Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / مودی کی سازشیں اور مسلمان

مودی کی سازشیں اور مسلمان

 

محمد غوث علی خاموشٗ
ملک میں آئے دن گائے کے نام پر انسانیت کا خون ہورہا ہے اور مرکزی حکومت تماشا دیکھ رہی ہے ‘ ملک کی سالمیت سے لاپرواہ حکومت چار دن کی حکمرانی میں خوف و دہشت کا ننگا ناچ قائم کررہی ہے ‘ گائے کے نام پر کسی ایک طبقہ کو نشانہ بناکر مرکز طویل حکمرانی کا جو خواب دیکھ رہی ہے شاید یہ کبھی پورا تو نہیں ہوگا ‘ کیونکہ ملک کی آغوش میں آج بھی سیکولر پسند عوام ظلم و بربریت کا بخوبی نظارہ کررہے ہیں جو وقت آنے پر خود پتہ چل جائے گا ۔ اقتدار کی برقرار نہیں رکھ سکی تو پھر اس حکومت کی کیا مجال جو مسلمانوں کے خون کو ضائع کرنا اپنا شیوہ بنالیا ہے ۔ گاؤ رکھشک کہیں سے خود پیدا نہیں ہوئے بلکہ جان بوجھ کر منظم سازش کے طور پر انہیں تیار کیا گیا ہے ۔ گاؤ رکھشکوں کے سہارے ملک کے مسلمانوں کے انر ایسا خوف پیدا کرنے کی منظم سازش کی جارہی ہے جو ایک طویل عرصہ تک برقرار رکھی جاسکے لیکن دشمنان اسلام کو یہ پتہ نہیں کہ مسلمانوں پر ظلم کوئی نہیں بات نہیں ہے روز اول سے ہی مسلمانوں کو مختلف دشمنوں نے صف ہستی سے مٹانے کا خواب دیکھتے آریہ ہیں لیکن یہ قوم نہ کبھی ہستی سے مٹی ہے اور نہ مٹے گی ۔ تاریخ گواہ ہیکہ مسلمان صبر و تحمل کے ساتھ اسلام پر قائم رہتے ہوئے دشمنان اسلام کو کامیاب ہونے نہ دیا ۔ ملک کے وزیراعظم کا ہر قدم مسلمانوں کو مجروح کرنے اور کمزور ثابت کرنے کے حق میں اٹھایا جارہا ہے ۔ اس کی تازہ مثال ان کا اسرائیل دورہ ہے جہاں اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتین یاہو سے گرمجوشی والی ملاقات ہے جو عالم اسلام کی توجہ مرکوز کرنے کیلئے کی گئی تاکہ عالم اسلام کو یہ پتہ چلے کہ ہندوستان کی رسائی کہاں تک ہے ۔ دبدبہ قائم کرنے کا یہ ایک اشارہ تھا جو صد فیصد ملک کے حق میں نہیں ‘دو عظیم گنہگاروں کی اس طرح ملاقات کوئی امن کا پیغام تو نہیں ہوسکتی ‘ اس لئے اب مسلمانوں کو خوف کے بجائے ہوش سے کام لینا ہوگا ۔ بیرونی ممالک کا کثرت سے دورہ کرتے ہوئے نریندر مودی عالم اسلام میں شورش کا بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں اسی لئے مغربی ممالک کی دہشت گردی کو کشمیر کے حالات سے جوڑنے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں ۔ مودی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اسلام کو بدنام کرنے کمزور کرنے کی بھرپور کوشش میں لگے ہیں ‘ جس طرح اترپردیش میں کسی ایک مسلمان امیدوار کو ٹکٹ نہ دیتے ہوئے اقتدار اپنے نام کیا اسی طرح کسی مسلم ملک کے بنا ہی سوپر پاور ممالک سے دوستی کے گہرے رشتہ بنانے میں لگے ہیں تاکہ عالم اسلام کو یہ پتہ چل سکے کہ ہم کسی مسلم ملک پر تکیہ نہیں کرتے ‘ ایسے حالات میں مسلمانوں کو اپنی صفیں درست کرنے کی ضرورت ہے ‘ اس سے اسلام کو پامال و بدنام کرنے کی کوشش کررہا ہے اس سے کہیں زیادہ مسلمان اگر اسلام کو غیر معمولی طاقت بخشنے کا کام کرنے لگیں تو دشمن کے حوصلے پست ہوسکتے ہیں ۔ مسلمان کو کمزور ثابت کرنے کیلئے آئے دن ان پر حملے کئے جارہے ہیں ۔ اگر گاؤ رکھشکوں کو گائے ہی بچانا ہے تو کئی طریقہ ہیں جس سے گائے کی عظمت میں اضافہ کرسکتے ہیں لیکن یہاں ان کا مقصد و منشا کچھ اور ہی ہے اسی لئے توجان لیوا حملے ہورہے ہیں ۔ مسلمان اسلام اور اس کے کردار کو پروان چڑھانے میں لگے رہیں تو بہتر ہوگا کیونکہ غافل کی مدد اللہ بھی نہیں کرتا ۔ مسلمانوں کو غفلت کی نیند سے بیدار ہونا ہے اور اللہ رب العزت اور اس کے پیارے نبی کریمﷺ کی بے پناہ محبت کا ثبوت دیتے ہوئے معیاری مسلمان بننا ہوگا جب ہم خود ہی دین سے دوری و مساجد سے دوری اختیار کررکھیں گے تو دشمن کا کام آسان ہوجائے گا اور ایسا ہی ہورہا ہے ۔ مسلمانوں کے اندر اتحاد کا مرکز صرف مساجد ہی ہیں اسے ایسے آباد رکھو کہ اسلام دشمن سکتہ میں پڑجائیں ۔ یہاں سے کوئی دشمن مسلمانوں کو دور نہیں کرسکتا ‘ دین حق سے دوری و مساجد سے دوری ہی مسلمانوں کو کمزور کرنا بڑا آسان ہورہا ہے ۔ اس لئے ایمان کا جذبہ قوی ہونا بہت ضروری ہے ۔ سچے مسلمان کو کوئی سازش اپنا شکار نہیں بناسکتی اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے محبوب بندوں کی بھرپور مدد فرماتا ہے جس سے آج کا مسلمان کافی دوری اختیار کئے ہوئے ہے ۔ اسلام کو زندہ رکھنے کیلئے کسی ہتھیار کو اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے صرف اسلامی کردار ہی ہمارا عظیم ہتھیار ہے ‘ مسلمانوں کو احساس کمتری کا شکار بنائے رکھنا دشمن کا مقصد عین ہے ار اس سے مسلمانوں کو باہر نکلنا ہوگا ۔ ہمارا اتحاد ہی دشمن کی شکست ہوگی کیونکہ ظلم کی زندگی بہت کم ہوتی ہے ۔

حال ہی میں ذبح کیلئے مویشییوں کی خرید و فروخت پر امتناع کو ملک کی سپریم کورٹ نے معطل کردیا ہے اسی طرح سازشوں کو ایک دن ناکام ہونا ہے صرف وقت لگے گا اور اس وقت کو مختصر بنانے کیلئے مسلمانوں کو عظیم اتحاد کا ثبوت دینا ہوگا جس سے دشمنوں کی سازشیں بننے سے پہلے دم توڑ سکیں ۔ گاؤ رکھشک صرف ہندوستانی مسلمان کو نشانہ بنارہے ہیں اور مسلمان ایسے واقعات کی مذمت کر کے دامن بچا رہے ہیں ایسے واقعہ پر ملک بھر میں اتحاد کے ساتھ مسلکی دیواروں کو توڑ کر بڑے پیمانے پر اگر احتجاج بلند کیا جاتا اور مکمل بیداری کا ثبوت پیش کیا جاتا تو کتنا اچھا ہوگا ‘ مگر نہیں مسلمان تو اپنے اپنے مسائل میں الجھا ہوا ہے اور اسے سازش کے طور پر ا لجھاکر رکھا گیا ہے اور دشمن طاقتیں ملک کے کونے کونے میں اپنا سر اٹھارہی ہیں ۔ مسلمان جب تک اپنے اختلافات ترک نہیں کرے گا اور اپنی صفوں میں غیر معمولی اتحاد پیدا نہیں کرے گا دشمن اسلام کی چاندی ہوتے رہے گی ۔ ملک کے وزیراعظم کو یہ پیام جمہوری انداز میں دیا جائے کہ ایک مسلمان پر حملہ ساری قوم پر حملہ کے مترادف ہے جس سے ان کی جرات آگے بڑھنے سے پہلے سوچے کہ مسلمان کو خوامخواہ چھیڑنا ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کرنے کے برابر ہے اس کیلئے مسلمانوں کو غیر معمولی بیداری کا ثبوت پیش کرنا ہوگا اور اس کا آغاز اللہ کے گھر ہماری مساجد سے ہی ممکن ہے ۔ اجتماعیت مسلمانوں کی بہترین طاقت ہے ‘ بنا بندگی کے اللہ کی رضا ومدد کے ہم ہرگز حقدار نہیں ہوسکتے ‘ کمزور ہونے سے ہی دشمن آج غالب ہے اور طاقت اتحاد میں ہے اور عبادت میں ہمارا اتحاد پوشیدہ ہے ‘ اسلامی تعلیمات ہی ہماری کامیابی کا ضامن ہے اور ترقی کا زینہ ہے ۔ اسلام پر قائم رہنے کا قوی عزم سے ہی کل ہمارا ہوگا ۔ کیونکہ دنیا بھر میں مسلمان نہ کمزور تھا نہ ہے اور نہ انشا اللہ رہے گا ۔ اس لئے کہ اسلام ایک ایسا پودا ہے کاٹو تو ہرا ہوگا دشمن ہماری صفوں کو بکھیر کر اپنی ناپاک سازشوں کو کرتے منصوبہ بند طریقہ سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کررہا ہے ۔ ایسی سازشوں کو منصوبہ بند و منظم طریقہ سے ہی ناکام بنایا جاسکتا ہے ۔ صرف گائے پر ہی مسلم ان اپنی مکمل توجہ مرکوز نہ کریں یہ تو صرف ایک بہانہ ہے اس کے پیچھے اسلام کے خلاف غیر معمولی عزائم کا احساس ہوتا ہے جس کو محسوس کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ سازشوں کی کوششوں کو ناکام بنانے اجتماعیت طاقت ثابت ہوسکتی ہے اور ہماری عبادت میں اجتماعیت اہم حصہ ہے تو پھر کیوں نہ اسی عظیم طاقت سے سامنا کیا جائے جس کا اثر ہمیشہ کیلئے برقرار رہ سکے ۔ ڈاکٹر علامہ اقبال نے بھی کیا خوب کہا تھا کہ
کیا ہوا تیرے ماتھے پر ہیں تو سجدوں کے نشان
کوئی سجدہ ایسا بھی کر جو چھوڑ جائے زمین پر نشان

TOPPOPULARRECENT