Saturday , January 20 2018
Home / سیاسیات / مودی حکومت کے 100 دن کی کارکردگی سے عوام ناخوش

مودی حکومت کے 100 دن کی کارکردگی سے عوام ناخوش

ناگپور ۔ 30 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکز میں نریندر مودی حکومت کی 100 روزہ کارکردگی سے عوام ناخوش ہیں کیوں کہ وہ ملک میں بڑھتی مہنگائی اور افراط زر پر قابو پانے اپنے وعدہ میں بری طرح ناکام ہوئی ہے ۔ این سی پی نے کہا کہ مودی نے جو وعدے کئے تھے اس کو پورا کرنے سے قاصر ہیں ۔ لوک سبھا ایم پی اور این سی پی جنرل سکریٹری طارق انور نے اخباری نمائند

ناگپور ۔ 30 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکز میں نریندر مودی حکومت کی 100 روزہ کارکردگی سے عوام ناخوش ہیں کیوں کہ وہ ملک میں بڑھتی مہنگائی اور افراط زر پر قابو پانے اپنے وعدہ میں بری طرح ناکام ہوئی ہے ۔ این سی پی نے کہا کہ مودی نے جو وعدے کئے تھے اس کو پورا کرنے سے قاصر ہیں ۔ لوک سبھا ایم پی اور این سی پی جنرل سکریٹری طارق انور نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت کی کارکردگی سے عوام خوش نہیں اس لئے لوک سبھا انتخابات کے دوران بلند بانگ وعدے و دعویٰ کئے خاص کر مہنگائی پر قابو پانے، ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کو روکنے اقدامات کرے گی لیکن 100 دن گذرنے کے باوجود عوام کی توقعات کو پورا نہیں کیا گیا اور کسی بھی قسم کی غیرمعمولی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے ۔ ایک سوال پر کہ آخر ایک حکومت کی کارکردگی کو صرف 100 دن میں کس طرح پرکھا جاتا ہے ۔ طارق انور نے برہمی سے جواب دیا کہ اس کیلئے کئی طور طریقہ ہے اور یہ اندازہ کرلیا جاسکتا ہے کہ کس طرح کام کیا جائے اور حکومت کو کس سمت میں قدم اٹھانا ہے ۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں سیکولر تانے بانے کو نقصان پہونچانے کیلئے حکومت ذمہ دار ہے اور آر ایس ایس کی حمایت سے وہ فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر عمل کررہی ہے ۔ بی جے پی کی مبینہ ’’لوجہاد‘‘ مہم پر طارق انور نے کہا کہ ملک میں محبت کی شادیوں پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ بی جے پی کے تمام اعلیٰ مسلم قائدین بھی محبت کی شادی کرچکے ہیں ۔ مگر بی جے پی نے لو جہاد کے خلاف مہم چھیڑکر واضح طورپر مسلمانوں کے خلاف سازش رچائی ہے ۔ کانگریس کو لوک سبھا میں اپوزیشن کا موقف دینے سے انکار پر طارق انور نے کہا کہ بی جے پی کا رویہ غیرمنصفانہ ہے ۔ ایک جمہوری ڈھانچہ میں اپوزیشن کا رول اہم ہوتا ہے۔ لوک پال ، سی بی آئی سربراہ ، چیف جسٹس آف انڈیا اور دیگر دستوری عہدوں پر تقررات کیلئے اپوزیشن کا ہونا لازمی ہے ۔ پروٹوکول محاذ پر بھی جب کبھی کوئی بیرونی مہمان سفر پر پہونچتا ہے تو صدرجمہوریہ اور وزیراعظم کے علاوہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کرے گا یہ ایک روایت ہے ۔ آنے والے مہاراشٹرا اسمبلی اتحاد میں نشستوں کی تقسیم مسئلہ پر طارق انور نے کہا کہ اس کو بہت جلد قطعیت دیدی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT