Saturday , September 22 2018
Home / سیاسیات / مودی سے خفیہ ملاقات کی شردپوار کی جانب سے تردید

مودی سے خفیہ ملاقات کی شردپوار کی جانب سے تردید

ممبئی 31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کی حلیف نے آج لوک سبھا انتخابات کے لئے کانگریس کے ساتھ اتحاد کے بارے میں متضاد اشارے دیئے جبکہ صدر این سی پی شردپوار نے نریندر مودی سے خفیہ ملاقات کی اطلاعات کو بکواس قرار دیا۔ جبکہ پارٹی کے ایک اور سینئر قائد پرافل پٹیل نے کہاکہ ’’تمام متبادل راہیں کھلی ہیں‘‘۔ مرکزی وزیر زراعت شردپوار نے ٹو

ممبئی 31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کی حلیف نے آج لوک سبھا انتخابات کے لئے کانگریس کے ساتھ اتحاد کے بارے میں متضاد اشارے دیئے جبکہ صدر این سی پی شردپوار نے نریندر مودی سے خفیہ ملاقات کی اطلاعات کو بکواس قرار دیا۔ جبکہ پارٹی کے ایک اور سینئر قائد پرافل پٹیل نے کہاکہ ’’تمام متبادل راہیں کھلی ہیں‘‘۔ مرکزی وزیر زراعت شردپوار نے ٹوئٹر پر تحریر کیاکہ نئی دہلی میں 17 جنوری کو نریندر مودی سے اُن کی ملاقات کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے، یہ مکمل طور پر شرانگیز ہے، بے بنیاد اور جھوٹی ہے۔ پوار کے ٹوئٹر کے بعد مراٹھی روزنامہ کے صفحہ اول پر خبر شائع ہوئی کہ صدر این سی پی سمجھا جاتا ہے کہ نئی دہلی میں مذکورہ تاریخ خفیہ طور پر نریندر مودی سے ملاقات کرچکے ہیں۔

دہلی میں وزرائے اعلیٰ کی کانفرنس میں ریاست کا دورہ کرنے کے موقع پر شردپوار نے وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کی تھی اور اِس موقع کے سوائے اُنھوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران نریندر مودی کے ساتھ اپنی کسی ملاقات کی خبر کو بے بنیاد، شرانگیز اور بالکل جھوٹی قرار دیا۔ شردپوار کی پارٹی این سی پی کانگریس زیرقیادت یو پی اے میں شامل دوسری سب سے بڑی پارٹی ہے۔ اخباری اطلاع میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ ملاقات 30 منٹ جاری رہی اور این سی پی اور بی جے پی کے تمام سینئر قائدین تک اِس ملاقات سے واقف نہیں تھے۔ تاہم مہاراشٹرا میں کانگریس ۔ این سی پی تعلقات میں کشیدگی کی عکاسی کرتے ہوئے اور واضح طور پر سخت سودے بازی کی تیاری میں مصروف این سی پی کے قائد پرافل پٹیل نے نشستوں کی تقسیم کے بارے میں بات چیت کو کانگریس غیرضروری طور پر بہت زیادہ تاخیر کا شکار بنارہی ہے اور اُن کی پارٹی کے صبر کا پیمانہ چھلکنے لگا ہے۔

پرافل پٹیل بھی مرکزی وزیر ہیں۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران اُنھوں نے کہاکہ یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے کیونکہ انتخابات کی قربت کے پیش نظر تمام سیاسی پارٹیوں کو تمام مسائل پر شفافیت اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے لئے تمام متبادل راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ اُس وقت تک جب تک کہ اُن کا موقف پوری طرح شفاف ہو۔ لیکن این سی پی کا صبر اب ختم ہورہا ہے کیونکہ کانگریس اتحاد کے مذاکرات کو غیرمعمولی تاخیر کا شکار بنارہی ہے۔ پرافل پٹیل نے کہاکہ اِس کی وجہ سے اُلجھن پیدا ہورہی ہے۔ این سی پی لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں کے لئے شدت سے مشاورت میں مصروف ہے اور 22 نشستوں کے امیدواروں کو قطیعت دے چکی ہے۔ دریں اثناء مہاراشٹرا سے راجیہ سبھا کے لئے شردپوار اور سینئر کانگریس قائد مرلی دیورا بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT