مودی لہر کی حقیقت کیا ؟

ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھ لیتے ہیں لوگ آنکھ کے پانی کو بھی رونا سمجھ لیتے ہیں لوگ مودی لہر کی حقیقت کیا ؟

ہر چمکتی چیز کو سونا سمجھ لیتے ہیں لوگ
آنکھ کے پانی کو بھی رونا سمجھ لیتے ہیں لوگ
مودی لہر کی حقیقت کیا ؟
ہندوستان میں تاریخ کے اہم ترین انتخابات کا عمل ان دنوں زوروں پر ہے اور انتخابات میں کامیابی کیلئے ہر کوشش سیاسی جماعتوں کی جانب سے کی جا رہی ہے ۔ انتخابات میں جہاں سیاسی جماعتیں اپنے طور پر ہر ممکنہ کوشش کی جاتی ہیں وہیں میڈیا میں تشہیر کو بھی اولین ترجیح دی جاتی ہے ۔ بی جے پی نے ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے مقصد سے جو تشہیری مہم شروع کی تھی وہ خود بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔ ہزاروں کروڑ روپئے اس تشہیری مہم پر خرچ کرتے ہوئے یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک میں نریندر مودی کے حق میں لہر ہے ۔ یہ لہر حقیقت میں کیا ہے یہ پول کھلتی جارہی ہے ۔ ٹی وی اسٹوڈیوز میں پہلے سے طئے شدہ انٹرویوز اور نیوز بلیٹن میں ریلیوں کا راست ٹیلیکاسٹ کرتے ہو ئے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ جو سروے کئے جارہے ہیں وہ بھی غیر جانبدار نہیں کہے جاسکتے ۔ یہ بھی اپنے مفادات کی تکمیل کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ اب امریکہ کے ٹائم میگزین نے جو سروے کروایا ہے وہ اس طرح کے سروے اور مودی کی لہر کا پول کھولنے کیلئے کافی نظر آتا ہے ۔ ٹائم میگزین نے دنیا کی 100 بااثر شخصیتوں کی فہرست میں نریندر مودی اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کے تعلق سے عوام میں جو سروے کروایا ہے اس کے نتائج انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان نتائج میں یہ واضح ہوچکا ہے کہ اروند کجریوال ہندوستان بھر میں نریندر مودی سے زیادہ مقبولیت رکھتے ہیں اور ہندوستانیوں کی اکثریت چاہتی ہے کہ کجریوال کو دنیا کی سو با اثر شخصیتروں میں شامل کیا جائے ۔ نریندر مودی کو بھی عوام کی تائید حاصل ہوئی ہے ۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ اول نمبر پر نہیں پہونچ سکے ہیں وہ دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔ مودی کے تعلق سے جتنی تعداد میں عوام سے رابطہ کیا گیا تھا ان کی اکثریت نے مودی کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا جبکہ سوال کنندگا ن کی اکثریت نے کجریوال کے حق میں اپنی رائے ظاہر کی ہے ۔ دنیا کی سو با اثر شخصیتوں میں راہول گاندھی بھی حالانکہ شامل ہیں لیکن عوام کی اکثریت نے نریندر مودی پر اروند کجریوال کو ترجیح دی ہے ۔ یہ ہندوستان میں ہونے والے سروے اور اوپینین پولس سے بالکل مختلف رائے ہے اور اس سے حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے ۔
ملک میں بی جے پی مخالفین کی جانب سے یہ واضح کہا جارہا تھا کہ نریندر مودی کروڑہا روپئے کا کالا دھن خرچ کرتے ہوئے ‘ جو چنندہ کارپوریٹ گھرانوں کی جانب سے فراہم کیا جارہا ہے ‘ مودی کی لہر کا حوا کھڑا کرنے کی کوفشش کی جارہی ہے ۔ خاص طور پر الیکٹرانک میڈیا میں مودی کے تعلق سے جو لہر پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی تھی وہ سارے ملک کو پتہ ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے یہ ادارے غیر جانبدارانہ رول اداکرنے کی بجائے ایسا لگتا ہے کہ انتخابی عمل میں ایک فریق بن کر کام کر رہے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ نریندر مودی ہی اس ملک کو مختلف مسائل سے نجات دلا سکتے ہیں۔ یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ مودی نے گجرات کی ریاست کو ترقی دیتے ہوئے سارے ملک میں مثالی بنادیا ہے ۔ یہ ادعا بجائے خود حقیقت سے بعید ہے ۔ کئی اہم شعبوں میں ملک کی کئی ریاستیں بی جے پی اورمودی کے اقتدار والی ریاست گجرات سے کافی آگے ہیں۔ مہاراشٹرا اور آندھرا پردیش کو گذشتہ دنوں میں کارکردگی کی بنیاد پر آگے قرار دیا گیا ہے ۔ خود بی جے پی اقتدار والی ریاست مدھیہ پردیش کئی معاملات میں گجرات سے آگے ہے ۔ ان تمام حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے بی جے پی میں نریندر مودی کے حلقے اور میڈیا گھرانوں کی جانب سے صرف شخصیت پرستی کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے ۔ یہ سب کچھ پیسے کا کھیل ہے اور یہ بدعنوانیوں کو فروغ دینے کا بھی موجب ہوتا ہے جس پر کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں ہے ۔
ذرائع ابلاغ کو چاہئے تھا کہ انتخابات میں عوام کو درپیش مسائل کو پیش کیا جاتا ۔ اقتدار کی دعویدار جماعتوں اور مقامی سطح پر امیدواروں کے ماضی کے کاموں اور مستقبل کے منصوبوں کو پیش کیا جاتا ۔ انہیں فیصلہ کرنے میں اپنی جانب سے مواد فراہم کرتے ہوئے مدد کی جاتی ۔ لیکن ایسا کرنے کی بجائے پیسے کے زور پر شخصیت پرستی کو انتہا ء پر پہونچاتے ہوئے جس نریندر مودی کے حق میں جس لہر کا ادعا کیا گیا تھا وہ میڈیا کیلئے درست نہیں ہے ۔ اب ٹائم میگزین کی جانب سے کئے گئے سروے میں اس تمام لہر کی حقیقت بھی کھل گئی اور اب تک جو سروے اور اوپینین پولس کئے گئے تھے ان کی سچائی اور درستگی پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مودی کے حق میں جس لہر کا دعوی کیا جارہا ہے وہ حقیقت میں موجود ہی نہیں ہے ۔ یہ سارا کچھ میڈیا کی جانب سے چلائی جارہی مہم ہے ۔ میڈیا کو اس طرح کی مہم کا حصہ بننے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس طرح سے خود میڈیا کا اثر زائل ہوجائیگا اور اس کی غیر جانبداری مشکوک ہوجائیگی ۔

TOPPOPULARRECENT