Monday , December 18 2017
Home / اداریہ / مودی کی خاموشی ‘ منموہن کا سوال

مودی کی خاموشی ‘ منموہن کا سوال

میری خاموشی تھی دانش آپ کیوں خاموش ہیں
میری خاموشی کا مقصد کیا سمجھ میں آگیا
مودی کی خاموشی ‘ منموہن کا سوال
سابقہ یو پی اے حکومت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ پر اکثر و بیشتر ان کے مخالفین تنقید کیا کرتے تھے ۔ منموہن سنگھ پر الزام تھا کہ وہ اہم ترین مسائل پر خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور لب کشائی سے اکثر ہی گریزاں رہتے ہیں۔ ان پر یہ بھی الزام عائد کیا جاتا تھا کہ در اصل ان کا ریموٹ کنٹرول کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے ہاتھ میں ہے اور جب تک 10 جن پتھ سے اشارہ نہیں ملتا وہ خاموش رہنے ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اپنے دور وزارت عظمی میں منموہن سنگھ نے شاذ ونادر ہی کسی پریس کانفرنس سے خطاب کیاتھا ۔ چنندہ مواقع کو چھوڑ کر وہ خاموش رہنے ہی کو ترجیح دیتے تھے ۔ اب موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے تعلق سے بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی اپنے پیشرو کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ کم از کم متنازعہ مسائل پر اظہار خیال اور لب کشائی کے معاملہ میں وہ ضرور منموہن سنگھ کی پیروی کر رہے ہیں۔ مودی کی خاموشی پر بھی مختلف گوشوں سے سوال اٹھتے رہے ہیں ۔ اب تو خود ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مودی کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے ۔ منموہن سنگھ کا خود کا خاموشی کا ریکارڈ دیکھتے ہوئے مودی کی خاموشی پر ان کا سوال اٹھانا اہمیت کا حامل کہا جاسکتا ہے ۔ منموہن سنگھ کے سوال کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ خود نریندر مودی کی خاموشی بھی طوالت اختیار کرتی جا رہی ہے اور یہ طوالت اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ اسے ڈاکٹر منموہن سنگھ بھی محسوس کرنے لگے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نے ایک انٹرویو کے دوران بیف مسئلہ اور مظفر نگر فسادات کے تعلق سے منموہن سنگھ کی خاموشی پر سوال کیا ہے ۔ انہوں نے پوچھا ہے کہ نریندر مودی بیف اور مظفر نگر میں جو کچھ بھی حالات و واقعات پیش آئے ان پر اظہار خیال کیوں نہیں کرتے ۔ کیوں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ منموہن سنگھ کے سوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ نریندر مودی انتہائی اہمیت کے حامل اور حساس نوعیت کے مسائل پر بھی کس حد تک خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ان مسائل پر وہ لب کشائی سے خود کو بچائے ہوئے ہیں یا پھر وہ بھی اپنے پیشرو کی طرح ریموٹ کنٹرول سے کام کرتے ہیں ؟ ۔ کیا نریندر مودی کو بھی اہمیت کے حامل اور حساس مسائل پر لب کشائی کیلئے کہیں سے اجازت لینی پڑتی ہے ؟ ۔
گذشتہ تقریبا دو سال میں ملک میں جو واقعات پیش آئے ہیں اور جو کچھ بھی حالات رہے ہیں وہ معمول کے مطابق ہرگز نہیں کہے جاسکتے ۔ کہیں بیف کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے بے قصور اور نہتے مسلمان کا قتل کیا گیا تو کہیں گھر واپسی کے نام پر فرقہ پرستوں نے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوشش کی ۔ کہیں مظفر نگر میں فسادات کروائے گئے تو کچھ گوشوں کی جانب سے رام مندر کی تعمیر کا مسئلہ پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کسی گوشے کی جانب سے مسلمانوں کو پاکستان چلے جانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے تو کچھ تنظیمیں یہ کہنے سے گریز نہیں کر رہی ہیں کہ آئندہ چند برسوںمیں ہندوستان کو مسلمانوں کے وجود سے پاک کردیا جائیگا اور ملک کو ہندو راشٹر بنادیا جائیگا ۔ کچھ ریاستوں میں بیف کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے تو کہیں مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے ۔ اس ملک میں جانوروں کے تحفظ کیلئے تو سخت ترین قانون بنائے جا رہے ہیں لیکن دوسری جانب انسانی جانوں کے اتلاف کو روکنے پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ جانوروں کے نام پر انسان کا قتل کردیا گیا ۔ دادری میں اخلاق کا قتل اس کی زندہ مثال ہے ۔ یہ ایسے واقعات ہیں جنہوں نے ہر صحیح العقل شخص اور ہندوستان کے روشن و تابناک مستقبل کی فکر رکھنے والے ہر شہری کو متفکر کردیا ہے لیکن اگر اس پر کسی کو کوئی پروا ہ نہیں ہے تو وہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی ہیں۔ انتہائی حساس اور اہمیت کے حامل مسائل پر انہوں نے لب کشائی سے گریز کیا ہوا ہے اور وہ کوئی ریمارک کرنے تیار نہیں ہیں۔
اقتدار سنبھالنے سے قبل ‘ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے اپنی زبان کا زبردست استعمال کیا تھا ۔ اب بھی وہ اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنانے میں یا بیرونی دوروں میں ہندوستان کو نیچا دکھانے میں اپنی زبان بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ نت نئے انداز سے تبصرے کرتے ہیں لیکن اہمیت کے حامل اور حساس مسائل پر وہ خود کو خاموش رکھنے ہی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ یہ تاثر اب عام ہوتا جا رہا ہے کہ مودی کا ریموٹ کنٹرول آر ایس ایس ہیڈ کوارٹر ناگپور میں ہے اور جب تک وہاں سے اجازت نہیں ملتی وہ کچھ نہیں بول سکتے ۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ ملک کیلئے انتہائی افسوسناک پہلو ہے اور مودی کو اس شکنجے سے آزاد ہونے اور حساس مسائل پر زبان کھولنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT