Saturday , November 17 2018
Home / Top Stories / مودی سے 15 منتخب صنعت کاروں کا 3.4 لاکھ کروڑ روپئے مالیتی قرض معاف کردیا

مودی سے 15 منتخب صنعت کاروں کا 3.4 لاکھ کروڑ روپئے مالیتی قرض معاف کردیا

چٹ فنڈ اسکام سے 5,000 کروڑ روپئے گئے ، 60 افراد کی موت ، 310 ایف آئی آر درج لیکن کوئی کارروائی نہیں : راہول گاندھی کا خطاب

چاراما۔ 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے سربراہ راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر 15 منتخب مخصوص صنعت کاروں کے 3.5 لاکھ کروڑ روپئے قرض معاف کرنے کا الزام عائد کیا اور رشوت ستانی کے مسئلہ پر چھتیس گڑھ کے چیف منسٹر رمن سنگھ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ راہول گاندھی نے اس ریاست میں جہاں پیر کو پہلے مرحلے کی رائے دہی ہوگی، اپنی مہم کے دوسرے دن رمن سنگھ حکومت کو مبینہ چٹ فنڈ اسکام، سیول سپلائر اسکام کے علاوہ چیف منسٹر کے فرزند ابھیشیک سنگھ کے سمندر پار اثاثوں کے اسکام کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ چار پانچ سال کے دوران مودی جس نے ملک کے 15 دولت مند ترین افراد کا 3.5 لاکھ کروڑ روپئے دیئے جبکہ ملک میں ملیریگا اسکیم کیلئے سالانہ 35,000 کروڑ روپئے کے ضرورت ہوتی ہے، لیکن انہوں (مودی) نے 15 منتخب صنعت کاروں کو اس سے 10 گنا زائد رقم دے دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ اندرون پانچ سال زرعی مراکز کے طور پر ابھریں اور ملک کو غذا و پھل اور سبزیاں سربراہ کریں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ مودی جی نے 15 منتخب افراد کو خزانہ کی کنجیاں دے دی ہے لیکن کانگریس چاہتی ہے کہ یہ کنجیاں کسانوں، غریبوں، نوجوانوں، خواتین اور قبائل کو دی جائیں۔ مودی جی صرف 15 افراد پر بھروسہ کرتے ہیں لیکن ہم کروڑوں عوام پر بھروسہ کرتے ہیں۔ رمن سنگھ پر رشوت ستانی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ چٹ فنڈ اسکام سے 5000 کروڑ روپئے غائب ہوگئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’60 افراد فوت ہوگئے۔ 310 ایف آئی آر درج کئے گئے لیکن کوئی بھی جیل نہیں گیا کیونکہ چیف منسٹر کوئی کارروائی کرنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مبینہ عوامی تقسیم نظام (پی ڈی ایف) سے 36000 کروڑ روپئے کا سرقہ کرلیا گیا اور دعویٰ کیا کہ اس اسکام میں رمن سنگھ کا رول ثابت کرنے ان کے پاس دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ ’’دستیاب ڈائری میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو رقم دی گئی ہے۔ یہ ڈاکٹر صاحب کون ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ ’’چیف منسٹر اگر اس کا جواب دینا نہیں چاہتے تو عوام سے انہیں کہنا ہوگا کہ ان کے بیٹے کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی جن کا نام پناما پیپرس میں آیا ہے جبکہ پاکستان جیسا ایک ملک بھی اپنے سابق وزیراعظم (نواز شریف) کو ہی رشوت ستانی کے مختلف الزامات پر جیل کے حوالے کرچکا ہے۔ پناما پیپرس ان ایک کروڑ 15 لاکھ افشاء شدہ دستاویزات کو کہا جاتا ہے جو تحقیقاتی صحیفہ نگاروں کے بین الاقوامی وفاق کی طرف سے شائع کی جاتی ہیں جن میں پناما کے قانونی اداروں کی طرف سے سمندر پار اثاثوں کی تفصیلات پیش کی جاتی ہیں۔ ان دستاویزات میں متعدد عالمی قائدین اور اہم شخصیات کے نام پائے گئے جنہوں نے بیرون ملک سمندر پار کمپنیوں میں اپنی رقومات چھپا رکھی ہے۔ رمن سنگھ کے بیٹے ابھیشیک سنگھ نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف پناما پیپرس کے بارے میں عائد کئے جانے والے الزامات سیاسی محرکات پر مبنی اور بے بنیاد ہیں۔

TOPPOPULARRECENT