Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / مودی حکومت کے خلاف آج تلگودیشم کی تحریک عدم اعتماد

مودی حکومت کے خلاف آج تلگودیشم کی تحریک عدم اعتماد

نائیڈو کی تحریک کو کانگریس کی تائید‘ لوک سبھا میں طوفانی بحث کا امکان ‘ ٹی آر ایس کا موقف غیر واضح ‘ جگن کے رول پر شبہات

حیدرآباد ۔18مارچ ( سیاست نیوز) وزیراعظم مودی کی حکومت کے خلاف آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرابابونائیڈو کی تلگودیشم پارٹی کی طرف سے لوک سبھامیں کل پیر کو پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کے پیش نظر سارے ملک کی نظریں انتہائی تجسس کے ساتھ قومی دارالحکومت دہلی پر مرکوز ہوگئی ہیں ۔ اس ریاست کو خصوصی موقف دینے کے مسئلہ پر چندرابابونائیڈو نے اپنی روایتی سیاسی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اچانک اپنی پارٹی کی طرف سے یہ تحریک پیش کرنے کا اعلان کیا جس کے ساتھ انہوں نے تحریک کی پیشکشی سے پہلے ایک تیر سے کئی شکار کرتے ہیں جس میں وزیراعظم نریندر مودی اور علاقائی حریف وائی ایس جگن موہن ریڈی سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شکار ثابت ہوئے ہیں ۔ اصل اپوزیشن جماعت کانگریس نے کوئی مواقع گنوائے بغیر حکومت کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کی بھرپور تائید کا اعلان کرتے ہوئے اس سیاسی ڈرامہ کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے ۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی اگرچہ تحریک عدم پیش کرنے کا پہلے اعلان کرنے کے باوجود تلگودیشم کے پیچھے چلی گئی ہے کیونکہ تلگودیشم میں اصل محرک کی حیثیت سے ابھر چکی ہے ۔ لوک سبھا میں کل کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی اسپیکر سمترا مہاجن اس تحریک کی پیشکشی کا اعلان کریں گی اگرچہ بینک اسکام اور دیگر اہم مسائل پر اپوزیشن کے شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے سبب پیدا شدہ تعطل کے ختم ہونے کے کوئی آثار پیدا نہیں ہوئے ہیں ۔ ٹی آر ایس اور انا ڈی ایم کے جو مختلف مسائل پر ایوان میں حکومت سے تعاون کرتی رہی ہیں ہنوز یہ واضح نہیں کی ہیں کہ کل کیا موقف اختیار کریں گی ۔ یہ دونوں جماعتیں مختلف مسائل پر احتجاج بھی کر رہی ہیں اور یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیاوہ کل ایوان کی کارروائی چلنے دیں گے یا نہیں ۔ ریاست آندھراپردیش کے ساتھ مرکزی حکومت کی جانب سے کی گئی غیر معمولی ناانصافی پر دیگر سیاسی جماعتیں کثیر تعداد میں تلگودیشم پارٹی کی تائید کیلئے پہل کررہی ہیں لیکن خود آندھراپردیش کی سیاسی جماعتوں کے مابین اختلاف رائے ہے جس کی وجہ سے ریاست میں سیاسی حالات مختلف پائے جاتے ہیں اور وزیراعظم کے خلاف آندھراپردیش سے کی گئی ناانصافی کے خلاف اعلان جنگ کرنے والے قومی صدر تلگودیشم پارٹی و چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو پر اپوزیشن جماعتیں سخت تنقیدوں کا سلسلہ شروع کیا ہے جس پر مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے اپنی شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دریافت کیا کہ آیا کس کو مضبوط کرنے اور کس کی تائید کرنے کیلئے اس طرح کی تنقیدوں کا آغاز کیا ہے ؟ بالواسطہ طور پر ایسا معلوم ہوتا ہیکہ وائی ایس جگن موہن ریڈی اور جنا سینا قائد پون کلیان مبینہ ساز باز کے ذریعہ حکومت آندھراپردیش اور چیف منسٹر کے خلاف اپنی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ نوٹس پر اگر مباحث ہوکر تحریک عدم اعتماد ناکام بھی ہوجائے تو مباحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کی ہی کامیابی تصور ہوگی کیونکہ تقسیم ریاست کے موقع پر دیئے گئے تیقنات ریاست کے ساتھ کی گئی ناانصافی پر اہم مباحث ہوں گے جس سے حکومت آندھراپردیش کا اہم مقصد پورا ہوگا ۔ پارلیمانی ایوان میں بڑے پیمانے پر مباحث ہوئے اور تحریک عدم اعتماد پر زیادہ سے زیادہ جماعتوں کی تائید کے حصول کیلئے چندرا بابو نائیڈو امراوتی سے ہی منصوبہ بند انداز میں اپنی حکمت عملی کو روبہ عمل لانے کیلئے موثر اقدامات کررہے ہیں جبکہ شنبہ اور یکشنبہ پارلیمنٹ کو تعطیل دینے کے باوجود زائد از چھ ارکان پارلیمان پر مشتمل ٹیم کو دہلی میں ہی موجود رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے قومی سیاسی جماعتوں کی تائید کے حصول کیلئے ان ارکان پارلیمان کو بروقت ضروری مشورہ دیتے ہوئے اپنی مرتب کردہ حکمت عملی میں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش میں مسٹر چندرا بابو نائیڈو مصروف دکھائی دے رہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہیکہ مسٹر چندرا بابو نائیڈو کی کی جانے والی کوششوں کے نتیجہ میں اب تک ہی زائد از 200ارکان پارلیمان کی تحریک عدم اعتماد نوٹس پر بھرپور تائید حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سیاسی جماعتوں کا حقیقی موقف واضح ہوجائے گا اور آئندہ انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت کی مخالفت میں پائی جانے والی سیاسی جماعتوں کو دوبارہ ایک متحدہ پلیٹ فارم پرمتحد کرنے میں بھی زبردست مدد حاصل ہوسکے گی تاکہ آئندہ انتخابات میں ایک دوسری جماعتوں کی تائید و اتحاد کے ذریعہ بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت کو اقتدار سے بیدخل کرنے میں مدد بھی حاصل ہوسکے گی ۔ اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہیکہ قومی صدر تلگودیشم پارٹی و چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو ابھی سے آئندہ انتخابات کے سلسلہ میں ایک تیر سے دو نشانے لگانے کی حکمت عملی پر اقدامات کرنے کیلئے کوشاں دکھائی دے رہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT