Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / مودی قیادت میں بہتر روابط کی توقع نہیں

مودی قیادت میں بہتر روابط کی توقع نہیں

ہندوستان کی جارحانہ روش اہم رکاوٹ ، کشمیری عوام کی تائید جاری رہے گی : سرتاج عزیز
اسلام آباد ۔ 8 اکتوبر۔(سیاست ڈاٹ کام) پاکستان نے آج کہا ہے کہ نریندر مودی حکومت میں ہندوستان کے ساتھ روابط استوار ہونے کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے یہ بات کہی اور ہندوستان پر ’’جارحانہ روش ‘‘ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان مسلسل علاقہ میں ہندوستان کی جارحانہ روش کی مزاحمت کررہا ہے ۔ اُس نے مساوی بنیادوں پر باہمی روابط کو فروغ دینے کی بات کی ہے ، لیکن مودی حکومت میں ہندوستان کے ساتھ باہمی تعلقات بحال ہونے کی کوئی توقع نظر نہیں آتی ۔ جب تک نریندر مودی ہندوستان کے وزیراعظم رہیں گے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات بحال نہیں ہوسکتے ۔ اے پی پی نے سرتاج عزیز کے ٹی وی انٹرویو کے حوالے سے یہ بات بتائی ۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن میں کل متفقہ طورپر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں تمام مسائل بشمول کشمیر میں ہندوستان کے مظالم ، جنگ بندی کے خلاف ورزیوں ، اندس آبی معاہدہ منسوخ کرنے ہندوستان کی دھمکی اور بلوچستان میں ہندوستان کی مداخلت جیسے تمام موضوعات کا احاطہ کیا گیا ۔ انھوں نے کہاکہ اس کا اہم مقصد یہی ہے کہ دنیا کو یہ بتایا جائے کہ کشمیر میں ہندوستانی مظالم کی مذمت کے معاملے میں سارا پاکستان متحد ہے ۔ اس کے علاوہ کشمیری عوام کو پاکستان کی اخلاقی ، سفارتی اور سیاسی مدد جاری رہے گی ۔ انھوں نے دنیا بھر میں مختلف پلیٹ فارمس پر بات کی اور اکثریت کی یہی رائے تھی کہ دونوں ممالک کے مابین بات چیت شروع ہونی چاہئے ۔ انھوں نے کہاکہ پاک ۔ہند سرحد کو بند کرنے میں کوئی حرج نہیں ، جیسا کہ ہندوستان کا منصوبہ ہے۔ لیکن عوامی نقل و حرکت اور تجارت برقرار رہنی چاہئے ۔

کشیدگی کم کرنے امریکی کوشش
اس دوران وزیراعظم نواز شریف کے کشمیر پر خصوصی نمائندے ، سنیٹر مشاہد حسین نے واشنگٹن میں بتایا کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات شروع کرنے کے لئے امریکہ مثبت رول ادا کررہا ہے ۔ انھوں نے پانچ روزہ دورہ کے اختتام پر کہا کہ اس ضمن میں قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول کے فون کال کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے فوری بعد جوابی فون کال کیا گیا جس کا مقصد کشیدگی کم کرنا تھا ۔ انھوں نے کہاکہ مودی کا ’’ہندوستانی دہلی کے اداروں ‘‘ سے تعلق نہیں ، جہاں قدیم سرد جنگ کی ذہنیت برقرار تھی ۔وہ دہلی کے لئے ایک بیرونی شخص کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اُن کا یہ احساس ہے کہ اسلام آباد میں سارک چوٹی اجلاس منعقد ہوگا اور نریندر مودی وہاں آئیں گے ۔ وہ نواز شریف کو اس کیلئے تیار کریں گے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مودی اس حقیقت کو اچھی طرح جان لیں گے کہ باہمی روابط کو استوار کیا جائے ۔ نریندر مودی میں تبدیلی لانے کی صلاحیت ہے اور وہ اپنی پالیسی بدلنے کے تعلق سے لچکدار موقف رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ نریندر مودی اور نواز شریف کے مابین باہمی روابط بھی ہمیشہ اچھے رہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT