Thursday , November 15 2018
Home / شہر کی خبریں / مودی حکومت کے دو اسکام جلد منظر عام پر!

مودی حکومت کے دو اسکام جلد منظر عام پر!

آندھراپردیش کے عہدیدار کا سنسنی خیز بیان، مرکز پر مخالفین کے فون ٹیاپ کرنے کا الزام
حیدرآباد ۔ 6 ۔جون (سیاست نیوز) آندھراپردیش پلاننگ بورڈ کے نائب صدرنشین سی ایچ کٹمبا راؤ نے مودی حکومت کے دو اسکام منظر عام پر لانے کا دعویٰ کرتے ہوئے سیاسی حلقوں میں سنسنی دوڑا دی ہے۔ اسٹیٹ پلاننگ بورڈ کے نائب صدرنشین نے اعلان کیا کہ وہ مودی حکومت کے دو اسکامس کا پردہ فاش کرنے کیلئے تفصیلات اکھٹا کر رہے ہیں اور جب بھی یہ ا سکام منظر عام پر آئیں گے ، مرکزی حکومت دہل جائے گی۔ وجئے واڑہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کٹمبا راؤ نے کہا کہ دونوں اسکامس کے سلسلہ میں تفصیلات اکھٹا کرنے اور دیگر معلومات کا کام مکمل کرلیا ہے اور وہ اندرون دو ماہ اسکامس کو منظر عام پر لائیں گے ۔ چیف منسٹر کیمپ آفس میں کٹمبا راؤ کا یہ اعلان مرکزی حکومت سے آندھراپردیش حکومت کی بڑھتی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اشارہ دیا کہ اسکامس ایک تجارتی گروپ سے متعلق ہے جس کے سربراہ وزیراعظم نریندر مودی سے قربت رکھتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے مذکورہ بزنس گروپس کو بعض فوائد فراہم کئے جس کی کم سے کم 6 ممالک نے مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ اور میں اس مرحلہ پر مزید تفصیلات کا انکشاف نہیں کرسکتا ۔ کٹمبا راؤ نے بی جے پی رکن راجیہ سبھا جی وی ایل نرسمہا راؤ کو وشاکھاپٹنم ۔ چینائی صنعتی راہ داری کو فنڈس کی فراہمی کے مسئلہ پر کھلے مباحث کا چیلنج کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وشاکھاپٹنم چینائی صنعتی راہ داری پر میں کھلے مباحث کیلئے تیار ہوں۔ مرکزی حکومت نے دہلی ۔ ممبئی راہ داری اور ڈھولیرا سٹی کیلئے ہزاروں کروڑ روپئے فراہم کئے ۔ بی جے پی قائدین وشاکھاپٹنم۔ چینائی صنعتی راہ داری کے کام میں تاخیر کیلئے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایر ایشیا مسئلہ میں چندرا بابو نائیڈو کو شامل کرنے کیلئے کوشش کر رہی ہے جبکہ بات چیت میں رشوت سے متعلق ایک لفظ بھی شامل نہیں ہے۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کس نے ایر ایشیا عہدیداروں کے فون ٹیاپ کئے اور اسے عوام میں جاری کردیا۔ کیا ملک میں شہریوں کے فون کالس ٹیاپ کرنے کی اجازت ہے ؟ نائب صدرنشین پلاننگ بورڈ نے مزید کہا کہ نریندر مودی حکومت اپنے حامیوں کے ساتھ ساتھ اپنے مخالفین کے فون ٹیاپ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کابینہ نے ایر ایشیا کی تجویز کو منظوری دی تھی ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی کابینہ نے ایر ایشیا کو منظوری دی تھی کیونکہ تمام کابینی ارکان کو رشوت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے وشاکھاپٹنم۔چینائی صنعتی راہ داری کیلئے تاحال ایک پیسہ بھی منظور نہیں کیا ہے۔ کٹمبا راؤ کے مطابق مرکزی حکومت امراوتی اننت پور ایکسپریس وے کو بھرت مالا پراجکٹ میں شامل کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ مرکز نے ریاستی حکومت پر زور دیا کہ وہ 6 لائین والی ہائی وے کو 4 لائین میں تبدیل کرے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے دو اسکامس کے سلسلہ میں وہ مکمل تیاری کرچکے ہیں اور بہت جلد انہیں منظر عام پر لائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT