Thursday , August 16 2018
Home / Top Stories / مودی کی ستائش کے بعد کے سی آرالجھن وپریشانی میں مبتلاء

مودی کی ستائش کے بعد کے سی آرالجھن وپریشانی میں مبتلاء

ریاست کے مفادات کیلئے مرکز سے بہترتعلقات کا دعویٰ، بی جے پی اور ٹی آر ایس میں قربت‘ مفاہمت کی قیاس آرائیاں

حیدرآباد۔/22 جولائی، ( سیاست نیوز) لوک سبھا میں نریندر مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد پیدا شدہ سیاسی صورتحال نے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ کو نہ صرف اُلجھن میں مبتلاء کردیا بلکہ ان کی مشکلات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے سلسلہ میں علاقائی جماعتوں کے موقف کو دیکھتے ہوئے کے سی آر کے مجوزہ تھرڈ فرنٹ کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوچکی ہے تو دوسری طرف نریندر مودی نے کے سی آر کی کھلے عام ستائش کرتے ہوئے اس بات کا اشارہ دیا کہ آئندہ عام انتخابات تک دونوں پارٹیوں کی قربت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ تازہ ترین سیاسی صورتحال پر ٹی آر ایس حلقوں میں مختلف رائے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے اپنے قریبی رفقاء سے مشاورت کے دوران وزیر اعظم کے بیان کا حوالہ دیا جس میں ریاست کی تقسیم کے بعد کے سی آر کی کشادہ دلی کی ستائش کی گئی۔ وزیر اعظم کی تعریف کو دونوں پارٹیوں کے درمیان امکانی اتحاد کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اتحاد کے امکانات کو مسترد کردیا تاہم قائدین سے کہا کہ ریاست کے مفادات کی تکمیل کیلئے انہوں نے تحریک عدم اعتماد میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔ چیف منسٹر کے مطابق تحریک کے حق میں ووٹ دینے کی صورت میں حکومت کو کوئی نقصان نہیں تھا ایسے میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ جانا مناسب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ نئی ریاست ہے اور تنظیم جدید قانون کے وعدوں کی تکمیل کیلئے مرکزی حکومت سے تعاون درکار ہے لہذا پارلیمنٹ میں غیرجانبدار موقف اختیار کیا گیا ہے۔ کے سی آر نے ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ سیشن کے باقی دنوں میں ریاست کے مسائل پر شدت سے آواز اٹھائیں اور مرکزی حکومت کو تلنگانہ کیلئے خصوصی فنڈز اور پراجکٹس کی منظوری کیلئے دباؤ ڈالیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر نے واضح کردیا کہ تلنگانہ کی سیاسی صورتحال میں بی جے پی سے مفاہمت ٹی آر ایس کیلئے نقصاندہ ثابت ہوگی لہذا مرکز سے تعاون صرف اصولوں کی بنیاد پر رہے گا سیاسی بنیاد پر نہیں۔ انہوں نے واضح کردیا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کا موقف مستحکم ہے اور اسے کسی بھی جماعت سے اتحاد کی ضرورت نہیں۔ آئندہ عام انتخابات میں ٹی آر ایس تنہا مقابلہ کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی کے بعض قائدین نے کانگریس سے مقابلہ کیلئے بی جے پی کے ساتھ کھلے عام نہ سہی لیکن درپردہ مفاہمت کا مشورہ دیا ہے۔ حالیہ عرصہ میں بی جے پی نے دیہی علاقوں میں اپنی جڑیں مضبوط کرلی ہیں۔ ایسے میں بی جے پی بعض علاقوں میں ٹی آر ایس کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر نے اس تجویز پر فوری کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا اور کہا کہ انتخابات سے قبل کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ حالیہ عرصہ میں کے سی آر اور نریندر مودی کے درمیان تعلقات میں بہتری کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ آئندہ انتخابات میں دونوں پارٹیاں اتحاد کرسکتی ہیں۔ اسی دوران کے سی آر کا مجوزہ تھرڈ فرنٹ کا منصوبہ آئندہ انتخابات تک ٹال دیا گیا ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کے اختلافات کو دیکھتے ہوئے کے سی آر نے 2019 کے نتائج کے بعد اس سلسلہ میں پہل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر نے اس سلسلہ میں جنتا دل سیکولر کے قائد اور سابق صدر وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کی تجویز سے اتفاق کرلیا جنہوں نے مشورہ دیا تھا کہ تھرڈ فرنٹ کے قیام میں عجلت نہ کی جائے۔ تحریک عدم اعتماد کے دوران غیر بی جے پی جماعتوں میں لوک سبھا میں اتفاق رائے کی کمی دیکھی گئی۔ تحریک پر جس انداز میں رائے دہی ہوئی اس سے اختلافات اور عیاں ہوگئے۔ بی جے پی کو 316 ووٹ حاصل ہونے کی امید تھی لیکن اسے 325 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ اپوزیشن کو صرف 126 ووٹ پر اکتفاء کرنا پڑا۔ دوسری طرف ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے 15 اگسٹ سے بی جے پی کے خلاف مہم کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض علاقائی جماعتیں تھرڈ فرنٹ کے قیام اور اس کی قیادت کے سلسلہ میں ممتا بنرجی کے نام کو ترجیح دے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT