Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / مودی کی ڈگری ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کی جائے

مودی کی ڈگری ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کی جائے

دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے اروند کجریوال کا مطالبہ، عوام کو سچائی کا پتہ چلنا ضروری
نئی دہلی 5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے آج دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو مکتوب لکھ کر وزیراعظم نریندر مودی کی ڈگری کے مسئلہ پر مطالبہ کیا ہے کہ وہ مودی کی ڈگری کو یونیورسٹی کے ویب سائٹ پر لوڈ کریں تاکہ عوام کے سامنے سچائی ظاہر ہوسکے۔ کیوں کہ ایہ ایک ’’سنگین تشویش‘‘ کا معاملہ ہے۔ اروند کجریوال نے وائس چانسلر یوگیش تیاگی کو لکھا ہے کہ انھیں مودی کی ڈگری کے بارے میں سچائی سے کام لینا چاہئے۔ کل ہی وائس چانسلر نے مودی کی ڈگری بتانے سے ’’انکار‘‘ کردیا تھا کیوں کہ مودی اس یونیورسٹی سے گریجویٹ نہیں ہوئے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے قائدین کے ایک وفد نے کل یونیورسٹی کا دورہ کرتے ہوئے مودی کی ڈگری کی ایک نقل حوالے کرنے کی خواہش کی تھی۔ بعدازاں وائس چانسلر نے ان کے مطالبہ کو مسترد کردیا تھا۔ اپنے مکتوب میں اروند کجریوال نے کہاکہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا وزیراعظم نے دہلی یونیورسٹی سے بی اے کیا ہے یا نہیں۔

اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ یونیورسٹی کے ریکارڈس میں مودی کے داخلے کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ نہ ہی مارکس شیٹ ہے یا کوئی اور ان کی ڈگری کے تعلق اطلاع نہیں ہے۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے کیوں کہ گجرات یونیورسٹی نے جب سے یہ کہا ہے کہ مودی نے یہاں سے (گجرات یونیورسٹی) سے اپنے ماسٹرس کی تکمیل کی ہے، اگر مودی نے بی اے نہیں کیا ہے تو پھر اُنھوں نے ایم اے میں داخلہ کس طرح لیا۔ اس سے یہ شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ مودی کی ایم اے کی ڈگری جعلی ہے۔ ان اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہ دستاویزات محفوظ صیغہ میں نہیں ہیں۔ عام آدمی پارٹی سربراہ نے وائس چانسلر پر زور دیا کہ وہ ان دستاویزات کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کریں اور انھیں ویب سائٹ پر اپ لوڈ کریں۔ ایک انگریزی اخبار نے اطلاع دی تھی کہ ان کی ڈگری محفوظ نہیں رہی اور اس کے ساتھ کوئی حادثہ ہوسکتا ہے۔ اس رپورٹ سے ایک اور شبہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ڈگری کو مسخ کرنے کا حادثہ گھڑا جائے گا اس لئے میں آپ پر (وائس چانسلر) زور دیتا ہوں کہ وہ مودی کی ڈگری اور تعلیمی ریکارڈ کو فوری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کریں تاکہ اس ملک کے عوام کو سچائی کا پتہ چل سکے۔ ملک کے عوام اپنے وزیراعظم کی تعلیمی قابلیت کو جاننے کا حق رکھتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT