Tuesday , December 12 2017
Home / اداریہ / مودی حکومت کے دو سال کی تشہیر

مودی حکومت کے دو سال کی تشہیر

مرکز میں نریندر مودی حکومت کے دو سال مکمل ہورہے ہیں اور بی جے پی نے ان دو سالوں کی تکمیل کی بڑے پیمانے پر تشہیر کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس کیلئے باضابطہ پروگرام کو قطعیت دی گئی ہے اور خود وزیر اعظم کے علاوہ مرکزی وزرا کو بھی مختلف شہروں کے دورے کرتے ہوئے حکومت کے دو سال کی تکمیل کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی ہدایت دی گئی ہے ۔ حکومت اپنے دو سال کی تکمیل کیلئے بھلے ہی جشن منا رہی ہو لیکن ابھی تک اس حکومت کے قیام سے جو امیدیں عوام میں پیدا کی گئی تھیں وہ پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ دو سال میں مودی حکومت نے ایسے کوئی کارہائے نمایاں انجام نہیں دئے ہیں جن کی تشہیر کرتے ہوئے عوام پر اثر انداز ہوا جاسکے ۔ بی جے پی اور اس کے قائدین آسام میں پارٹی کی انتخابی کامیابی کا ہوا کھڑا کرتے ہوئے دوسری ریاستوں پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں۔ ان کے نشانہ پر اب اتر پردیش جیسی ریاست ہے جہاں آئندہ سال انتخابات ہونے والے ہیں۔ وزیر اعظم مودی 26 مئی کو یو پی کے سہارنپور میں جلسہ سے خطاب کرینگے ۔ ساتھ ہی درجنوں مرکزی وزرا کو بھی اتر پردیش کے دوروں کی ہدایت جاری کردی گئی ہے ۔ انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مرکزی حکومت کے کارناموں اور منصوبوں کو عوام میں پیش کریں۔ حالانکہ ابھی تک مودی حکومت نے ایسا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا ہے جس کی تشہیر بڑے پیمانے پر کی جاسکے ۔ یہ صرف عوام کو گمراہ کرنے کے منصوبے ہیں۔ نریندر مودی یا بی جے پی نے 2014کے عوام انتخابات سے قبل جو وعدے کئے تھے اور عوام کو جو سبز باغ دکھائے گئے تھے وہ ابھی تک دھرے کے دھرے ہیں۔ ان میںکوئی بھی وعدہ پورا نہیں ہوا ہے اور نہ مستقبل قریب میں پورا ہوتا نظر آ رہا ہے ۔ صرف زبانی جمع خرچ کیا گیا تھا اور اسی کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔ اس کے باوجود بی جے پی ہو یا مرکزی حکومت ہو عوام کو گمراہ کرتے ہوئے ان کے ذہنوں پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں ۔ اتر پردیش میں انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کا مقصد وہاں انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ہے ۔ پارٹی اور حکومت کے ذرائع اس منصوبے کا اعتراف بھی کر رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر عملی اقدامات کا آغاز بھی ہوچکا ہے ۔

مودی حکومت کو اقتدار سنبھالے ہوئے دو سال کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن بیرونی ممالک میں چھپائے گئے کالے دھن کو ابھی تک واپس نہیںلایا گیا ہے حالانکہ اسے صرف 100 دن میں واپس لانے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔ اس کے برخلاف کالا دھن رکھنے والوں کو کسی کارروائی سے بچنے کی راہیں اور سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ کالا دھن واپس لا کر عوام کے کھاتوں میں دس تا پندرہ لاکھ روپئے جمع کروانے کے وعدہ کو محض انتخابی جمع خرچ قرار دے کر بی جے پی صدر امیت شاہ نے ختم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مودی نے اچھے دن لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ اچھے دن صرف بی جے پی یا وزیر اعظم کے قریبی کارپوریٹ اداروں کے سوا کسی کے لئے نہیں آئے ہیں۔ اڈانی گروپ کا کاروبار کئی ہزار گنا بڑھ گیا ہے ۔ بڑے اداروں کو ہزاروں کروڑ روپئے کے قرض فراہم کئے گئے ۔ عوام کی معاشی حالت حسب سابق ابتر ہی ہے ۔ جو بڑے تاجر ملک میں ہزاروں کروڑ روپئے قرض باقی ہیں انہیں ملک سے فرار ہونے کا موقع فراہم کیا گیا ۔ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن انہیں روزگار فراہم کرنے کی بجائے ہاتھ میں جھاڑو تھما کر سوچھ بھارت پروگرام میں مصروف کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ حکومت بنیادی مسائل کو حل کرنے ‘ عوام کو راحت پہونچانے کی بجائے یوگا ڈے کے انعقاد جیسے پروگراموں میں مصروف ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں کی عوامی منتخبہ حکومتوں کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ عوام کے مختلف طبقات کو درپیش مسائل پر حکومت کی کوئی توجہ ہی نہیں ہو رہی ہے ۔

ملک میں کسان انتہائی بدحالی کا شکار ہیں۔ کئی علاقے خشک سالی کا شکار ہیں۔ کسان خود کشی کرتے جا رہے ہیں۔ مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ عالمی سطح پر پٹرول کی قیمتوںمیں کمی کے باوجود اس کا فائدہ صارفین کو منتقل کرنے کی بجائے حکومت کے خزانہ بھرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ملازمین کے پروایڈنٹ فنڈ کو ہتھیانے کیلئے ٹیکس کی تجویز بھی حکومت نے پیش کی تھی جو اسے فی الحال واپس لینے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔ فرقہ پرست عناصر کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ہے ۔ نفرت انگیز بیانات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ہم آہنگی کے ماحول کو متاثر کیا جا رہا ہے ۔ ایسے عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے ۔ اس سب کے باوجود بی جے پی اور اس کی حکومت خود کو شاباشی دینے اور عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے ۔ بحیثیت مجموعی مودی حکومت کے دو سال کی کارکردگی مایوس کن ہے اور بی جے پی کی بڑی تشہیری مہم زیادہ موثر ثابت نہیں ہوسکتی ۔

TOPPOPULARRECENT