Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / مودی کی انتشار پسندانہ پالیسیوں سے معیشت تباہ : راہول

مودی کی انتشار پسندانہ پالیسیوں سے معیشت تباہ : راہول

مالیاتی خسارہ میں اضافہ اور پراجیکٹس تعطل کا شکار ، کساد بازاری کی تلخ حقیقت تشویشناک : چدمبرم
نئی دہلی۔ 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی انتشار پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ ہورہی ہے۔ ہندوستان کی ترقی میں مودی کی انتشار پسندانہ پالیسیاں حائل ہوچکی ہیں۔ بینک کی جمع پونجی میں 63 سال کی اقل ترین رقم ریکارڈ ہورہی ہے جبکہ روزگار کی فراہمی میں بھی ہندوستان 8 سال پیچھے ہوگیا ہے۔ ارون جیٹلی پر تنقید کرتے ہوئے راہول گاندھی نے اپنے ٹوئٹر پیام میں الزام عائد کیا کہ وزارت فینانس کی چالاکیوں نے مودی کی مجموعی انتشار پسندانہ پالیسیوں (GDP) کو بڑھاوا دیا ہے۔ ملک میں نئی سرمایہ کاری کا بہاؤ بھی گھٹ رہا ہے۔ پراجیکٹس تعطل کا شکار ہوچکے ہیں۔ صدر کانگریس نے ٹوئٹ کیا ہے کہ میڈیا رپورٹ پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے ملک کی جی ڈی پی کو اس مالیاتی سال 6.5% مقرر کیا ہے۔ اس دوران سابق وزیر فینانس پی چدمبرم نے کہا ہے کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے جاریہ مالیاتی سال پیداوار کی شرح گھٹ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے تشویش کی بات یہ ہے کہ میں معاشی انحطاط تیزی سے بڑھ رہا ہے، نئے پراجیکٹس تعطل کا شکار ہیں اور تازہ سرمایہ کاری کا بہاؤ کم ہوچکا ہے۔ چدمبرم نے اپنے بیان میں کہا کہ برآمدات کا سلسلہ ہچکولے کھا رہا ہے اور پیداواری صنعت کو شدید دھکا لگا ہے۔ نیز پیداواری صلاحیتوں میں بتدریج کمی دیکھی جارہی ہے۔ زرعی شعبہ بھی متاثر ہے اور دیہی علاقوں کی زندگی بُری طرح پریشان ہے۔ ملک میں روزگار کی فراہمی کا وعدہ ایک ہندسہ سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ مودی حکومت نوجوانوں کو روزگار دینے میں بُری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ سب سے بڑی فکر اور تشویش کی بات یہ ہے کہ معاشی کساد بازاری پھیلتی جارہی ہے اور مودی حکومت بلند بانگ دعویٰ کررہی ہے کہ ملک میں پیداوار کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ مودی کے اس کھوکھلے دعوؤں کی وجہ سے ملک کی معیشت پر شدید اثر پڑ رہا ہے۔ آنے والے بجٹ میں بھی اس کا اثر دیکھا جائے گا۔ سال 2014ء میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے ملک کی معیشت اس قدر کمزور ہوچکی ہے کہ اب انہیں آئندہ سال کے اوائل میں عام انتخابات سے قبل اپنی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں شدید دباؤ کا سامنا ہوگا۔ ملک کے ماہرین معاشیات کا بھی کہنا ہے کہ مودی کی پالیسیوں کی وجہ سے مالیاتی خسارہ میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ مرکزی بجٹ 2018ء کو اگر مقبول عام پالیسیوں سے بھر دیا جائے تو مالیاتی خسارہ میں مزید اضافہ ہوگا۔ یکم فروری کو عام بجٹ کی پیشکشی میں مودی نظم و نسق کی نظر آئندہ سال کے عام انتخابات پر بھی مرکوز ہوگی۔
ہندوستان میں وی آئی پی کلچر
نئی دہلی ، 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں گاڑیوں کے وی آئی پی نمبرس 5,79,092 ہوچکے ہیں۔ چین میں آبادی میں بڑھ کر ہونے کے باوجود محض 435 وی آئی پی نمبرات ہیں۔ دیگر ترقی یافتہ ممالک بشمول امریکہ میں یہ تعداد 200 سے کم ہے۔

TOPPOPULARRECENT