Tuesday , January 23 2018
Home / Top Stories / مودی کی جیت کے باوجود اگزٹ پولس غلط ثابت ہوں گے

مودی کی جیت کے باوجود اگزٹ پولس غلط ثابت ہوں گے

نئی دہلی ۔ 13 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) اگزٹ اور مابعد چناؤ سروے کی اکثریت بھلے ہی ایک بات پر متفق معلوم ہوتی ہے کہ بی جے پی زیر قیادت نیشنل ڈیموکریٹک الائینس (این ڈی اے) کو اکثریت حاصل ہوجائے گی یا پھر وہ اس کے آس پاس تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن جو اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں، وہ مختلف النوع ہیں… ان کا رینج 248 نشستوں سے لیکر 340 کی بہت بڑی تعداد تک

نئی دہلی ۔ 13 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) اگزٹ اور مابعد چناؤ سروے کی اکثریت بھلے ہی ایک بات پر متفق معلوم ہوتی ہے کہ بی جے پی زیر قیادت نیشنل ڈیموکریٹک الائینس (این ڈی اے) کو اکثریت حاصل ہوجائے گی یا پھر وہ اس کے آس پاس تک پہنچ جائیں گے۔ لیکن جو اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں، وہ مختلف النوع ہیں… ان کا رینج 248 نشستوں سے لیکر 340 کی بہت بڑی تعداد تک ہے۔ اس طرح کے پولس کو ہمیں یہ بتانے سے کہیں زیادہ محنت کی ضرورت ہے کہ نریندر مودی اگلے وزیراعظم بننے والے ہیں، انہیں اس قابل ہونا چاہئے کہ ہمیں منصفانہ انداز میں ٹھیک ٹھیک تعداد بتائیں کہ کس فرنٹ یا پارٹی کو کتنی نشستیں ملیں گی۔

آخری لمحات کے اشاروں کو دیکھیں تو کم از کم چند پولس تو بہت بری طرح غلط ثابت ہونے والے ہیں، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں کی اکثریت نے مخصوص تعداد کو ملحوظ رکھنے کے بجائے وسیع تر عوامل کے بل بوتے پر اپنی پیش قیاسیاں ظاہر کی ہیں۔ ان پولس میں ریاستی اور علاقائی سطح پر پیش قیاسی کرنے کے معاملہ میں بھی بہت تبدیلی دکھائی دی ہے۔ مثال کے طور پر بہار میں یو پی اے کی تعداد ایک ایجنسی نے دو اور ایک دیگر نے 15 بتائی ہے۔ راجستھان میں یو پی اے کے لئے یہ فرق ایک اور 14 کے درمیان ہے، اڑیسہ میں بی جے پی کے حق میں 2 تا 10 کی رینج بتائی گئی ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اگزٹ پولس جن سے ووٹر کے ارادے کی ٹھیک ٹھیک عکاسی فراہم کرنے کی توقع رہتی ہے، انہیں اپنی افادیت ثابت کرنے کیلئے ابھی طویل سفر طئے کرنا ہے۔ ایک بلین سے زائد آبادی والے ملک میں جہاں حلقوں کی تقسیم مذہبی برادریوں ، ذات پات اور نہایت مختلف النوع سماجی اور معاشی پس منظر کے حامل لوگوں کے درمیان ہوتی ہے، انتخابات کی پیش قیاسی از خود بڑے چیلنج پیش کرتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی وسعت کے نتیجہ میں ایسے امیدوار تک جیتنے لگے ہیں جو 50 فیصد سے کم عوامی ووٹ حاصل کرتے ہیں، اور اس پس منظر میں نشستوں میں ووٹوں کی تقسیم کچھ اس طرح عجیب و غریب انداز میں ہوتی ہے کہ بعض خطوں میں ہمہ رخی مقابلے دیکھنے میں آتے ہیں۔

2004 ء اور 2009 ء میں ہمارے اگزٹ پولس بری طرح بعید از حقائق ثابت ہوئے تھے، جس کے پیش نظر کیا ہمیں اس طرح کے پولس کو زیادہ اہمیت دینا چاہئے؟ 2010 ء میں وزارت قانون موسومہ ایک مکتوب میں الیکشن کمیشن نے استدلال پیش کیا تھا کہ اگزٹ پولس پر تحدیدات عائد کرنے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ رائے دہندے اس طرح کے پولس سے غیر ضروری متاثر یا گمراہ نہ ہونے پائیں۔ ماضی قریب کے تجربات کے بعد اگر موجودہ صورت میں بھی ہمارے اوپنین اور اگزٹ پولس حقیقی صورتحال سے دور ثابت ہوتے ہیں تو ان کی وقعت کسی امتناع کے ذریعہ نہیں بلکہ خود ان کی ناقص پیش قیاسی کی وجہ سے ختم ہوجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT