Friday , June 22 2018
Home / سیاسیات / مودی کو حصول اراضی قانون پر کھلے مباحث کا چیلنج، انا ہزارے کا بیان

مودی کو حصول اراضی قانون پر کھلے مباحث کا چیلنج، انا ہزارے کا بیان

ممبئی /27 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مخالف جعل سازی جہد کار اناہزارے، جنھوں نے حال ہی میں حصول اراضی قانون کی بنیاد پر این ڈی اے حکومت کے خلاف ملک گیر سطح پر ’’جیل بھرو آندولن‘‘ کی دھمکی دی ہے، انھوں نے آج کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے اس مسئلہ پر کھلے مباحث کے لئے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے کھلے مباحث کی خواہش کی ہے، ہم اس کو قبول

ممبئی /27 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مخالف جعل سازی جہد کار اناہزارے، جنھوں نے حال ہی میں حصول اراضی قانون کی بنیاد پر این ڈی اے حکومت کے خلاف ملک گیر سطح پر ’’جیل بھرو آندولن‘‘ کی دھمکی دی ہے، انھوں نے آج کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے اس مسئلہ پر کھلے مباحث کے لئے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے کھلے مباحث کی خواہش کی ہے، ہم اس کو قبول کرتے ہیں، لیکن اس کا بہت کم امکان ہے کہ آپ کے ساتھ مباحث کرنے سے کوئی ٹھوس فیصلہ ہوسکے گا۔ انھوں نے کہا کہ اگر مودی مباحثہ میں شرکت کرتے ہیں تو کچھ نہ کچھ فیصلہ کا امکان ہوسکتا ہے، لیکن اگر تبادلہ خیال چار پانچ افراد کے درمیان ہو اور مخالف حصول اراضی قانون تحریک کے بارے میں ہو تو ہمیں توقع ہے کہ مودی کسی نہ کسی دن، مقام اور وقت کا تعین ضرور کریں گے، جہاں کھلا مباحثہ ہوسکے۔ انا ہزارے نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کے مکتوب کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حصول اراضی قانون میں ایک بھی دفعہ ایسی نہیں ہے، جو کاشت کاروں کے مفاد میں ہو۔ اناہزارے نے اندیشہ ظاہر کیا کہ کاشت کار خاندان کے ایک رکن کو ملازمت کی فراہمی کا تیقن جس کی اراضی حاصل کی گئی ہو، کوئی طمانیت نہیں رکھتا۔ ماضی میں بھی ایسے تیقنات دیئے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کرپشن کے خلاف لوک پال اور لوک آیوکت قانون سازی کے لئے اپنی جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے، جب تک کہ ان پر عمل آوری نہ ہو جائے۔

TOPPOPULARRECENT