Tuesday , January 16 2018
Home / سیاسیات / مودی لہر کہاں ہے؟ انتخابی مقابلہ کے خوف سے بی جے پی قائدین حواس باختہ

مودی لہر کہاں ہے؟ انتخابی مقابلہ کے خوف سے بی جے پی قائدین حواس باختہ

نئی دہلی18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات میں مودی کی لہر چلنے سے متعلق بی جے پی کے دعوؤں کا بھرم توڑنے کی ایک کوشش کے طور پر کانگریس نے آج کہاکہ اپوزیشن پارٹی (بی جے پی) کے قائدین جن میں خود وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی، صدر راج ناتھ سنگھ اور ارون جیٹلی جیسے قدآور امیدوار خوفزدہ ہوگئے ہیں اور محفوظ حلقوں کی تلاش میں ا

نئی دہلی18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا انتخابات میں مودی کی لہر چلنے سے متعلق بی جے پی کے دعوؤں کا بھرم توڑنے کی ایک کوشش کے طور پر کانگریس نے آج کہاکہ اپوزیشن پارٹی (بی جے پی) کے قائدین جن میں خود وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی، صدر راج ناتھ سنگھ اور ارون جیٹلی جیسے قدآور امیدوار خوفزدہ ہوگئے ہیں اور محفوظ حلقوں کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھاگتے پھر رہے ہیں۔ کانگریس ترجمان رندیپ سرجیوالا نے ان افواہوں اور قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ کانگریس کے کئی قائدین جن میں پی چدمبرم، منیش تیواری، سچن پائیلٹ وغیرہ شامل ہیں، انتخابی مقابلہ کیلئے تیار نہیں ہیں۔ سرجیوالا نے کہاکہ کانگریس امیدواروں کی فہرست ہنوز مکمل نہیں ہوئی ہے۔ کانگریس ترجمان نے کہاکہ ’’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک محفوظ نشست کی تلاش کیلئے اترپردیش آنے اور حلقہ لوک سبھا ورانسی کے انتخاب کے بعد بی جے پی میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار (نریندر مودی) حواس باختہ اور خوفزدہ ہوگئے ہیں۔

چنانچہ مودی اب دوسری نشست کی تلاش کیلئے گجرات واپس ہوگئے ہیں۔ اپوزیشن پارٹی کو وزارت عظمیٰ کیلئے اپنے امیدوار کی کامیابی کا یقین بھی نہیں ہے‘‘۔ سرجیوالا نے دعویٰ کیاکہ بی جے پی کے کئی سرکردہ قائدین محفوظ نشستوں کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھاگتے پھر رہے ہیں۔ ایک دوسرے سے نشستیں چھین لینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ غازی آباد سے کانگریس کے امیدوار راج ببر کے ہاتھوں یقینی شکست سے خوفزدہ ہوکر بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ لکھنو بھاگ گئے ہیں۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی کی پالیسیوں کے اصل معمار ارون جیٹلی اپنی ریاست دہلی چھوڑ کر امرتسر جارہے ہیں کیونکہ اُنھیں دہلی میں سات کے منجملہ کسی بھی حلقہ سے مقابلہ پر بھروسہ نہیں ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر کالراج مشرا لکھنو سے دیوریہ بھاگ گئے ہیں۔ اوما بھارتی ٹیکم گڑھ سے جھانسی بھاگ گئی ہیں اور مرلی منوہر جوشی ورانسی سے کانپور جارہے ہیں۔

اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ اقتدار کی لامحدود ہوس و لالچ میں مودی اور بی جے پی جیت سے محروم ہوگئے ہیں۔ رندیپ سرجیوالا نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’’اگر ورانسی میں سخت مقابلہ ہوتا ہے تو اس پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہئے جس طرح حلقہ لوک سبھا غازی آباد سے کانگریس کی جانب سے راج ببر کو نامزد کرنے کے بعد بی جے پی کے سربراہ راج ناتھ سنگھ وہاں سے فرار ہوگئے‘‘۔ مودی کو سخت مقابلے سے دوچار کرنے کانگریس کے عہد کا اظہار کرتے ہوئے سرجیوالا نے کہاکہ اس یقین کے ساتھ امیدوار نامزد کیا جائے گا کہ وہ بی جے پی میں وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے خلاف کامیاب ہوسکتا ہے۔ اُنھوں نے اس سوال کا اثبات میں جواب دیا کہ آیا ورانسی سے مودی کے خلاف اپنے امیدوار کی تائید کیلئے تمام ہمخیال جماعتوں سے اپیل کی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس امیدوار کو جس کا بہت جلد اعلان کیا جائے گا،

تمام ہمخیال جماعتوں کی تائید کی ضرورت ہوگی کیونکہ صرف وہ (کانگریس) ہی فرقہ پرست اور انتشار پسند قوتوں کے خلاف مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکتی ہے۔ امکانی امیدوار کے بارے میں کئی سوالات کئے گئے تاہم سرجیوالا نے کسی کا بھی راست جواب دینے سے گریز کیا۔ سرجیوالا نے دعویٰ کیاکہ ورانسی سے اپنی امیدواری کے اعلان کے بعد نریندر مودی گجرات میں دوسرے حلقہ کی تلاش میں مصروف ہوگئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مقابلہ سے خوفزدہ ہیں۔ کانگریس کے ایک جنرل سکریٹری مدھو سدن مستری نے دو دن قبل اعلان کیا تھا کہ حلقہ ورانسی سے کانگریس کی جانب سے مودی کا سخت مقابلہ کیا جائے گا اور اس مقصد کے لئے بیرون ریاست کے کسی امیدوار کی نامزدگی سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔ مودی کے خلاف کانگریس کے امکانی امیدواروں کی حیثیت سے راجیش مشرا اور اجئے رائے کے نام لئے جارہے ہیں۔

کانگریس کے ایک گوشہ کا احساس ہے کہ مودی کے خلاف کوئی بااثر لیڈر نامزد کیا جائے چند دوسرے چاہتے ہیں کہ کسی مشہور و معروف شخصیت جیسے فلمسٹار یا اسپورٹسمین کو اُتارا جائے۔ تاہم سرجیوالا نے کہاکہ فرقہ پرست قوتوں سے مقابلہ کیلئے سینئر کانگریس لیڈر سنیل شاستری کی تجویزپر وسیع تر زاویہ سے غور کی ضرورت ہے۔ سنیل شاستری نے حال ہی میں ٹوئیٹر پر تبصرہ کیا تھا کہ ’’اگر بی ایس پی اور ایس پی، حلقہ ورانسی سے مودی کو شکست دینے کیلئے فی الواقعی سنجیدہ ہیں تو اُنھیں چاہئے کہ کانگریس کے ساتھ وہ، مودی کے خلاف مشترکہ امیدوار نامزد کریں‘‘۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈر اروند کجریوال نے اعلان کیا تھا کہ ورانسی سے مودی کے خلاف مقابلہ کے لئے وہ تیار ہیں لیکن قطعی فیصلہ عوام کی مرضی پر منحصر ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT