Wednesday , December 12 2018

مودی کیخلاف ایف آئی آر درج، انتخابی خلاف ورزی کا تنازعہ

گاندھی نگر کے پولنگ بوتھ پر ووٹ ڈالنے کے بعد تقریر اور انتخابی نشان کنول کی تشہیر پر الیکشن کمیشن کی کارروائی

گاندھی نگر کے پولنگ بوتھ پر ووٹ ڈالنے کے بعد تقریر اور انتخابی نشان کنول کی تشہیر پر الیکشن کمیشن کی کارروائی

احمدآباد ؍ نئی دہلی ۔ 30 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک بڑا تنازعہ پیدا کرتے ہوئے نریندر مودی نے آج بی جے پی کے انتخابی نشان کی تشہیر کی اور انتخابی قوانین کی خلاف ورزی میں ایک پولنگ بوتھ کے پاس تقریر بھی کی جس کے پیش نظر پولیس نے ان کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرلیا۔ پولیس کارروائی اس وقت ہوئی جب الیکشن کمیشن نے بی جے پی وزارت عظمیٰ امیدوار کی جانب سے انتخابی قوانین کی خلاف ورزی
کا سنجیدگی سے نوٹ لیا، جن کے تحت کوئی بھی شخص پولنگ کے روز مرکز رائے دہی میں کسی انتخابی مواد کی تشہیر یا کسی جلسہ سے خطاب نہیں کرسکتا۔ چنانچہ مودی کے خلاف ایف آئی آر دائر کرنے کا حکم دیا گیا۔

عاجلانہ کارروائی میں احمدآباد کی کرائم برانچ پولیس نے مودی کے خلاف گاندھی نگر میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد بی جے پی کا انتخابی نشان ’کنول‘ نمایاں کرنے اور تقریر کرنے کی پاداش میں مقدمہ درج رجسٹر کرلیا۔ گجرات ڈی سی پی پی سی ٹھاکر نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ ان واقعات کے سلسلہ میں سی پی کرائم برانچ نے دو ایف آئی آر درج کئے ہیں۔ دونوں میں سے ایک ایف آئی آر ٹیلی ویژن چینلوں کے خلاف درج ہوا جنہوں نے مودی کی پریس کانفرنس کو نشر کیا۔ ای سی نے اپنے حکم نامہ میں یہ بھی کہا کہ تمام ٹی وی چینلس اور دیگر الیکٹرانک میڈیا جنہوں نے اس پریس کانفرنس کو پیش کیا ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ کرائم برانچ کے ذرائع نے کہا کہ ای سی کی ہدایت کے مطابق دونوں ایف آئی آر درج کرتے ہوئے قانون عوامی نمائندگی کے تحت دفعات لاگو کئے گئے جو دو سال تک قید کی گنجائش فراہم کرتے ہیں۔

مودی نے گاندھی نگر لوک سبھا حلقہ کے رانیپ میں ایک بوتھ کے ووٹر کی حیثیت سے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا اور پھر بوتھ کے باہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پر لفظی حملہ کیا لیکن وہ بار بار ’کنول‘ کو اپنے ہاتھ سے اونچا اٹھا کر نمایاں کرتے رہے، جو قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔ اس پر کانگریس کو برہمی ہوئی اور اس نے فوری الیکشن کمیشن سے شکایت کرتے ہوئے مودی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جس میں انہیں نااہل قرار دینا شامل ہے۔ دیگر پارٹیوں نے بھی مودی کو نشانہ بنایا جن میں عام آدمی پارٹی نے انہیں ’عادی خطاکار‘ قرار دیا۔ کمیشن حرکت میں آ گیا اور گجرات کے حکام کو چیف منسٹر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کردی۔ کمیشن نے گجرات چیف سکریٹری اور ڈی جی پی سے کہا کہ آج شام 6 بجے تک ہدایت کی تعمیل سے متعلق رپورٹ بھیجی جائے۔ چنانچہ گجرات نظم و نسق نے ایسا ہی کیا۔ ڈپٹی ای سی ونود زوتشی نے نئی دہلی میں میڈیا کو بتایا کہ ’’ہاں، انہوں نے تعمیل کی رپورٹ بروقت بھیج دی ہے… ہم اس کا جائزہ لے رہے ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT