Saturday , January 20 2018
Home / سیاسیات / مودی کی حلف برداری، جیہ للیتا اور وائیکو شرکت نہیں کرینگے

مودی کی حلف برداری، جیہ للیتا اور وائیکو شرکت نہیں کرینگے

صدر سری لنکا مہندا راجہ پکسے کو مدعو کرنے کا ردعمل

صدر سری لنکا مہندا راجہ پکسے کو مدعو کرنے کا ردعمل
چینائی ۔ 22 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے یہ فیصلہ کیا ہیکہ نریندر مودی کی بحیثیت وزیراعظم حلف برداری تقریب میں صدر سری لنکا مہندا راجہ پکسے کو بھی مدعو کیا جائے جس نے جنوبی ہند کی ریاست تملناڈو میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ اے آئی اے ڈی ایم کے سربراہ اور وزیراعلیٰ جیہ للیتا اور ایم ڈی ایم کے لیڈر وائیکو نے صرف اسی بنیاد پر حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہیکہ صدر سری لنکا مہندا راجہ پکسے کی تقریب میں موجودگی سے تمل عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔

جیہ للیتا ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے سری لنکا میں موجود تمل باشندوں کو درپیش مشکلات سے حکومت کو باخبر کیا تھا اور اس بات کی خواہاں رہیں کہ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ صدر مہندا راجہ پکسے کے ساتھ اس معاملہ کی یکسوئی کریں۔ اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وائیکو نے ادعا کیا کہ عوام نے تملناڈو میں کانگریس کو باہر کا دروازہ دکھا دیا ہے کیونکہ ایل ٹی ٹی ای کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے کانگریس کی مبینہ مدد بھی شامل تھی لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہیکہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے

بالکل اسی طرح ایل ٹی ٹی ای کیڈرس کو ہلاک کرنے کے دوران ہزاروں بے گناہ تمل باشندے بھی مارے گئے لہٰذا میں (وائیکو) مودی اور بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ صدر سری لنکا مہندا راجہ پکسے کو تقریب حلف برداری میں مدعو نہ کریں۔ دوسری طرف ڈی ایم کے سربراہ ایم کروناندھی نے بھی بی جے پی کے صدر سری لنکا مہندا راجہ پکسے کو مدعو کرنے کے فیصلہ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی مہندا راجہ پکسے کی شرکت کو کسی نہ کسی طرح ٹال سکتی تھی۔ ڈی ایم کے آرگنائزنگ سکریٹری اور پارٹی ترجمان ایلانگون نے بھی کہا کہ مہندرا راجہ پکسے سارک یونین کا حصہ ہیں اور شاید اس لئے انہیں دعوت دی گئی ہوگی لیکن نومنتخبہ وزیراعظم نریندر مودی کو تمل عوام کے جذبات و احساسات کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے تھا۔ تملناڈو کے عوام سری لنکا کے خلاف برہم ہیں۔

TOPPOPULARRECENT