Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / مودی لہر کی قلعی کھل گئی ‘ ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو بڑا جھٹکہ

مودی لہر کی قلعی کھل گئی ‘ ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو بڑا جھٹکہ

نئی دہلی 16 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کو آج ضمنی انتخاابت کے نتائج میں اتر پردیش ‘ راجستھان اور گجرات جیسی اپنے اثر والی ریاستوں میں کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں اسے اپنے قبضہ والی 23 اسمبلی نشستوں کے منجملہ 13 پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ کانگریس نے ان میں سے دو ریاستوں میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے اور بی جے پی کو شکس

نئی دہلی 16 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کو آج ضمنی انتخاابت کے نتائج میں اتر پردیش ‘ راجستھان اور گجرات جیسی اپنے اثر والی ریاستوں میں کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں اسے اپنے قبضہ والی 23 اسمبلی نشستوں کے منجملہ 13 پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ کانگریس نے ان میں سے دو ریاستوں میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے اور بی جے پی کو شکست دی ہے ۔ ضمنی انتخابات کو وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کی مقبولیت کا امتحان سمجھا جارہا تھا اور اس میں اسے عوامی موڈ کا پتہ چل گیا ہے ۔ بی جے پی کو گذشتہ مہینے بہار ‘ اتر کھنڈ ‘ کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں ہوئے ضمنی انتخابات میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس بار بھی اسے توقعات کے برعکس نتائج کا سامنا کرنا پڑآ ہے ۔ ملک کی نو ریاستوں میں 32 اسمبلی نشستوں میں ووٹوں کی گنتی کا کا م آج ہوا تھا ۔ بی جے پی نے 12 حلقوں پر کامیابی حاصل کی ‘ کانگریس کو سات پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ سماجوادی پارٹی کو آٹھ حلقوں میں کامیابی ملی ۔ تلگودیشم پارٹی ‘ ترنمول کانگریس ‘ آل انڈیا یو ڈی ایف اور سی پی ایم کو ایک ایک نشست حاصل ہوئی جبکہ سکم میں ایک نشست آزاد امیدوار کے حق میں گئی ہے ۔ چھتیس گڑھ میں انتا گڑھ حلقہ اسمبلی کیلئے بھی ووٹ ڈالے گئے تھے تاہم یہاں ووٹوں کی گنتی 20 ستمبر کو ہونے والی ہے ۔ اتر پردیش کے نتائج پر سب کی نظریں تھیں جہاں بی جے پی نے لوک سبھا انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی اور اس کے حوصلے کافی بلند تھے ۔

تاہم اتر پردیش کے نتائج بی جے پی کیلئے ہزیمت سے کم نہیں رہے کیونکہ یہاں اسے اپنے قبضہ والی 10 نشستوں کے منجملہ سات پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اس کے علاوہ اس کی حلیف اپنا دل کی ایک نشست پر بھی سماجوادی پارٹی نے قبضہ کرلیا ہے ۔ اتر پردیش میں ضمنی انتخاب میں بہوجن سماج پارٹی کی عدم موجودگی نے انتخابات میں اصل مقابلہ عملا بی جے پی و سماجوادی پارٹی کے مابین کردیا تھا ۔ سماجوادی پارٹی نے لوک سبھا انتخابات میں اپنی شکست کے بعد شاندار واپسی کی ہے ۔ بی جے پی کو یہاں لو جہاد جیسے مسائل پر مہم کو مرکوز کرنے کا فائدہ نہیں ہوا اور اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ تاہم کانگریس کو یہاں 11 نشستوں پر بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے جہاں اس نے مقابلہ کیا تھا ۔ نتائج سے کانگریس کیلئے واضح ہوگیا ہے کہ یہاں اسے اپنے آپ کو دوبارہ عوام کی توجہ کے قابل بنانے کیلئے ایک طویل جدوجہد کرنی ہوگی ۔ کانگریس نے تاہم راجستھان میں متاثرکن کارکردگی دکھائی ہے جہاں اس نے بی جے پی سے چار کے منجملہ تین نشستیں چھین لی ہیں۔

یہاں بی جے پی کو گذشتہ سال کے اسمبلی انتخاابت میں کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ کانگریس نے گجرات میں بھی نو کے منجملہ تین نشستیں بی جے پی سے چھین لی ہیں۔ یہاں 12 سال میں پہلی مرتبہ مودی کے بغیر بی جے پی نے انتخابات کا سامنا کیا تھا ۔ اتر پردیش کی تمام 11 ‘ گجرات کی 9 اور راجستھان کی چار نشستوں پر بی جے پی کا قبضہ تھا ۔ یہاں ارکان اسمبلی کے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوجانے کے بعد انتخابات کروائے گئے تھے ۔ بی جے پی کی شکستوں پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس اور سماجوادی پارٹی نے آج کہا کہ یہ در اصل فرقہ پرستوں کی شکست ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام نے نریندر مودی حکومت اور بی جے پی کی تقسیم کی سیاست کو مسترد کردیا ہے ۔ بی جے پی نے انتخابات میں اپنی پارٹی کی شکست کو قبول کرلیا ہے اور کہا کہ نتائج اس کی توقعات کے مطابق نہیں ہیں اور عوام نے مقامی مسائل پر ووٹ دیا ہے ۔ بی جے پی کو امید تھی کہ آئندہ مہینے مہاراشٹرا اور ہریانہ میں ہونے والے انتخابات سے قبل یہاں اسے کامیابی ملے گی ۔ بی جے پی کیلئے واحد اچھی اطلاع یہ ہے کہ اس کے امیدوار نے مغربی بنگال میں ایک حلقہ سے 1500 ووٹوں سے کامیابی حاصل کرلی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT