Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / مودی کی جن پنگ سے ملاقات، این ایس جی تعطل برقرار

مودی کی جن پنگ سے ملاقات، این ایس جی تعطل برقرار

این ایس جی میں شمولیت کے ادعا کی تائید کی اپیل ۔ سیول میں جوہری گروپ اجلاس کا آغاز
تاشقند؍ سیول، 23 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی نے آج چین سے ہندوستان کی این ایس جی سعی کی تائید و حمایت کرنے کی اپیل کی، لیکن اس مسئلہ پر 48 قومی گروپ کی میٹنگ میں چین کی قیادت میں سخت مخالفت کے تناظر میں کچھ کامیابی نہ ملی۔ مودی اور طاقتور چینی صدر شی جن پنگ کی تاشقند میں ملاقات ہوئی جہاں سے تقریباً 5000 کیلومیٹردور جنوبی کوریائی دارالحکومت میں ہندوستان کا کیس جو اگرچہ باقاعدہ ایجنڈہ پر نہیں تھا، این ایس جی ارکان کی مابعد ڈنر خصوصی میٹنگ میں اٹھایا گیا۔ تاہم این ایس جی ارکان ہندوستان کے داخلہ کے بارے میں بدستور منقسم دکھائی دیئے کیونکہ نئی دہلی نے این پی ٹی پر دستخط نہیں کئے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ چین کے علاوہ ترکی، آسٹریا، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ نے بھی یہ موقف اختیار کیا کہ ہندوستان کے معاملے میں کوئی استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اس طرح واضح طور پر مودی کی اپیلیں چینی موقف کو تبدیل کرنے میں ناکام رہیں،

لیکن دیکھنا ہے اس دو روزہ کھلے اجلاس کے کل جمعہ کو آخری روز کیا تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ قبل ازیں نیوکلئیر سپلائرس گروپ (این ایس جی) میں شمولیت اختیار کرنے ہندوستان کی کوششوں کے دوران مودی نے چینی صدر جن پنگ سے ملاقات کی اور سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے اس مسئلہ پر چین سے تائید کی درخواست کی ہے ۔ چین کی تائید ہندوستان کی این ایس جی رکنیت کیلئے اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہے ۔ مودی اور جن پنگ کی ملاقات کا نتیجہ جوہری تجارتی ادارہ کی رکنیت کے مسئلہ پر سیول کے اجلاس کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل رہے گا ، سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ ہندوستان کا یہ ماننا ہے کہ اگر چین اس مسئلہ پر ہندوستان کے تئیں ہمدردانہ موقف اختیار کرتا ہے اور ہندوستان کے ادعا کی تائید کرتا ہے تو دیگر ممالک کی مخالفت کوئی معنی نہیں رکھتی ۔

TOPPOPULARRECENT