Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / مودی ‘ صنعتکاروں و کالا دھن رکھنے والوں کے مددگار

مودی ‘ صنعتکاروں و کالا دھن رکھنے والوں کے مددگار


غریبوں ‘ دلتوں ‘ اقلیتوں کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ، آسام میں راہول گاندھی کا خطاب
بورگھٹ ( آسام ) 5 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے آج وزیر اعظم نریندر مودی پر کچھ مخصوص صنعت کاروں کے مفادات کو فروغ دینے کیلئے کام کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ ان افراد کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں جو کالا دھن رکھتے ہیں۔ صنعتکاروں کو راحت پہونچانے کے علاوہ وزیر اعظم تنخواہ یافتہ طبقہ کی زندگی بھر کی بچت پر ٹیکس عائد کر رہے ہیں۔ انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ریاست آسام میں پارٹی کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ نریندر مودی ان پر جو شخصی تنقیدیں کر رہے ہیں ان سے وہ متاثر نہیں ہونگے اور حکومت پر اس وقت تک دباؤ ڈالتے رہیں گے جب تک وہ ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ پر ٹیکس کی تجویز کو واپس نہیں لیتے ۔ راہول نے کہا کہ یہ وزیر اعظم ایسے ہیں جو چوروں کو اپنے کالا دھن جائز پیسے میں بدلنے کا موقع دے رہے ہیں۔ حالیہ بجٹ میں اسی لئے فئیر اینڈ لولی اسکیم کا اعلان کیا گیا ہے لیکن یہی وزیر اعظم تنخواہ پانے والے طبقہ کی زندگی بھر کی بچت پر ٹیکس لاگو کر رہے ہیں۔ کانگریس نائب صدر نے کہا کہ وہ میڈیا میں بھی کہتے رہے ہیں اور وزیر اعظم سے بھی کہتے رہے ہیں کہ تنخواہ پانے والے طبقہ کی ایماندارانہ بچت پر کوئی ٹیکس عائد نہ کیا جائے لیکن پارلیمنٹ میں اپنی ایک گھنٹہ طویل تقریر کے دوران وزیر اعظم نے اس تعلق سے ایک لفظ تک کہنے سے گریز کیا ۔ وہ تنخواہ یافتہ طبقہ کیلئے جدوجہد کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور حکومت پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ اس اسکیم سے دستبرداری اختیار کرلے ۔ یہ حکومت کچھ مخصوص صنعتکاروں اور کالا دھن رکھنے والوں کیلئے کام کر رہی یہ ۔ راہول نے کہا کہ وہ اس حکومت پر دباؤ ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے کیونکہ یہ حکومت ایماندار ورکنگ کلاس طبقہ کیلئے کام کرنے والی حکومت نہیں ہے ۔ یہ غریب کسانوں ‘ پسماندہ طبقات ‘ نوجوانوں ‘ خواتین ‘ دلتوں ‘ آدی واسیوں اور اقلیتوں کیلئے کام کرنے والی حکومت نہیں ہے ۔ راہول نے کہا کہ پارلیمنٹ میں انہوں نے نریندر مودی سے کالا دھن واپس لانے اور ہر شہری کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپئے جمع کروانے کے وعدہ پر چار سوال کئے تھے یہ سوالات کالے دھن کو جائز دولت بنانے کی اسکیم اور روہت ویمولہ کی خود کشی کے تعلق سے بھی تھے ۔ کیا یہ سوالات غلط تھے ۔ کیا یہ سوالات شخصی تھے ۔ مودی نے اپنی ایک گھنٹے کی تقریر میں ان میں ایک بھی سوال کا جواب نہیں دیا ۔ اس کی بجائے انہوں نے شخصی تنقید کو ترجیح دی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT