Monday , November 20 2017
Home / سیاسیات / مودی پہلے آر ایس ایس ۔ بی جے پی ورکرس کوتشددسے روکیں

مودی پہلے آر ایس ایس ۔ بی جے پی ورکرس کوتشددسے روکیں

یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم کا خطاب مایوس کن ۔ اپوزیشن جماعتوں کا شدید رد عمل

نئی دہلی 15 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی کے یوم آزادی خطاب پر اپوزیشن جماعتوں نے تنقید کی ہے اور کانگریس نے کہا کہ یہ س سے مایوس کن خطاب رہا ہے جبکہ بائیں بازو کی جماعتوں نے کہا کہ اس میں کوئی بھی شاندار بات نہیںہے ۔ کانگریس ترجمان آنند شرما نے کہا کہ مودی نے گورکھپور سانحہ پر کسی احساس کا اظہار نہیں کیا ہے جہاں معصوم بچے سرکاری دواخانے میں فوت ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو ان اموات کو قومی سانحہ قرار دینے کی بجائے اپنی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کرنا چاہئے تھا ۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا یوم آزادی خطاب انتہائی مایوس کن رہا ہے ۔ تین سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ وہ انتخابی وعدوں کی تکمیل میں اپنی حکومت کی ناکامی کا اعتراف کرتے خاص طور پر نوجوانوں ‘ کسانوں اور پسماندہ طبقات سے کئے گئے وعدوں کی عدم تکمیل کا تذکرہ کرتے ۔ کشمیریوں کو گلے لگانے سے متعلق ریمارک پر انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں کشمیریوں کو گلے لگانے سے روکا نہیں ہے ۔ انہیں چاہئے کہ وہ تمام طبقات سے بات کریں اور قومی اتفاق رائے پیدا کریں۔ سی پی آئی کے نیشنل سکریٹری ڈی راجہ نے کہا کہ مودی کی تقریر میں کچھ بھی نیا نہیں تھا اور الزام عائد کیا کہ جب انہوں نے کشمیریوں کو گلے لگانے کی بات کی تو اس میں کوئی جذبہ نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس تنازعہ کے فوجی حل میں یقین رکھتی ہے لیکن وہ کشمیریوں کو گلے لگانے کی بات کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔ نیشنل کانفرنس کے ورکنگ صدر عمر عبداللہ نے مودی کے ریمارکس پر ٹوئیٹ کیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ گولی اور گالی سے مسئلہ حل نہ ہونے کے ریمارکس میں دہشت گردوں اور فوج دونوں کا احاطہ کیا گیا ہو۔ مذہب کے نام پر تشدد نا قابل قبول ہونے مودی کے ریمارکس پر ڈی راجہ نے کہا کہ وزیر اعظم کو پہلے آر ایس ایس بی جے پی کارکنوں کو کہنا چاہئے کہ وہ فرقہ وارانہ حملوں میں ملوث ہونا ترک کریں۔ آنند شرما نے کہا کہ وہ نہیں سمجھ سکتے کہ وزیر اعظم یا وزیر داخلہ کو ملک میں تشدد اور ڈر کا ماحول پیدا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے سے کس نے روکا ہے ۔ اس طرح کی تنظیموں یا افراد کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کی جاتی ۔ ڈی راجہ نے کہا کہ مودی نے ملک میں نوجوانوں کیلئے روزگارکے مواقع نہ ملنے کے مسئلہ پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے ۔ آنند شرما نے کہا کہ مودی نے دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب وہ روزگار فراہمی کے مسئلہ پر لب کشائی ہی نہیں کر رہے ہیں۔ ہمیں اس پر مودی سے بیان کی امید تھی لیکن انہوں نے اس کو نظر انداز کردیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT