مودی نے گجرات فسادات میں معاونت کی

نئی دہلی ۔ 27 جنوری ۔ (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی حکومت 2002 ء گجرات فسادات کو بڑھاوا اور ہوا دینے کی ذمہ دار ہے جب کہ کانگریس حکومت نے 1984 ء فسادات کو روکنے کی کوشش کی تھی ۔ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج یہ بات کہی لیکن مخالف سکھ فسادات کیلئے معذرت خواہی سے گریز کیا۔ مجوزہ لوک سبھا انتخابات میں وزارت عظمیٰ امیدوار کے طورپر مودی کا ع

نئی دہلی ۔ 27 جنوری ۔ (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی حکومت 2002 ء گجرات فسادات کو بڑھاوا اور ہوا دینے کی ذمہ دار ہے جب کہ کانگریس حکومت نے 1984 ء فسادات کو روکنے کی کوشش کی تھی ۔ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج یہ بات کہی لیکن مخالف سکھ فسادات کیلئے معذرت خواہی سے گریز کیا۔ مجوزہ لوک سبھا انتخابات میں وزارت عظمیٰ امیدوار کے طورپر مودی کا عملاً مقابلہ کرنے والے راہول گاندھی نے کہا کہ وہ مودی سے خوفزدہ نہیں ہے اور انھوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس ہی بی جے پی کو شکست دے گی ۔ نریندر مودی پر راست تنقید کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہاکہ حقیقت تو یہ ہے کہ 1984ء میں بے قصور لوگ مارے گئے ، اسطرح وحشت ناک انداز میں لوگوں کی موت نہیں ہونی چاہئے تھی ۔ لیکن گجرات اور 1984 ء کے واقعات میں فرق یہ ہے کہ ان فسادات میں حکومت گجرات ملوث رہی ۔ راہول گاندھی نے ٹائمس ناؤ کو دیئے گئے انٹرویو میں یہ بات کہی ۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ وہ مودی کے بارے میں یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں جب کہ عدالتوں نے اُنھیں کلین چٹ دی ہے۔

انھوں نے جب گجرات فسادات ہوئے اُس وقت نریندر مودی چیف منسٹر تھے ، حکومت گجرات درحقیقت فسادات کو مزید ہوا دے رہی اور معاونت کررہی تھی ۔ مخالف سکھ فسادات اور گجرات فسادات کے مابین حکومتوں کے رول کا فرق واضح کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ عوام کے قتل عام میں دہلی حکومت ملوث نہیں رہی جبکہ گجرات میں ایسا ہوا۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس حکومت 1984 ء میں فسادات کی معاونت یا اُسے ہوا نہیں دے رہی تھی اُس کے برعکس وہ فسادات کو روکنے کی کوشش کررہی تھی ۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ وہ گجرات فسادات پر نریندر مودی کو کیوں کر نشانہ بناسکتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ نہ صرف وہ بلکہ عوام کی کثیرتعداد نے دیکھا کہ کس طرح حکومت گجرات سرگرمی کے ساتھ فسادات میں ملوث رہی ہے ۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ 1984 ء فسادات کیلئے کیا وہ معذرت خواہی کریں گے تو انھوں نے کہا کہ اُن کا یہ احساس ہے کہ ایسی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ فسادات میں وہ ملوث نہیں رہے اور نہ اس کا حصہ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بعض کانگریسی قائدین جو ان فسادات میں ملوث رہے ہیں انھیں سزاء بھی دی گئی ۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ وزیراعظم منموہن سنگھ کی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ نریندر مودی نے احمدآباد کی سڑکوں پر بے قصور عوام کے قتل عام کی صدارت کی تھی تو انھوں نے اثبات میں جواب دیا ۔ جب راہول گاندھی سے یہ سوال کیا گیا کہ کانگریس کے وزارت عظمیٰ امیدوار بننے سے گریز کے ذریعہ کیا وہ نریندر مودی کاراست سامنا کرنا نہیں چاہتے ؟ تو انھوں نے کہا کہ اس معاملہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ راہول گاندھی کن سے خوفزدہ ہے اور کن سے نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں ہم بی جے پی کو شکست دیں گے اور انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے انھیں اس کا پورا یقین ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس اس جنگ کیلئے تیار ہے اور وہ اسے جیتے گی ۔ عام آدمی پارٹی کے مظاہرہ کے بارے میں انھوں نے کہاکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس پارٹی نے عوام تک کس طرح رسائی حاصل کی ۔ خاندانی سیاست کے بارے میں پوچھے جانے پر راہول گاندھی نے کہا کہ وہ اس کے سخت خلاف ہیں لیکن بی جے پی ، ایس پی ، ڈی ایم کے اور کانگریس ہرجگہ یہی ہورہا ہے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ وہ اپنے خاندانی نام سے فائدہ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے کیونکہ اُنھوں نے اپنی مرضی سے اس خاندان میں جنم نہیں لیا۔

TOPPOPULARRECENT