Thursday , October 18 2018
Home / اداریہ / مودی پر ریمارکس کے اثرات

مودی پر ریمارکس کے اثرات

نمٹ لیں گے سلیقے سے اگر وہ وقت آجائے
مگر اب مصلحت یہ ہے کہ رکھنا ساتھ دشمن کو
مودی پر ریمارکس کے اثرات
وزیراعظم نریندر مودی کی ترقی کا مبدا گجرات ہے۔ یہاں مسلسل 22 سال سے حکومت کرنے والی بی جے پی نے گجرات کو پورے ملک کیلئے ایک ماڈل ریاست کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس پر صدر آر جے ڈی لالو پرساد یادو نے ہمیشہ طنز کیا ہے اور گجرات ماڈل کو تلاش کرنے کا مطالبہ کرکے مودی پر نکتہ چینی کی ہے۔ گجرات اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ کی رائے دہی اور عوام کے رجحانات کے بعد سیاسی قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہونا ایک فطری امر ہے۔ کانگریس نے گجرات میں مخالف حکمرانی لہر لانے کی کوشش کی تھی اور اس میں کامیاب بھی دکھائی دے رہی تھی لیکن کانگریس کے بعض قائدین نے حالیہ دنوں میں بلکہ عین رائے دہی سے دو دن قبل وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف سخت ریمارک کرکے عوام کے ذہن کو بی جے پی کی جانب موڑنے کا کام کیا ہے۔ مودی پر کانگریس کے سینئر لیڈر منی شنکر ایئر کا ریمارک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ثابت ہوا۔ یہ ریمارک بی جے پی کیلئے عین رائے دہی کے موقع پر ایک نعمت سے کم نہیں تھا۔ پارٹی کے نائب صدر کی حیثیت سے راہول گاندھی نے گجرات میں نریندر مودی کی ساکھ کو کمزور کرنے میں بڑی حد تک کامیاب کوشش کی تھی اور نوٹ بندی، جی ایس ٹی سے ناراض و پریشان گجرات کے تاجر طبقہ کو کانگریس کا حامی بنانے میں بڑی محنت سے کام لیا تھا مگر پارٹی کے سینئر قائدین کی بے موقع بے محل بیان بازی نے کانگریس کی امیدوں پر ضرب لگائی ہے۔ اگرچیکہ مودی کو تنقید کا نشانہ بنانا ایک انتخابی عمل کا حصہ تھا، جواب میں مودی نے بھی کانگریس کے قائدین پر نکتہ چینی کی ہے مگر جب تنقید اور ریمارک کا معیار نیچے گرادیا جائے تو یہ قابل مذمت ہوتا ہے۔ مودی نے ان پر تنقید کرنے والوں کے بارے میں جوابی حملے کئے ہیں۔ ان کے خلاف بیہودہ زبان استعمال کرنے والے قائدین کی انہوں نے فہرست پیش کرتے ہوئے ٹوئیٹ بھی کیا جو گجرات اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ کیلئے یہ ٹوئیٹ رائے دہندوں کی رائے بدلنے کا کام کرسکتا ہے۔ گجرات میں اب پہلے مرحلہ کی رائے دہی مکمل ہوچکی ہے۔ اس میں کانگریس کے حق میں بہتر ووٹ آنے کی امید پیدا ہوئی تھی مگر مودی کو ’’نیچ‘‘ کہنے کے بعد کانگریس کے بارے میں گجرات کے عوام کی رائے بدل بھی سکتی ہے۔ 2014ء کے لوک سبھا انتخابات کے دوران بھی کانگریس قائدین نے خاص کر سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی نے مختلف عنوانات سے مودی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجہ میں عوام پر کانگریس حکومت کیلئے ایک منفی اثر پیدا ہوا۔ مودی کو اب ایک بار پھر گجرات کے عوام کے سامنے کانگریس قائدین کی متعصب ذہنیت کا ڈھنڈورہ پیٹ کر ووٹ مستحکم کرنے کا موقع دینے والے کانگریس قائدین کو بہت بڑا پچھتاوا ہوگا اگرچیکہ کانگریس نے منی شنکر ایئر جیسے پارٹی کے سینئر قائد کو پارٹی سے معطل کردیا ہے کیونکہ ان کا مودی کے خلاف متنازعہ ریمارک ’’نیچ‘‘ تمام سیاسی حلقوں کیلئے سخت ناپسندیدہ بن گیا۔ سیاسی فائدہ کے بجائے نقصان کا باعث بننے والے ریمارکس نے کانگریس کو لمحہ آخر میں کمزور بنانے کا کام کیا ہے۔ گجرات میں ایک حکمراں پارٹی کو اس کی 22 سالہ کارکردگی کا حساب مانگ کر بیمار کردیا گیا تھا لیکن اب بی جے پی ایک بیمار ہوکر بھی صحتمند ہوگئی اور صحتمند کانگریس کو اچانک بیمار بنادیا ہے۔ کانگریس اپنے ہی قائدین کی بے وقت اور بے موقع بیان بازی سے ایک لطیفہ بن چکی ہے سیاسی گوشوں خاص کر بی جے پی کے مایوس حلقوں میں خوشی پیدا ہوئی ہے۔ دراصل گجرات میں بی جے پی کی شکل میں ایک ایسا ٹولہ کام کررہا تھا جس کے اندر کئی تعصب پسند افراد تھے۔ ان کے پاس سارے گجراتی عوام کے نوالے تھے۔ اب یہی نوالے اسمبلی انتخابات میں اگر دوبارہ منہ کھول دیتے ہیں تو کانگریس کی ساری محنت رائیگاں ہوگی۔ محض ایک ریمارک سے پارٹی کا موقف کمزور ہوسکتا ہے تو ایسے جملے بولنے سے پہلے سوچنا ضروری ہے۔ بعض اوقات کثرت گریہ بھی نقصاندہ ہوتی ہے اور اکثر انسانی فطرت ہے کہ جب اس کا کام خراب ہوتا ہے تو وہ دوسروں کا کام بھی خراب کرنے میں دیر نہیں لگاتا اور سامنے والے کو ناکام کرنے کیلئے عقل کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا جیسا کہ کانگریس قائدین نے بی جے پی کو کوسنے کیلئے عقل سے کام ہی نہیں لیا ورنہ آج کانگریس اور اس کے قائدین پر جو آفت آن پڑی ہے وہ ٹل گئی ہوتی۔ کانگریس قائدین اس طرح گجرات میں خود ہی پھونکیں مار مار کر اپنا نشیمن پھونک ڈالیں گے تو راہول گاندھی کی مودی کے خلاف شروع کردہ مؤثر مہم بے اثر ہوجائے گی۔ بہرحال کانگریس نے مودی کو نیچ آدمی کہنے پر منی شنکرایئر کو معطل کردیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ آیا بی جے پی بھی راہول گاندھی کو ’’پپو‘‘ اور علاء الدین خلجی کی اولاد کہنے والوں کو معطل کرے گی؟
حماس ۔ فتح مشترکہ جدوجہد
فلسطینی اتھاریٹی چیرمین محمود عباس اور خالد مشعل کے حماس نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے متنازعہ فیصلہ کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنے کا اعلان کیا ہے تو یروشلم پر جارحانہ امریکی فیصلہ کو ناکام بنانے میں وہ کس حد تک کامیاب ہوں گے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر اس وقت مشرق وسطیٰ کو شعلوں کی نذر کرنے والے متنازعہ اقدام پر ساری دنیا کے چند مسلم حکمرانوں نے آواز اٹھائی ہے جن کی آواز سن کر سنی ان سنی کردی جاتی ہے تو پھر آنے والے دنوں میں مسلم دنیا کے اندر جس طرح کی مایوسی پیدا ہوگی وہ افسوسناک ہوگی۔ حماس نے اسرائیل کے خلاف انتفاضہ تحریک شروع کرنے کی دھمکی دی ہے لیکن اس تلخ حقیقت کو فراموش نہیں کیا جانا چاہئے کہ سرزمین فلسطین پر انتفاضہ تحریک نے فلسطینیوں کو ہی لہولہان کردیا تھا۔ اس تحریک کا اسرائیل پر کوئی اثر نہیں پڑا بلکہ ہنستے ہنستے فلسطینیوں کو اسرائیل کی توپوں کے سامنے کھڑا کردینے سے یہودی فوج کے آگے ہنستے عوام لقمہ اجل بنادیئے گئے تھے۔ انتفاضہ تحریک کے پہلے مرحلہ سال 2000 میں ساری دنیا نے اسرائیلی درندہ صفت فوج کی گولیوں کی بوچھار کے سامنے ایک بے بس فلسطینی باپ کو اپنے بیٹے کی جان بچانے کی کوشش میں تڑپتے ہوئے دیکھا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی جارحیت کی مذموم کارروائیوں کی طویل داستانیں ہیں ایسے میں فلسطینیوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ حماس اور فتح گروپ کو اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کو قطعیت دینے کی ضرورت ہے۔ حکمت عملی کے بغیر صرف جذباتی تحریکوں سے اسرائیل کو سبق سکھایا نہیں جاسکے گا۔

TOPPOPULARRECENT