Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / مودی کو بھگانا ہے تو یہاں سے ٹی آر ایس اور مجلس کو ہٹانا ہوگا : اتم کمار ریڈی

مودی کو بھگانا ہے تو یہاں سے ٹی آر ایس اور مجلس کو ہٹانا ہوگا : اتم کمار ریڈی

ہر ایک قدم پر ٹی آر ایس اور مجلس نے مودی کی مدد کی۔ واقعات کو یاد رکھئے اور ووٹ دیں
مجھے ووٹ مانگنے کا حق ہے

حیدرآباد ۔20 اکٹوبر (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے مرکز سے مودی کو بھگانے کیلئے ٹی آر ایس اور مجلس کو شکست دیتے ہوئے تلنگانہ سے اس کی شروعات کرنے کی عوام سے اپیل کی۔ دونوں جماعتوں پر ہر وقت قدم قدم پر مودی کی راست و بالراست تائید کرنے کا الزام عائد کیا۔ تاریخی چارمینار کے دامن میں منعقدہ سدبھاؤنا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ چارمینار کے بغل میں واقع سرکاری ہاسپٹل میں ان کی پیدائش ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے انہیں پرانے شہر میں کانگریس کیلئے ووٹ مانگنے کا پورا پورا حق ہے۔ وہ پرانے شہر کے عوام کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ٹی آر ایس اور مجلس نے کئی موقعوں پر فرقہ پرستوں کی تائید کرتے ہوئے ان کے ناپاک عزائم کو تقویت پہنچائی ہے۔ ٹی آر ایس نے نوٹ بندی، جی ایس ٹی، صدرجمہوریہ نائب صدرجمہوریہ اور راجیہ سبھا کے نائب صدرنشین انتخابات میں بی جے پی اور این ڈی اے کی تائید کی ہے۔ مرکزی حکومت کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد میں ٹی آر ایس نے دوری اختیار کی ہے اور کارگذار چیف منسٹر کے سی آر وزیراعظم نریندر مودی کے ایجنٹ کی طرح کام کررہے ہیں پھر بھی صدر مجلس اسدالدین اویسی ٹی آر ایس کی اندھی تائید کررہے ہیں۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے کہا کہ ٹی آر ایس اور مجلس کو ووٹ دینا بی جے پی کو ووٹ دینے کے مماثل ہوگا۔ پرانے شہر میں میٹرو ریل کو نظرانداز کردیا گیا۔ ٹی آر ایس نے مسلمانوں سے جو بھی وعدے کئے ان وعدوں میں ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا۔ وہ اسدالدین اویسی سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کس بنیاد پر ٹی آر ایس کی تائید کررہے ہیں اور مسلمانوں کو ٹی آر ایس کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کررہے ہیں جبکہ کے سی آر نے مسلمانوں سے کیا گیا ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا۔ کانگریس کو وٹ دیا جاتا ہے تو دستور کا تحفظ ہوگا۔ سیکولرازم مستحکم ہوگا۔ تمام مذاہب اور طبقات مل جل کر خوشحال رہیں گے۔ تمام مذاہب اور طبقات میں پیار، بھائی چارگی اور اخوت فروغ پائے گا۔ مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد ملک میں غیریقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔ فرقہ پرستی میں اچانک اضافہ ہوگیا۔ اظہارخیال پر پابندی اور کھانے پینے پر بھی امتناع عائد کردیا گیا ہے۔ عوام کو بانٹ کر بی جے پی ملک کے اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہے جبکہ کانگریس پارٹی پیار محبت کا پیغام پروان چڑھاتے ہوئے ملک کو جوڑنے کی کوشش کررہی ہے۔ نفرت پھیلانے سے کس کو فائدہ ہوگا سنجیدگی سے غور کرنے کی وہ پرانے شہر کے عوام سے اپیل کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT