Sunday , October 21 2018
Home / شہر کی خبریں / مودی کیخلاف ریمارک کے سی آر کو مہنگا پڑیگا

مودی کیخلاف ریمارک کے سی آر کو مہنگا پڑیگا

مرکزی اسکیمات کے فنڈس اور ریاستی پراجیکٹس کے خرچ پر مرکز کی نظر
حیدرآباد۔ 10 مارچ (سیاست نیوز) وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کا ریمارک کیا ان کے لیے مہنگا ثابت ہوگا؟ چیف منسٹر نے اگرچہ مودی کے خلاف ریمارک سے انکار کیا لیکن بی جے پی اور مرکزی قیادت اس مسئلہ پر کے سی آر کو معاف کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت نے عملاً انتقامی کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے تحت ریاست میں مرکزی اسکیمات کے فنڈس کے خرچ اور ریاستی پراجیکٹس کے لیے رقومات کی منظوری کی جانچ کی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ کے سی آر کو کریم نگر میں وزیراعظم کے خلاف کیے گئے ریمارک پر ’’کنول کی گرمی‘‘ کا احساس دلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور گرما کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی چیف منسٹر کو موسم گرما کا احساس دلایا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ ریاستی بی جے پی سے مرکزی حکومت نے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے اس کے علاوہ بعض مرکزی اداروں کو بھی جانچ میں شامل کرتے ہوئے تلنگانہ میں مرکزی بجٹ کے استعمال کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تلنگانہ بی جے پی قائدین نے اپنی رپورٹ میں کئی ایسی مرکزی اسکیمات کا حوالہ دیا جس میں مرکزی فنڈس کو خرچ نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق بعض مرکزی اسکیمات کے بجٹ کو ٹی آر ایس حکومت نے تلنگانہ اسکیمات میں منتقل کردیا۔ مرکزی اسکیمات پر عمل آوری میں ناکامی کے مسئلہ پر ٹی آر ایس حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی جائے گی اور اسے ملک بھر میں کارکردگی کے اعتبار سے بے نقاب کیا جائے گا۔ بی جے پی کے ایک قائد نے کہا کہ مرکز نے گزشتہ چار برسوں میں تلنگانہ کی ہر ممکن مدد کی اور مرکزی اسکیمات کے لیے زائد فنڈس مختص کیے گئے۔ اس کے باوجود ٹی آر ایس قائدین مرکز پر تنقیدوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صورتحال اس وقت بگڑی جب کے سی آر نے حال ہی میں کریم نگر میں کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کو غیر احترام لہجہ میں مخاطب کردیا جس کے بعد مرکز نے کے سی آر کو سبق سکھانے کی ٹھان لی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ چار برسوں میں مرکز کی جانب سے جاری کردہ فنڈس میں سے گرام پنچایتوں کو ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا اس کے علاوہ امکنہ کے لیے جاری کردہ مرکزی فنڈس خرچ نہیں کیے گئے۔ مرکزی اسکیمات پر عمل آوری کی تفصیلات اکٹھا کرتے ہوئے تلنگانہ حکومت کے ان دعوئوں کو غلط ثابت کیا جائے گا کہ فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات میں وہ ملک میں سرفہرست ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ تلنگانہ میں آبپاشی پراجیکٹس کے لیے گزشتہ چار برسوں میں وقتاً فوقتاً تخمینہ میں زبردست اضافہ کیا گیا اور رقومات کے خرچ میں بھاری دھاندلیاں ہوئی ہیں۔ ان دھاندلیوں پر بھی مرکز کی نظر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ مرکز کب اور کس طرح تلنگانہ حکومت کے خلاف کارروائی کرے گا۔

TOPPOPULARRECENT