Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / مودی کا اقلیتوں کے تئیں بیان ’’آپریشن کامیاب، مریض فوت‘‘ کے مصداق

مودی کا اقلیتوں کے تئیں بیان ’’آپریشن کامیاب، مریض فوت‘‘ کے مصداق

وزیر اعظم کی زبانی باتوں سے کچھ نہیں ہوگا، رکن راجیہ سبھا ایم اے خان کا ردعمل

وزیر اعظم کی زبانی باتوں سے کچھ نہیں ہوگا، رکن راجیہ سبھا ایم اے خان کا ردعمل
حیدرآباد /18 فروری (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن راجیہ سبھا ایم اے خان نے اقلیتوں کے تعلق سے وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کو ’’آپریشن کامیاب، مریض فوت‘‘ کے مصداق قرار دیا اور کہا کہ صرف زبانی باتوں سے کچھ نہیں ہوگا، بلکہ عملی اقدامات کے ذریعہ ہی اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ صدر امریکہ بارک اوباما کی پھٹکار اور دہلی کے نتائج کے بعد وزیر اعظم کے پیروں تلے زمین کھسک گئی، لہذا انھوں نے مصلحتاً نفرت پھیلانے والوں کو انتباہ دیا، جب کہ کانگریس پارٹی اس کو ’’دیر آید درست آید‘‘ سے تعبیر کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں بی جے پی کی محاذی تنظیموں کی جانب سے لوجہاد، گھر واپسی، سرسوتی وندنا، یکساں سیول کوڈ اور دستور کی تبدیلی پر متنازعہ بیانات دے کر ملک کے پرامن ماحول کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس طرح زہر اگلنے میں ہندوتوا طاقتوں کے درمیان مسابقت جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اور وشوا ہندو پریشد کے صدر پروین توگاڑیہ تمام حدیں پار کرچکے ہیں اور اب بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ بھی ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ترقی کے نام پر ووٹ مانگنے والے مودی نے ہندوتوا تنظیموں کو خفیہ ایجنڈے پر کام کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، جس کے سبب دہلی کے پانچ چرچس پر حملہ کیا گیا اور وزیر اعظم خاموش رہے۔ انھوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک میں پیش آئے ناخوشگوار واقعات پر ردعمل ظاہر کرنے والے مودی نے دہلی اور ملک کی دیگر ریاستوں میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ مسٹر خان نے کہا کہ مسٹر مودی بی جے پی قائد کے ساتھ ساتھ ملک کے وزیر اعظم ہیں، لہذا دستور نے سماج کے تمام طبقات کو جو رعایتیں اور سہولتیں فراہم کی ہیں، ان پر عمل آوری کو انھیں یقینی بنانا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT