مودی کی سرکار خطرناک حکومت : سونیا گاندھی

NEW DELHI, JULY 22 (UNI):- Former AICC president Sonia Gandhi addressing the Congress Working Committe, at Parliament House Annexe, in New Delhi on Sunday. UNI PHOTO-12U

جمہوریت سے سمجھوتہ کا الزام، مرکز کی زعفرانی حکومت کی اُلٹی گنتی شروع ، راہول گاندھی کی چیرمین شپ میں پہلی مرتبہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس
راہول گاندھی کا ٹوئٹ
’’دیش سے نفرت کا پھیلا زہر مٹا دوں گا، تمہارے سب گندے پتھر میں یہاں دفنا دوں گا، دیکھنا ہر دل میں پھر سے پریم بسا دوں گا، جلد ہی گاندھی کا یہ ہندوستان بنا دوں گا‘‘۔
’’گاندھی نگری سب پر بھاری
اب کانگریس کی باری‘‘

نئی دہلی۔ 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) یو پی اے چیرپرسن سونیا گاندھی نے آج نریندر مودی حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ملک کے عوام کو مودی کی خطرناک حکومت سے بچانا ضروری ہے۔ اس حکومت نے ہندوستان کی جمہوریت کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا ہے۔ پارٹی صدر راہول گاندھی کی چیرمین شپ میں پہلی مرتبہ نوتشکیل شدہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے عوام کو بھی اس حکومت کے خطرناک منصوبوں سے خبردار کیا۔ انہوں نے کاہ کہ یہ حکومت ہندوستان کے پسماندہ اور غریب عوام کے اندر خوف و ہراس کا ماحول پیدا کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی بے تابی اور اضطرابی کیفیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی حکومت کی اُلٹی گنتی کا آغاز ہوا ہے۔ ہم نے سیاسی اتحاد کرنے کا عہد کیا ہے اور اس اتحاد کی جانب کام کررہے ہیں۔ ہم تمام مل کر صدر کانگریس راہول گاندھی کے ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔ ہمیں اس خطرناک حکومت سے عوام کو بچانا ہوگا، کیونکہ اس حکومت نے ہندوستانی جمہوریت کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا ہے۔ راہول گاندھی نے گزشتہ سال ڈسمبر میں پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی کی تشکیل نو انجام دی تھی جس کا پہلا اجلاس آج منعقد ہوا۔ اس اہم ترین اجلاس میں مختلف اُمور پر غوروخوض کیا گیا۔ یہ اجلاس جمعہ کے دن لوک سبھا میں مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دو دن بعد منعقد ہوا ہے۔ اس کمیٹی کا گزشتہ ہفتہ اعلان کیا گیا تھا۔ لوک سبھا انتخابات کے بمشکل 7 ماہ قبل پارٹی کے اجلاس میں ملک کی سیاسی، معاشی، داخلی اور خارجی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ سونیا گاندھی نے زور دے کر کہا کہ یو پی اے کو موثر طریقہ سے کام کرنا ہوگا۔ راہول گاندھی نے کانگریس کو ’’ہندوستان کی آواز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ ملک کے موجودہ اور مستقبل کے بارے میں غور کرے اور عوام کی خدمت کیلئے منصوبہ کو قطعیت دے۔ راہول گاندھی نے نوتشکیل شدہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کو تجربہ کار اور توانائی سے بھرپور بریگیڈ پر مشتمل ٹیم قرار دیا۔ اس میں ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک پل بنایا گیا ہے۔ کانگریس قائدین اور کانگریس خاتون ارکان پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کی سربلندی کیلئے جدوجہد کریں۔ ہندوستان کو اس مظلومیت سے چھٹکارہ دلائیں۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے وزیراعظم نریندر مودی پر الزام عائد کیا کہ وہ خودنمائی کیلئے جملے بازی سے کام لے رہے ہیں۔ ایسے کلچر کو بڑھاوا دے رہے ہیں جس میں صرف دھوکہ ہی دھوکہ دکھائی دیتا ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے راہول گاندھی کو یقین دلایا کہ وہ اور دیگر تمام کانگریس قائدین ان کی مدد کرتے ہوئے ہندوستان کی سماجی ہم آہنگی اور معاشی ترقی کو بحال کرنے کیلئے کام کریں گے۔ سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کی جذباتی اور مستقبل کے منصوبوں پر مبنی تقریر نے کانگریس کے اندر جوش و ولولہ پیدا کردیا ہے۔ پارٹی قائدین نے اعتماد کا اظہار کیا کہ راہول گاندھی 2019ء کے لوک سبھا انتخابات میں نریندر مودی کیلئے طاقتور چیلنج بنیں گے۔

TOPPOPULARRECENT