Thursday , June 21 2018
Home / Top Stories / مودی کو اوباما کا رسمی دعوت نامہ ،نمایاں شراکت داری کی خواہش

مودی کو اوباما کا رسمی دعوت نامہ ،نمایاں شراکت داری کی خواہش

نئی دہلی 11 جولائی (سیاست ڈاٹ کام )وزیر اعظم نریندر مودی کو دورہ امریکہ کی رسمی دعوت دیتے ہوئے صدر امریکہ بارک اوباما نے ان کے ساتھ گہرے اشتراک و تعاون کی شدید خواہش ظاہر کی تا کہ باہمی تعلقات کو 21 ویں صدی کیلئے ’’نمایاں شراکت داری‘‘ بنایا جاسکے ۔ اوباما کے دعوت نامہ پر اظہار تشکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ وہ ستمبر میں ایک نتیجہ خیز

نئی دہلی 11 جولائی (سیاست ڈاٹ کام )وزیر اعظم نریندر مودی کو دورہ امریکہ کی رسمی دعوت دیتے ہوئے صدر امریکہ بارک اوباما نے ان کے ساتھ گہرے اشتراک و تعاون کی شدید خواہش ظاہر کی تا کہ باہمی تعلقات کو 21 ویں صدی کیلئے ’’نمایاں شراکت داری‘‘ بنایا جاسکے ۔ اوباما کے دعوت نامہ پر اظہار تشکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ وہ ستمبر میں ایک نتیجہ خیز دورہ امریکہ کے منتظر ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ ’’ٹھوس نتائج‘‘ برآمدہوں گے جن سے دفاعی شراکت داری میں ’’نئی رفتار اور توانائی ‘‘پیدا ہوگی ۔ اوباما کا دعوت نامہ مودی کو نائب وزیر خارجہ ولیم برنس نے شخصی ملاقات کرتے ہوئے حوالہ کیا ۔ اپنے مکتوب میں اوباما نے مودی کو ستمبر میں واشنگٹن کے دورہ کی دعوت کا اعادہ کیا اور گہری خواہش ظاہر کی کہ ان کے ساتھ قریبی اشتراک و تعاون کے ذریعہ ہند ۔ امریکہ تعلقات 21 ویں صدی میں ’’نمایاں شراکت داری ‘‘ میں تبدیل ہوجائیں گے ۔ وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مکتوب وصول کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ وہ ایک نتیجہ خیز دورے اور ٹھوس نتائج برآمد ہونے کے علاوہ ہند ۔ امریکہ دفاعی شراکت داری کو ایک نئی رفتار اور توانائی حاصل ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم کا نکتہ نظر یہ تھا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان شراکت داری کو از سر نو توانائی بخشننے سے اس علاقہ اور اس سے ماوراء ایک اہم پیغام جائے گا ۔ ہند امریکہ تعلقات کے بارے میں اپنے نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ دنیا کی قدیم ترین اور وسیع ترین جمہوریتوں کے درمیان تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے لئے فائدہ بخش ہونے چاہئے بلکہ دونوں ممالک کو دنیا میں امن ،استحکام اور خوشحالی کی بہتری کیلئے ایک پرتوانائی طاقت کے طور پر ابھرنا چاہئے ۔ ولیم برنس نے اوباما کی خواہش ظاہر کریت ہوئے کہا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ معاشی تعلقات ،عصری ٹکنالوجیوں اور پیداواری شعبہ میں مستحکم بنانے کے خواہشمند ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ صیانتی تعاون ،صیانتی توانائی ،بحری صیانت ،انسداد دہشت گردی اور سراغ رسانی کے شعبوں میں مزید مستحکم تعاون حاصل ہوگا ۔ مشاورت اور ہم آہنگی میں افغانستان کے مسئلہ پر توسیع ہوگی اور وسیع تر پس منظر میں ایشیاء کی صیانت اور خوشحالی کیلئے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی ۔ مودی نے گہرے تعاون اور ہند امریکہ شراکت داری کے بڑے طیف میں نوجوانوں کو شامل کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعاون کو فروغ دینے کی نئی راہیں تلاش کرنے کی امید ظاہر کی ۔ انہوں نے اپنی خواہش کا اعادہ کیا کہ ہندوستانی تمام پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر بنانا چاہتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT