Monday , June 18 2018
Home / دنیا / مودی کا دورۂ چین کا مرکز توجہ ، معاشی اور تجارتی تعلقات

مودی کا دورۂ چین کا مرکز توجہ ، معاشی اور تجارتی تعلقات

بیجنگ ۔ 11 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے جاریہ ہفتہ دورۂ چین کا مرکز توجہ دونوں ممالک کے برھتے ہوئے تجارتی اور معاشی تعلقات ہوں گے ۔ حالانکہ دونوں ممالک نے حساس مسائل جیسے سرحدی اور دفاعی علاقائی رقابت کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سرحدی مسائل پر دونوں فریقین اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امن اور خی

بیجنگ ۔ 11 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے جاریہ ہفتہ دورۂ چین کا مرکز توجہ دونوں ممالک کے برھتے ہوئے تجارتی اور معاشی تعلقات ہوں گے ۔ حالانکہ دونوں ممالک نے حساس مسائل جیسے سرحدی اور دفاعی علاقائی رقابت کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سرحدی مسائل پر دونوں فریقین اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ امن اور خیر سگالی بحال رہے ۔ سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مودی کے تین روزہ دورۂ چین سے قبل جس کا آغاز 14 مئی سے ہورہا ہے۔ اس بات پر توجہ مرکوز کی جائے گی ۔ عہدیداروں کا خیال ہے کہ چین مودی مجوزہ خط قبضہ کے بارے میں وضاحتوں سے دلچسپی نہیں رکھتا۔ جس کا ت ذکرہ نریندر مودی نے صدر چین ژی جن پنگ کے دورہ کے موقعپر کیا تھا ۔ توقع ہے کہ خط قبضہ کے مسئلہ پر مودی کے دورۂ چین سے قبل وضاحت اور سرحدی مسئلہ کی یکسوئی توقع ہے کہ سرحد کی دونوں جانب جارحانہ طلایہ گردی میں کمی کرے گی ۔ چینی فوجیوں نے لداخ کے علاقہ میں جو دراندازی کی تھی اس نے وزیراعظم چین لی کیخیانگ اور صدر چین ژی جن پنگ کے ہندوستان کے دوروں کے موقع پر گزشتہ دو سال سے اثر مرتب کیا ہے۔ ان واقعات سے مودی گمشتہ سال ژی جن پنگ سے درخواست کرنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ خط قبصہ کے بارے میں وضاحت سرحد پر امن و خیر سگالی بحال کرنے کی کوششوں میں اپنی عظیم حصہ ادا کرے گی ۔ جہاں دونوں ممالک کے فوجی اکثر اپنے دعوؤں میں زور پیدا کرنے کیلئے اکثر متصادم ہوجاتے ہیں۔ اسی مسئلہ پر گزشتہ 18 ویں مرحلہ کے سرحدی مذاکرات کے دوران جو نئی دہلی میں منعقد کئے گئے تھے ، بات چیت کی گئی تھی۔ وزیر خارجہ سشما سوراج اپنے حالیہ دورہ کے موقع پر کہہ چکی ہیں کہ مسئلہ کو آئندہ نسل پر چھوڑنے کے بجائے روایتی طریقوں سے ہٹ کر اس کی یکسوئی کی ضرورت ہے ۔ چین کا کہنا ہے کہ سرحدی تنازعہ صرف 200 کیلو مے ٹر تک محدود ہے جو اروناچل پردیش میں ہے جبکہ ہندوستان کا بیان ہے کہ تنازعہ سرحد کی پوری مغربی سمت کا احاطہ کرتا ہے ۔ خاص طور پر اقصائے چین کا علاقہ جس پر 1962 ء کی جنگ کے بعد قبضہ کرلیا تھا لیکن اختلافات کے باوجود دونوں ممالک سرحدی فوجیوں کے باہمی تعلقات بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے ہیڈکوارٹر کی سطح اور کمانڈر کی سطح پر ہاٹ لائنس کارکرد کردی ہیں۔ دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ اروناچل پردیش میں کمانڈر سکا چوتھا اجلاس منعقد کیا جائے گا ۔ ذرائع کے بموجب اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات میں پیشرفت سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور معاشی و تجارتی مسائل پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔ توقع ہے کہ کئی معاہدوں پر دستخط کئے جائیں گے جبکہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم چین لی کیخیانگ کی 15 مئی کو ملاقات ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT