہوجائیگا کہ حکومت کے اعلانات ‘ وعدے ‘ تیقنات وغیرہ دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور ان وعدوں ‘ تیقنات اور اعلانات کو عملی شکل دینے کیلئے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے ۔ ہر سال دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا اہم ترین وعدہ کیا گیا تھا لیکن یہ حقیقت ہے کہ تین سال میں ایک کروڑ روزگار بھی فراہم نہیں کئے گئے ہیں۔ عوام کو محض ایک منظر پیش کرتے ہوئے مطمئن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس ملک کے ساتھ اور ملک کے عوام کے ساتھ سب کچھ اچھا ہو رہا ہے ۔ یہی منظرکشی تھی جس کے اثر سے لوگ نوٹ بندی کے بعد کے حالات کو سہہ گئے لیکن حکومت کے تئیں ان کی سوچ ابھی بدلی نہںے ہے ۔ یہ ضرور ہے کہ ابھی لوگ حکومت کے وعدوں ‘ اعلانات اور تیقنات کی جانب زیادہ توجہ نہیں دے رہے ہیں لیکن جب ان کا صبر ختم ہوجائیگا یا پھر حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا منظر دھندلا جائیگا تو پھر ملک کے عوام اس حکومت سے اس کے ہر وعدے ‘ ہر اعلان اور ہر تیقن پر سوال کرنے لگیں گے اور یہ ایسی صورتحال ہوگی جس سے نمٹنا حکومت یا اس کے نمائندوں کیلئے آسان نہیں ہوگا ۔ اس حقیقت کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ عوام کو زیادہ وقت تک محض دلکش نقشوں سے یا پھر میٹھے بول سے بہلایا نہیں جاسکتا ۔ اس طرح کی کوششوں میں یقینی طور پر ایک کشش اور ایک اثر ہوتا ہے لیکن اس کو زیادہ دیر تک قائم نہیں رکھا جاسکتا ۔ ضرورت یہ ہوتی ہے کہ جو وعدے اور اعلانات کئے گئے تھے اور جو تیقنات دئے گئے تھے ان کو پورا کرنے کی کوششیں کی جائیں ۔ تاہم موجودہ مودی حکومت اس جانب توجہ دینے ہی کو تیار نہیں ہے بلکہ وہ محض ہتھیلی میں جنت دکھاتے ہوئے اپنے عزائم کو پورا کرنے میں جٹ گئی ہے ۔ وہ چاہتی ہے کہ اسے آئندہ معیاد دو تہائی اکثریت کے ساتھ حاصل ہوجائے اور پھر وہ ملک کا نقشہ اور اس کا راستہ ہی بدل کر رکھ دے گی ۔ یہی وہ پہلو ہے جس پر نہ صرف ملک کے عوام کو بلکہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کام کیا جانا چاہئے کہ اس ملک کی روایات اور اس کی تہذیب اور ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوششیں کامیاب نہ ہونے پائیں۔ ایسا کرنا سب کی ذمہ داری اور فریضہ ہے ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ جب سے نریندر مودی کی قیادت میں مرکز میں بی جے پی حکومت قائم ہوئی ہے اس وقت سے ایک منظم انداز میں اپنے مخالفین اور اپوزیشن کو ختم کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ چاہے یہ کانگریس ہو یا پھر دوسری جماعتیں ہوں ۔ سبھی کو کسی نہ کسی انداز میں حکومت کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے ۔ حکومت کی حکمت عملی کا یہ اثر دیکھنے میں آ رہا ہے کہ خود حکومت کی حلیف جماعتیں بھی حکومت پر کسی بھی مسئلہ پر اثر انداز ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ ان میں اس بات کا خوف پیدا کردیا گیا ہے کہ نریندر مودی حلیفوں کے بغیر بھی حکومت قائم کرسکتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو ساتھ لئے بغیر بھی انتخابات میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ سماج کے دوسرے طبقات کے تعلق سے نفرتیں پھیلانے کے باوجود بھی کامیاب ہوسکتے ہیں۔ وہ اپنے وعدوں کو پورا کئے بغیر ‘ ملک کی حقیقی معنوں میں ترقی کو یقینی بنائے بغیر اور نوجوانوں کو حسب وعدہ روزگار فراہم کئے بغیر بھی اپنے لئے کامیابی کی راہیں ہموار کرسکتے ہیں۔ ایسے میں حلیف جماعتیں خود اپنی بقا کی فکر میں لگی ہیں اور وہ حکومت سے مخالفانہ روش اختیار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اپوزیشن کی صفوں میں اس مسئلہ پر اتحاد کا ابھی تک تو فقدان دکھائی دیتا ہے ۔ اپوزیشن کے قائدین اپنے اپنے مستقبل کے تعلق سے فکرمند ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ حکومت کو ان کی جانب متوجہ ہونے کا موقع مل جائے ۔ یہ ایسی صورتحال ہوگئی ہے جو جمہوریت کیلئے مناسب نہیں ہے ۔ اس سے عوامی جمہوریت کا عمل خطرہ میں پڑرہا ہے ۔ اس سے ہندوستان کی قدیم روایات کی پامالی ہو رہی ہے ۔ اس سے یہ اندیشے پیدا ہو رہے ہیں کہ ہم ایک قطبی نظام اور آمرانہ طرز عمل کی سمت آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ہمارے مفاد میں نہیں ہے ۔ اس صورتحال کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں ہوں یا حکومت کی حلیف جماعتیں ہوں یہ سب سیاسی مصلحت کا شکار ہوتی جا رہی ہیں اور اپوزیشن اور حلیفوں کا یہ طرز عمل حکومت کے مفاد میں ہے اور حکومت انہیں مصلحت پسندی کا موقع بھی فراہم کر رہی ہے ۔
مودی حکومت کے تین سال میں ملک کی واقعی ترقی کے کوئی اعداد و شمار عوام کے سامنے نہیں ہیں۔ ملک میں بیرونی ممالک سے کتنی سرمایہ کاری ہوئی ہے یہ بتانے والا کوئی نہیںہے ۔ حکومت کے جن بلند بانگ دعووں کے ساتھ نوٹ بندی کا اعلان کیا تھا اس کے نتائج سے آج تک ملک کو واقف نہیں کروایا گیا ہے ۔ حکومت یہ بتانے کے موقف میں نہیں ہے کہ نوٹ بندی کی وجہ سے کتنا کالا دھن باہر آیا ہے ۔ کتنے لوگوں کو ٹیکس کے ڈھانچہ کا حصہ بنایا گیا ہے ۔ کتنے سرمایہ داروں کی غیر محسوب دولت کا پتہ چلایا جاسکا ہے ۔ حکومت نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ نوٹ بندی کے حقیقی مقاصد کیا تھا اور اس کے نتائج کس حد تک حکومت کی توقع کے مطابق رہے ہیں۔ سالانہ دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ تو کیا گیا تھا لیکن آج اس وعدہ کا تذکرہ تک نہیں کیا جاتا ۔ عوام کے بینک کھاتوں میں لاکھوں روپئے جمع کروانے کے اعلان کو بی جے پی صدر امیت شاہ نے انتخابی جملہ بازی قرار دے کر ختم کرنے کی کوشش کی تھی اور اب مرکز کے بعض وزرا یہ تک کہنے لگے ہیں کہ سالانہ دو کروڑ روزگار کا وعدہ نہیں کیا گیا تھا ۔ مودی حکومت کے تین سال میں اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کردیا گیا ہے ۔ مٹھی بھر مفاد پرستوں کو ساتھ ملا کر مسلمانوں کی تائید حاصل رہنے کا کھوکھلا دعوی کیا جا رہا ہے ۔ مسلمانوںکو گائے کے تحفظ کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے ۔ گاو دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔ ان پر کسی قانون کا اطلاق نہیں کیا جاتا ۔ گائے کے نام پر ہی دلتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ انہیں مارا پیٹا جا رہا ہے ۔ حکومت عوام کی ترقی کیلئے منصوبے بنانے کی بجائے ان کی غذا کیا ہونی چاہئے اس کی فہرست مرتب کرنے میں لگی ہوئی ہے ۔ یہ بات بھی واضح نہیں ہے کہ سوچھ بھارت ابھیان کے نتائج کیا رہے ہیں۔ مودی حکومت میں جموں و کشمیر کی صورتحال سارے ملک کے سامنے ہے ۔ یہاں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ سرحدات پر امن قصہ پارینہ بن گیا ہے اور فائرنگ اور ہمارے فوجیوں کی شہادت معمول کی بات ہوگئی ہے ۔ حکومت اس پر بھی پوری توجہ نہیں دے پا رہی ہے ۔ در اصل حکومت کے پاس ملک یا قوم کی ترقی کا ایجنڈہ ہی نہیں ہے ۔ اس کے پاس ایجنڈہ ہے تو یہی کہ کس طرح سے آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی جائے ۔ اسی سمت میں ابھی سے کام کیا جا رہا ہے ۔ آج ملک میں عوام یا سیاسی حلقوں میں حکومت کے تئیں اطمینان ہو یا نہ ہو یہ ضرور ہے کہ میڈیا میں ضرور اطمینان ہے اور اپنے اطمینان اور اپنے اچھے دنوں کو میڈیا عوام کے اطمینان کے طور پر بڑی کامیابی کے ساتھ ظاہر کرنے میں مصروف ہے ۔ مودی حکومت صرف بہترین منظر کشی میں کامیاب رہی ہے اور یہی منظر کشی عوام کو ابھی تک حکومت سے سوال کرنے سے روکے ہوئے ہے ۔ اس منظر کشی میں میڈیا کا اہم رول رہا ہے اور حکومت سے زیادہ میڈیا حکومت کی مدح سرائی میں اور عوام کو ہتھیلی میں جنت دکھانے میں مصروف ہے ۔
مودی حکومت کے تین سال سے ملک یا ملک کے عوام مطمئن ہوں یا نہ ہوں لیکن میڈیا میں ہر طرف خوش حالی پھیل رہی ہے یا پیام ہی عام کیا جا رہا ہے ۔ یہ پیشہ ورانہ دیانت کے مغائر صحافت ہے اور اس سے میڈیا کی ساکھ بھی داو پر لگی ہوئی ہے ۔ حکومت تین سال میں کوئی ترقی دلانے میں کامیاب ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو لیکن اس کی اصل کامیابی میڈیا کو ساتھ ملانے کی رہی ہے اور یہی میڈیا اپنی ساکھ کو داو پر لگاتے ہوئے حکومت کی ساکھ بچانے اور اسے بہتر بنانے میں لگا ہوا ہے ۔ لیکن جب اس پرکشش تصویر اور منظرکشی کا اثر زائل ہونا شروع ہوگا تو ہندوستان کے عوام حکومت سے بھی سوال کرینگے اور میڈیا سے بھی سوال کرینگے اور اس وقت ان کی ساکھ کو بچانے والا کوئی نہیں ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT