Thursday , November 23 2017
Home / مضامین / مودی کا دورۂ اسرائیل باہمی چاہت کیساتھ بہت کچھ آشکار

مودی کا دورۂ اسرائیل باہمی چاہت کیساتھ بہت کچھ آشکار

 

اسلحہ میں ہند۔ اسرائیل تعاون و اشتراک
ہندوستان اور اسرائیل نے سفارتی تعلقات کے 25 سال مکمل کرلئے، اور ان کے درمیان ملٹری روابط اب تک کی طاقتور ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ آج اسرائیل ، روس اور امریکہ کے بعد ہندوستان کو اسلحہ کا تیسرا بڑا سپلائر ہے۔ انڈیا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تجارت بڑھ کر 12,800 کروڑ روپئے سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔

آر پرسنن
وہ ہمیں ملٹری ٹکنالوجی فراہم کرتے ہیں؛ ہم ان کے سٹلائٹس داغتے ہیں۔ گزشتہ 25 برس سے ہند۔ اسرائیل تعلقات اسی طرح کے باہمی اور کچھ حد تک محتاط، شراکت کے ساتھ آگے بڑھتے رہے ہیں۔ لیکن اب اسرائیل زیادہ گہری نوعیت کے روابط چاہ رہا ہے یعنی اسٹرٹیجک پارٹنرشپ جس پر حامی بھرنا مودی کیلئے بہت مہنگا پڑسکتا ہے۔
نریندر مودی کا 4 تا 6 جولائی دورۂ اسرائیل کئی لوگوں کو مایوس کرے گا ، خاص طور پر ہندوستان میں جنھیں عرب دنیا میں برہمی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہندوستان میں بہت سارے لوگوں کی سوچ کے برخلاف عرب لوگ خاموشی سے مودی کی تائید کررہے ہیں۔ دیڑھ ماہ قبل صدر فلسطینی قومی اتھارٹی محمود عباس دہلی میں تھے، جہاں مودی نے اپنے دورہ کے تعلق سے انھیں واقف کرایا۔ اسی طرح وزیر خارجہ سشما سوراج نے جنوری میں اپنے اسرائیل۔ فلسطین سفر کے دوران گوش گزار کردیا تھا۔ مودی کے سفارت کار سعودی عرب کے ساتھ ربط میں ہیں، جو اسرائیل کے ساتھ رازداری سے انٹلیجنس کا تبادلہ اکثروبیشتر امریکہ کے ذریعہ اور حالیہ عرصہ میں ہندوستان کے ذریعہ کرتا رہا ہے۔ ہندوستان کی ایماء پر اسرائیل نے گزشتہ سال ایک ریٹائرڈ سعودی جنرل کا استقبال کیا، جس نے اسرائیل کے ساتھ سلطنت کے روابط میں تبدیلی لانی چاہی۔ اسرائیلی ڈرون طیارے جو شیعہ عسکری گروپ حزب اللہ کے خلاف مؤثر ثابت ہوئے ہیں، خفیہ طریقے سے جنوبی افریقہ کے ذریعہ سعودی عرب کو پہنچائے جارہے ہیں۔ سعودیوں کی جانب سے ان کا استعمال خلیج فارس میں ایرانی جنگی جہازوں اور یمن میں متحارب حوثی باغیوں کی جاسوسی کیلئے ہوتا ہے۔
مغربی ایشیا میں نئے بحرانوں میں نئے گروہ تشکیل پارہے ہیں۔ پرانا فلسطینی مسئلہ شاید ہی ان میں موضوع بحث ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ یہودی لوگوں کیلئے وطن کے 1917ء میں آرتھر بالفور کے تاریخی ’اعلان‘ کے سو سال کی (یہودیوں کی طرف سے) کوئی یادگاری تقریب یا (مسلمانوں کی جانب سے) کچھ مذمت نہ ہوئی۔ اور نا ہی 1917ء میں یروشلم پر (مسلم حکمرانی کے آٹھ صدیوں بعد) ایک عیسائی کمانڈر کے ذریعہ قبضہ کی صدسالہ یاد منائی جارہی ہے۔ عیسائی کمانڈر نے ہندوستانی مسلمانوں اور ہندوؤں کی آرمی کی قیادت کرتے ہوئے اپنا مفوضہ کام انجام دیا اور یہ خطہ یہودیوں کو اپنا وطن بنانے کیلئے سونپ دیا۔

مغربی ایشیا کی نئی سیاست میں دوستوں اور دشمنوں کا تعین اب صدیوں پرانی سیاسی تاریخ کے ذریعہ نہیں ہوتا ہے، نا ہی اقوام متحدہ میں (فلسطین کے حق میں یا خلاف) ووٹنگ کی تاریخ سے ہوتا ہے۔ لہٰذا، فلسطین کیلئے ہندوستان کی دیرینہ حمایت اب اسرائیلیوں کے پاس کوئی مسئلہ نہ رہی؛ اور نا ہی ہندوستان کی اسرائیل کے ساتھ کھلی دوستی فلسطینیوں، یا سنی عرب سلطنتوں اور حکمراں شیخوں کی عملداریوں کے پاس کوئی مسئلہ رہا ہے۔ نئے مغربی ایشیائی بحران میں اسرائیل اب سبب نہیں رہا، اور فلسطین مزید کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
مغربی ایشیا والوں کو اب نئے نئے بحرانوں سے نمٹنا ہے۔ ان میں سے ایک سنی ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا ساری عراقی۔ شامی پٹی میں اُبھرنا ہے، جس کے تعلق سے کئی اسرائیلیوں کا ماننا ہے وہ شکست کے دہانے پر ہے۔ دیگر بحران گزشتہ چند سال سے مستقل فکرمندی بنا ہوا ہے اور یہ ناقابل قیاس عرب بہاریں ہے جو نئی شورشوں کو جنم دے رہی ہیں۔ لیکن ’واضح اور موجودہ خطرہ‘ تیسرا بحران ہے: ممکنہ طور پر نیوکلیر اسلحہ سے لیس شیعہ ایران کا جنگی نقطہ نظر سے دوبارہ سر اُبھارنا، اور کئی نئی شورشوں کو اس کی مشتبہ تائید و حمایت۔ اسرائیل ملٹری کے انٹلیجنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ میجر جنرل ہرزیل ھلیوی کا کہنا ہے کہ ایران حزب اللہ کو سالانہ 75 ملین ڈالر دے رہا ہے، (فلسطینی سنی گروپ) حماس کو 50 ملین ڈالر اور تمام جہادیوں کو 70 ملین ڈالر ۔ حماس بدستور مسئلہ ہے لیکن زیادہ تر اسرائیلیوں کا ماننا ہے کہ اس سے نمٹا جاسکتا ہے۔ اسرائیل کیلئے زیادہ بڑا مسئلہ حزب اللہ ، شام و لبنان کی دیگر شورشیں اور آخر میں ایران ہے۔ اسرائیل کے دہشت گردی کے بارے میں نامور اسکالر ایلی کرمن کے مطابق حوثی شورش پسند جن سے یمن میں سعودیہ والے لڑرہے ہیں، اور حزب اللہ جو لبنان سے اسرائیل کے خلاف جنگ کررہا ہے، یہ سب کی یکجا ٹریننگ ایران، لبنان اور یمن میں ہوئی ہے۔ نیا حوثی لیڈر عبدال ملک ال حوثی یمن میں سعودی جنگ کے پس پردہ اسرائیل اور امریکہ کارفرما ہونے کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اویگدر لیبرمن کا بھی کچھ اسی طرح کہنا ہے کہ حزب اللہ حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جدید ہتھیار شام سے لبنان کو اسمگل کررہا ہے۔ لیبرمن اور کرمن جیسے ماہرین مانتے ہیں کہ اسرائیل کیلئے نیا خطرہ اور ساتھ ہی مغرب کیلئے، سعودی عرب اور دیگر سنی مملکتوں کیلئے خطرہ ایران، حوثیوں اور حزب اللہ کے گروہ سے ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہندوستان اس فارسی عہد شکنی سے مطمئن نہیں ہے۔

مغربی ایشیا سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد سے تبدیل ہوا ہے۔ وہ جو مودی کے دورہ پر ہنوز عرب برہمی کی توقع رکھتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ عرب دنیا کے شناختی لیڈر یاسر عرفات ہی تھے جنھوں نے 25 سال قبل وزیراعظم نرسمہا راؤ کو اسرائیل کے ساتھ مل جانے کیلئے کہا تھا۔ انھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ایک مسلم سفارت کار یعنی اُس وقت ہندوستان کے سفیر برائے امریکہ عابد حسین نے نرسمہا راؤ کیلئے بنیادی کام انجام دیا تھا۔ اسرائیل تب ہی سے اور حتیٰ کہ پہلے سے ہندوستان کا خفیہ دوست رہا ہے۔ جہاں اندرا گاندھی نے اپنے ریسرچ اینڈ انالیسیس ونگ کے جاسوسوں کو موساد کے ساتھ ٹریننگ کیلئے بھیجا تھا اور خفیہ ملٹری سامان حاصل کیا، وہیں وزیراعظم دیوے گوڑا نے نہ صرف نتن یاہو سے ڈاؤس میں ملاقات کئے اور صدر ایزر ویزمن کی دہلی میں میزبانی کی بلکہ گوڑا نے جہازبردار طیارہ شکن میزائل بارک۔1 بھی خریدا جو ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان پہلی کھلی ملٹری معاملت ہوئی۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے ڈیفنس سائنس کے سربراہ اے پی جے عبدالکلام کو اسرائیل میں ایروناٹکس کی فوجی معلومات حاصل کرنے اور پھر اپنے سربراہ فضائیہ ایس کے سرین کو بھیجا۔ یہ دونوں واپس ہوئے اور ’سرچر ‘ کی خواہش کئے جو غیرانسان بردار فضائی گاڑیاں اور سینسرس ہیں۔

وزیراعظم اے بی واجپائی نے اپنے نائب ایل کے اڈوانی اور وزیر دفاع جسونت سنگھ کو بھیجتے ہوئے باہمی روابط کو سیاسی قوت عطا کی۔ جب انڈین آرمی کو کرگل چوٹیوں پر نظر رکھنے میں دشواری ہوئی کیونکہ ہتھیار کا پتہ چلانے والے راڈارس نہ تھے، اسرائیل نے اپنے نہایت طاقتور سٹلائٹ ٹیلی اسکوپ امیجری فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ اس جنگ کے فوری بعد فوجی سربراہ وی پی ملک نے اسرائیل کا سفر کیا۔ تب سے معاملتوں کا سلسلہ چل پڑا، جو اسرائیلی انجینئرس کیلئے نئے چیلنجس ثابت ہوئے۔ پہلی بار انھیں روس کے تیار کردہ یا ڈیزائن کئے گئے پلیٹ فارمس پر کام کرنے کیلئے کہا گیا۔ اوائل 2000ء میں انڈین ایرفورس نے اسرائیل سے 1 بلین ڈالر کی معاملت طے کی کہ اس کے راڈارس کو تین نہایت بڑے Ilyushin-76 ٹرانسپورٹرس پر لگائے اور انھیں فالکن اَواکس جیسے بنائیں۔ اگلی بڑی معاملت 50 ڈرون طیاروں کیلئے 220 ملین ڈالر کی رہی جو 2005ء میں منموہن سنگھ حکومت نے طے کی، جس کے بعد 2.5 بلین ڈالر کی بڑی معاملت ہوئی کہ ہندوستان کی ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) کے ساتھ مشترکہ طور پر ایک کمپلیکس ایئر ڈیفنس سسٹم آنے والے میزبائلوں اور جنگی طیاروں کو مار گرانے کیلئے تعمیر کیا جائے۔
کئی لوگوں کے ایقان کے برخلاف یہ منموہن سنگھ ہی تھے جنھوں نے اس رشتہ کو جنگی نقطہ نظر سے طاقت عطا کرنے کی کوشش کی جو اسلحہ معاملتوں تک محدود تھا۔ مودی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد سے جو دفاعی معاملتوں پر دستخط ہوئی ان میں سے کئی سابقہ حکومتوں کی جانب سے کی گئی بات چیت والی ہیں۔ ہندوستان کے مغرب کی طرف آبی حدود میں پاک۔ چین اتحاد بننے کے تعلق سے فکرمند ہوکر انھوں نے ہندوستانی جنگی جہازوں کو سارے مغربی ایشیا میں بندرگاہوں کو چوکس کرنے کیلئے بھیجا، بشمول حائفہ جو اسرائیلی بندرگاہی ٹاؤن ہے جس پر پہلی جنگ عظیم میں ہندوستانی جوانوں نے قبضہ کرلیا تھا۔ باہمی تعلقات میں اسٹرٹجک اُچھال 26/11 ممبئی حملوں کے بعد آیا۔ چونکہ یہودی شاباد ہاؤس کو نشانہ بنایا گیا، اسرائیل نے مدد کی پیشکش کی۔ اور کچھ تبدیلیوں کے بعد ڈاکٹروں اور پیرامیڈکس کی ٹیم ہندوستان آئی۔ ممبئی حملوں کے اندرون چند ہفتے ہندوستانی بحریہ نے ہاربر ڈیفنس سسٹم کی تجویز پیش کی اور منموہن سنگھ حکومت نے اسے وقت ضائع کئے بغیر منظوری دے دی۔ زیرآب پیچیدہ ہاربر ڈیفنس اینڈ سرویلنس سسٹم تعمیر کرنے کیلئے لگ بھگ ایک دہا لگا، جسے اسرائیل کے ایلٹا کی جانب سے تیار کیا گیا، اور آخرکار اس سال کے اوائل چالو ہوگیا ہے۔ ممبئی حملوں کے بعد سے باہمی دورے وقفے وقفے سے ہونے لگے، یہ اور بات ہے کہ حکومت ان کے تعلق سے بات کرنے سے پس و پیش کرتی رہی ہے۔ ایک نمایاں دورہ اسرائیل کے ڈیفنس چیف آف اسٹار لیفٹننٹ جنرل گابی اشکینازی کا ڈسمبر 2009ء میں ہوا۔

مودی نے اپنی پیشرو حکومتوں کا محتاط پن ترک کردیا اور وہ کھُل کر سامنے آگئے ہیں۔ ڈاکٹر سنگھ نے خیال پیش کیا تھا کہ 8,000 اسپائک توپ شکن میزائل اور 320 لانچرس خریدے جائیں، مودی نے 1 بلین ڈالر میں اس معاملت کو طے کردیا۔ 2015ء میں انھوں نے انڈین ایئرفورس کو 10 ہیران ڈرون طیارے خریدنے کی منظوری دی، جو حالیہ دورے کے بعد عنقریب حوالے کئے جانے کا امکان ہے۔ حلف برداری کے اندرون ایک ماہ مودی نے ایک ڈیفنس ٹیم کو بھیج کر Swordfish راڈار ٹریکرس اور ٹھیک نشانہ لگانے والی توپیں چاہے تھے۔ آج صرف دفاعی معاملتیں ہی تقریباً ایک بلین ڈالر سالانہ کی قدر رکھتے ہیں، جس نے ہندوستان کو اسرائیل کا سب سے بڑا ملٹری کسٹمر ، اور اسرائیل کو ہندوستان کا تیسرا بڑا سپلائر بنایا ہے۔ اپریل میں معلنہ 2 بلین ڈالر کی معاملت اسرائیل کی تاریخ میں سب سے بڑا ڈیفنس کنٹراکٹ ہے جو ہندوستانی فوج اور بحریہ کیلئے اوسط فاصلے کے طیارہ شکن اور میزائل شکن سسٹمس کیلئے طے کیا گیا ہے۔ کئی دیگر معاملتوں پر دستخط ہوچکے یا ہونے والے ہیں۔
ہندوستان کو اس کی خواہش کے ساتھ تمام تر اسلحہ سے نوازنے کے بعد اسرائیل مودی سے کیا چاہتا ہے؟ جہاں اسرائیل نے فلسطینیوں کے ساتھ ہندوستان کے روابط کے تعلق سے سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے، وہیں اسے ایران کے ساتھ ہندوستان کے روابط زیادہ سمجھ نہیں آئے ہیں۔ اسرائیلیوں کو ناراضگی ہے کہ ہندوستان نے اپنے مسلح افواج کو اسرائیلی فورسیس کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں میں شامل ہونے کی اجازت دینے سے مسلسل انکار کیا ہے، جبکہ ہندوستانی بحریہ کو ایرانی نیوی کے ساتھ مشق کرنے میں کچھ عار محسوس نہیں ہوا ہے۔ نیز ہندوستان ، اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے اسٹرٹجک مذاکرات میں شامل ہونے کے دباؤ کی مزاحمت کرتا آیا ہے، حالانکہ بعض چھوٹی مملکتوں جیسے سیچلس اور منگولیا کے ساتھ مذاکرات ہورہے ہیں۔ صدر اسرائیل۔ انڈیا فرینڈشپ اسوسی ایشن انات برنسٹین ریچ نے کہا: ’’ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان اسٹرٹجک پارٹنر بن جائے۔‘‘
سابق وزیر دفاع موشے یعلون کے مطابق مودی پر دباؤ رہے گا کہ سنی عرب مملکتیں جو اسرائیل سے قریب تر ہورہی ہیں، اُن کے ساتھ ہندوستان کے اثرورسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے انھیں ایسے اتحاد کے شراکت دار بننے کی ترغیب دیں جو ایران زیرقیادت شیعہ دہشت گردی کو قابو میں کرسکے۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ آیا مودی ان تمام تر مخالف ایران باتوں سے متزلزل ہوجائیں گے جو یہودیوں اور اعتدال پسند سنیوں کو یکجا کررہی ہے، اور جسے ظاہر طور پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سرپرستی حاصل ہے۔ تاہم اس طرح کا اتحاد کارکرد ہونے کے تعلق سے تک تمام گوشے مطمئن نہیں ہیں۔ ہرزلیا کانفرنس میں بعض مغربی مفکرین نے مختلف رائے پیش کی ہے۔
اس تمام میں سنی اکثریتی پاکستان سے بدستور درپیش خطرہ کا کہیں ذکر نہیں آیا۔ اسرائیل میں اسٹرٹجک موضوع پر کسی بھی بات چیت میں پاکستان کا عنصر شامل نہ ہوا، جسے مودی دہشت گردی کا منبع قرار دیتے آئے ہیں۔ علاوہ ازیں، جب تک پاکستان دشمن برقرار رہے، ہندوستان کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کیلئے ایران کی بندرگاہوں اور شاہراہوں پر انحصار کرنا پڑے گا۔ مختصر یہ کہ ہندوستان کو نئے شراکت داروں کے ساتھ وہی پرانا معاملہ کرتے رہنا پڑے گا۔ گزشتہ 25 برسوں میں ہندوستان بدستور سیاسی طور پر عربوں سے جبکہ ملٹری وجوہات کے ساتھ اسرائیل سے جُڑا رہا ہے۔ اب سے ہندوستان کو سیاسی طور پر ایران سے اور ملٹری ضروریات کے اعتبار سے اسرائیل کے ساتھ وابستہ رہنا پڑسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT