Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / مودی کی مقبولیت میں چار فیصد کمی، بی جے پی کیلئے خطرہ کی گھنٹی

مودی کی مقبولیت میں چار فیصد کمی، بی جے پی کیلئے خطرہ کی گھنٹی

امیت شاہ اور خود وزیراعظم کیلئے لمحہ فکر، ترنمول، بی ایس پی اور ایس پی سے کانگریس کی مفاہمت پر یو پی اے کو اقتدار کے وسیع تر امکانات

نئی دہلی 21 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کی عوامی مقبولیت میں گزشتہ چند ماہ کے دوران چار فیصد کمی ہوئی ہے جس کو یقینا کس کرشماتی قائد کیلئے ایک خطرہ کی گھنٹی سمجھا جانا فطری بات ہے جن کے امیج پر بی جے پی 2014 ء میں بھاری اکثریت کے ساتھ مرکز میں اقتدار حاصل کی تھی اور ملک کے ان مقامات پر بھی اپنا راستہ بنائی تھی جہاں پہلے کبھی اُس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ لیکن مقبولیت میں ہونے والی یہ کمی بی جے پی کو جیت سے ہمکنار کرنے والے برینڈ مودی کی ساکھ پر ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ ’انڈیا ٹوڈے‘ کی طرف سے کئے گئے حالیہ ’قوم کا مزاج سروے‘ کے مطابق وزیراعظم مودی کی مقبولیت جنوری 2018 ء میں 53 فیصد تھی جو جولائی میں چار فیصد گھٹتی ہوئی 49 فیصد تک پہونچ گئی۔ جس کے ساتھ ہی نہ صرف بی جے پی کے اسٹار حکمت عملی سازوں کیلئے بلکہ بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور خود وزیراعظم مودی کے لئے خطرہ کی گھنٹیاں بجنا شروع ہوگئیں۔ لیکن حال تک ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے قائد کے گراف میں انحطاھ کیسے آیا کہ 2014 ء کے بعد پہلی مرتبہ ان کی عوامی مقبولیت 50 فیصد سے کم سطح تک پہونچ گئی۔ غالباً اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ 8 نومبر 2016 ء کی شام وزیراعظم نریندر مودی نے قوم سے اچانک اور غیر معلنہ خطاب کیا جس میں نوٹ بندی کے انتہائی حیرت انگیز فیصلے کا اعلان کردیا جو 1960 ء کے عشرہ میں اندرا گاندھی کی طرف سے ہندوستانی بینکوں کو قومیانے کے اعلان کے بعد اب تک کا پہلا انوکھا اور حیرت انگیز مالیاتی فیصلہ تھا۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ وزیراعظم مودی نے اپنی ’سیاسی گیمبلنگ‘ کا یہ اعلان ایک ایسے وقت کیا جب اُن کی مقبولیت کی شرح اعظم ترین حد 65 فیصد پر تھی۔ لیکن اُن غلط طریقہ کار کے سبب غلط منصوبہ بندی اب انقلابی فیصلے کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے بلکہ زیادہ تر نقدی پر انحصار کرنے والے اس ملک پر نوٹ بندی کے منفی اثرات مرتب ہوئے اور عوام میں برہمی بھی پیدا ہوئی۔ عوام کو بینکوں سے اپنی ہی رقومات نکالنے کے لئے گداگروں کی طرح کئی بینکوں کے چکر کاٹنے اور طویل قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس عمل میں کئی افراد کی موت واقع ہوگئی تھی جو ’وکاس‘ (ترقی) کے لئے فخر کرنے والی حکومت کے ریکارڈ پر کبھی نہ مٹنے والا بدنما سیاہ داغ ہے۔ اس طرح کئی سروے، ضمنی انتخابات کے نتائج اور رجحانات سے حکمراں جماعت اور اس کے قائد کی مقبولیت میں کمی عملی طور پر دیکھی گئی۔ لیکن کانگریس کے صدر راہول گاندھی کی حالیہ کامیابیوں کو وزیراعظم مودی کی مقبولیت میں کمی سے مربوط نہیں کیا جاسکتا بلکہ اور بھی ایسے کئی سروے اور انتخابی رجحانات ہیں جو کانگریس کے لئے کافی اُمید اُفزاء ہیں۔ کانگریس اور اس کی یو پی اے حلیف جماعتیں 2014 ء سے بہت زیادہ بہتر مظاہرہ اگرچہ نہ بھی کرسکیں لیکن نئی حلیف جماعتوں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)، سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور حتیٰ کہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سے اتحاد کے ساتھ یو پی اے کے وسیع تر انتخابی امکانات 2019 ء میں ایک اور مودی لہر کے امکان کو یقینا محدود و متاثر کرسکتے ہیں۔ سی ایس ڈی سی کے سروے نے پیش قیاسی کی ہے کہ بی ایس پی اور ایس پی کے ساتھ یو پی اے ملک بھر میں بہ آسانی 41 فیصد ووٹ حاصل کرسکتی ہے جو اُس کو مرکز میں حکومت قائم کرنے کے موقف میں پہونچا سکتے ہیں۔ مزید براں ڈسمبر 2017 ء کے بعد ہونے والے ضمنی انتخابات میں مختلف پارٹیوں کو محصلہ ووٹوں کے اوسط حصہ کو اگر صحیح مان لیا جائے تو یو پی اے کو بی ایس پی اور ایس پی کے ساتھ 45.3 فیصد ووٹوں کا حصہ مل سکتا ہے جس کے مقابلے بی جے پی کو صرف 36 فیصد ووٹ حاصل ہوسکتے ہیں۔ لیکن یو پی اے اگر تنہا مقابلہ کرتا ہے تو اُس کو صرف 32 فیصد ووٹ حاصل ہوسکتے ہیں۔ انڈیا ٹوڈے کی طرف سے کئے گئے حالیہ سروے کے نتائج بھی متحدہ اپوزیشن کے لئے تقریباً ایسے ہی بتائے گئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT