Tuesday , December 11 2018

مودی کابینہ میں توسیع

خوش ہوتا ہے گر کوئی تو ناراض بھی کوئی ہوتا ہے ہر ایک کو خوش کردینا تو انسان کے بس کی بات نہیں مودی کابینہ میں توسیع

خوش ہوتا ہے گر کوئی تو ناراض بھی کوئی ہوتا ہے
ہر ایک کو خوش کردینا تو انسان کے بس کی بات نہیں
مودی کابینہ میں توسیع
وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے 21 نئے وزراء کو شامل کیا ہے۔ نئی ریاست تلنگانہ کو نمائندگی دیتے ہوئے لوک سبھا حلقہ سکندرآباد سے منتخب بنڈارو دتاتریہ کو آزادانہ چارج کے ساتھ مملکتی درجہ دیا گیا ہے۔ بنڈارو دتاتریہ کو تلنگانہ کی نمائندہ شخصیت قرار دیا جاتا ہے۔ نئی ریاست کے لئے مرکز میں ان کی موجودگی سے مثبت فیصلوں و پالیسیوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔ مودی نے اپنی کابینہ میں پہلی مرتبہ گوا کو بھی نمائندگی دی ہے۔ 1987ء میں گوا کو ایک ریاست کا درجہ ملنے کے بعد سے مرکز میں نمائندگی حاصل نہیں تھی مگر مودی حکومت میں گوا کی بھی شکایت دور ہوگئی ہے۔ اُترپردیش اور بہار سے تعلق رکھنے والے قائدین کو مودی کابینہ میں غلبہ حاصل ہے ، جبکہ کیرالا کو بری طرح نظرانداز کردیا گیا۔ مئی میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد 45 کابینی وزراء کے ساتھ حکمرانی کرنے والے نریندر مودی نے اپنی کابینہ کی تعداد 66 تک بڑھالی ہے تو قومی سطح پر کام کاج کی تقسیم اور عوامی خدمات کے لئے کئے جانے والے اقدامات میں آسانی ہوگی۔ مودی کابینہ میں مسلم نمائندگی صفر ہے۔ مختار عباس نقوی کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے مگر انہیں ایک نئے رکن پارلیمنٹ بابل سپریو کے مقابل کم تر درجہ کا قلمدان دیا گیا۔ شیوسینا کے ساتھ مسلسل توہین آمیز رویہ رکھنے والی مودی حکومت میں مسلم نمائندگی کو بھی نظرانداز کرنے پر تنقیدیں ہوں گی۔ وزیراعظم نے اتوار کو کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے یہ پیام دینے کی کوشش کی ہے کہ ان کی حکومت ہر دن کام کرے گی یعنی 24×7 کام کے دن ہوں گے۔ اس توسیع کے ساتھ ہی مودی کو بیرونی دورہ کرنا اور طوفانی انتخابی مہم میں بھی حصہ لینا ہے۔ نریندر مودی کے اب تک اپنی حکومت کو ایک اختیار کل قیادت کی حامل سرکار کے طور پر چلایا ہے۔ وزراء کے انتخاب میں بھی بظاہر انہوں نے خود کے فیصلوں کو افضلیت دی ہے۔ وزیراعظم کی اہلیت اور فیصلہ سازی کے عمل میں اختیار کل ہونے کا تاثر 25 سال بعد بحال ہوا ہے۔ گزشتہ 25 سال کے دوران ایک کمزور قیادت کی وجہ سے قومی سطح پر فیصلہ سازی کا محور منقسم ہوچکا تھا۔ مخلوط حکمرانی کے دور میں وی پی سنگھ، دیوے گوڑا اور آئی کے گجرال کے تعلق سے کہا جاتا تھا کہ یہ لوگ خود سے فیصلے کرنے سے قاصر تھے۔ کانگریس دور میں وزیراعظم منموہن سنگھ کے تعلق سے بھی یہ کہا جارہا تھا کہ وہ سونیا گاندھی کے اشاروں پر عمل کرتے ہیں لیکن گزشتہ 25 سال کی کمزور قیادت کے بعد ہندوستانی عوام نے بی جے پی کو ووٹ دے کر ایک مضبوط لیڈر کو منتخب کیا ہے تو ایسی مضبوط قیادت کی جانب سے ہونے والے فیصلوں سے عوام کے مسائل کس حد تک دور ہوں گے، آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ مودی بھی کسی کے اشاروں پر کام کرنے والے لیڈر سمجھے جارہے ہیں۔ آر ایس ایس کی مرضی و منشاء کے بغیر وہ بھی کوئی قدم نہیں اٹھاسکتے۔ منوہر پاریکر کو کابینہ میں شامل کرنے کا فیصلہ ہو یا مہاراشٹرا میں چیف منسٹر کے لئے دیویندر فرنویس کے انتخاب میں آر ایس ایس کی منظوری ہی اصل اہمیت کی حامل ہے کیونکہ دونوں آر ایس ایس سے دیرینہ وابستگی رکھتے ہیں۔ نریندر مودی نے اپنے طرز حکمرانی اور کام کاج سے یہ اشارہ دیا ہے کہ حلیف پارٹیوں کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ واجپائی حکومت کی طرح ان کی حکومت کسی حلیف پارٹی کی حمایت کی مرہون منت نہیں ہے، اس لئے انہوں نے شیوسینا کو اس کا راستہ دکھاتے ہوئے انیل دیسائی کو کابینہ میں شامل نہیں کیا۔ اس سے شیوسینا نے اپنی تضحیک محسوس کی ہے۔ نریندر مودی نے اپنی کابینہ میں ایسے وزراء کو شامل نہیں کرنا چاہتے تھے جو حکومت کو ’’اے ٹی ایم‘‘ مشین متصور کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ منموہن سنگھ بھی 2009ء میں اپنی وزارت میں اے راجہ کو شامل نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن ڈی ایم کے پارٹی کے دباؤ کے باعث ایک داغدار لیڈر کو کابینہ میں جگہ دینی پڑی تھی۔ مودی نے شیوسینا کے رکن کو نمائندگی نہ دے کر سخت گیر موقف کو واضح کردیا ہے۔ اس طرح مودی نے وزیراعظم کے اختیار تمیزی کا درست استعمال کیا ہے۔ ان کی کابینہ میں شامل کئے گئے نئے چہروں میں منوہر پاریکر، سریش پربھو، راجیو پرتاپ روڈی اور جینت سنہا کو ایک عام سیاست داں متصور نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان کی صلاحیتوں کا ایک اپنا ریکارڈ پایا جاتا ہے۔ عوامی بہبود کے لئے ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے تو ایک اچھی حکمرانی کا فریضہ پورا ہوگا۔ اس توسیع کے ساتھ یہ واضح تو ہوگیا ہے کہ حکومت کا پورا کنٹرول مودی کے پاس ہی ہوگا لیکن پارٹی میں اقرباء پروری کو جگہ نہ دینے کا تاثر ختم ہوگیا ہے کیونکہ جینت سنہا کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ یشونت سنہا کے فرزند کی حیثیت سے انہیں ترجیح دی گئی تو مودی کا طرز انتخاب بھی دیگر حکومتوں کی طرح ہی کہلاتا ہے۔ بعض کام منفرد ہوسکتے ہیں۔ مجموعی طور پر ان کی حکومت بھی غلطیوں سے پاک نہیں ہوسکتی۔

TOPPOPULARRECENT