Saturday , December 15 2018

مودی کا ’’فکسڈ‘‘ انٹرویو ،صحافی کے استعفیٰ پر ہلچل

نئی دہلی ۔ 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) انڈیا ٹی وی ایڈیٹوریل ڈائرکٹر قمر وحید نقوی کے استعفیٰ کے بعد سیاسی حلقوں میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے۔ بی جے پی وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی کے مبینہ ’’فکسڈ‘‘ انٹرویو پر انہوں نے اپنے ٹی وی چینل سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے استعفیٰ دیا تھا۔ کانگریس نے دعویٰ کیا ہیکہ اس سے واضح ہوتا ہیکہ بی جے پی کی جانب سے صحافیوں پر کس حد تک دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے بھی سوشل میڈیا پر سرگرم ہوتے ہوئے

قمر وحید نقوی کو ان کے حوصلے کی مبارکباد دی ہے۔ کانگریس نے گذشتہ سال کے اواخر میں مودی پر تبصرہ لکھنے والی ایک خاتون صحافی کو دھمکی آمیز فون کال وصول ہونے کے بعد روزنامہ ہندو کی سینئر صحافی کی پولیس سے کی گئی شکایت کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ بی جے پی نے اپنے اشتہارات میں جو وعدے کئے ہیں ان اچھے دنوں کی یہ جھلک ہے۔ کانگریس کے میڈیا سربراہ اجئے میکن نے کہا کہ قمر وحید نقوی کے استعفیٰ سے بی جے پی کی دباؤ ڈال کر کام لینے کی پالیسی واضح ہوگئی ہے۔ انڈیا ٹی وی چیرمین رجت شرما کی جانب سے 12 اپریل کو ایک انٹرویو پروگرام پیش کیا گیا تھا۔ آج کی عدالت میں نریندر مودی کو پیش کرتے ہوئے ان سے سوالات کئے گئے تھے۔ اس انٹرویو کے چند گھنٹوں بعد 13 اپریل کو نقوی نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ یہ انٹرویو فکسڈ تھا، صحافتی بددیانتی کا مظاہرہ کیا گیا اس لئے وہ اس ٹی وی چینل سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT