مودی کیخلاف انتہائی توہین آمیز تبصرہ پر الیکشن کمیشن

نئی دہلی ۔ یکم مئی (سیاست ڈاٹ کام) انتخابی ضابطہ اخلاق کی بار بار خلاف ورزیوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے آج مرکزی وزیر بینی پرساد ورما کی سرزنش کی کیونکہ انھوں نے نریندر مودی کے خلاف انتہائی توہین آمیز تبصرہ کیا تھا۔ جبکہ وہ کانپور میں انتخابی جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ وجہ بتاؤ نوٹس کے جواب میں ورما نے جو صفائی پی

نئی دہلی ۔ یکم مئی (سیاست ڈاٹ کام) انتخابی ضابطہ اخلاق کی بار بار خلاف ورزیوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے آج مرکزی وزیر بینی پرساد ورما کی سرزنش کی کیونکہ انھوں نے نریندر مودی کے خلاف انتہائی توہین آمیز تبصرہ کیا تھا۔ جبکہ وہ کانپور میں انتخابی جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ وجہ بتاؤ نوٹس کے جواب میں ورما نے جو صفائی پیش کی ہے اُس پر غیر مطمئن الیکشن کمیشن نے ورما کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اُن کی سرزنش کی۔ یہ دوسری مرتبہ جبکہ الیکشن کمیشن نے اُنھیں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا ہے۔ قبل ازیں مودی کو آر ایس ایس کا سب سے بڑا غنڈہ قرار دینے پر الیکشن کمیشن نے ورما پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ اُن کی سرزنش کرتے ہوئے کمیشن نے انتباہ دیا کہ اگر کانگریس قائد کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی دوبارہ خلاف ورزی کی جائے تو اُنھیں انتخابی مہم چلانے سے روک دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں دیگر اقدامات بھی کئے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے کہاکہ نریندر مودی کے خلاف ورما کے بیانات انتہائی اہانت انگیز ہیں۔ اُنھوں نے 20 سال کی عمر میں ایک سنگین جرم کا ارتکاب کرکے فرار ہوجانے والا شخص نریندر مودی کو قرار دیا تھا۔ اب الیکشن کمیشن کسی تعصب کے بغیر اِس معاملہ پر ورما کو نوٹس جاری کرچکا ہے۔ لیکن اُن کے بیان صفائی سے غیرمطمئن ہونے کی بناء پر اُن کی مذمت کرتا ہے اور ااُن کے غلط بیانات پر اُن کی سرزش کرتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT