Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / مودی کے آبائی موضع واڈنگر میں بی جے پی کو سخت چیلنج

مودی کے آبائی موضع واڈنگر میں بی جے پی کو سخت چیلنج

کانگریس اور ہاردک پٹیل اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کوشاں
حیدرآباد۔12 ڈسمبر(سیاست نیوز) نریندر مودی کے آبائی موضع واڈنگر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو سخت چیالنج درپیش ہوگا اور اس چیالنج سے نمٹنے کیلئے بی جے پی کی جانب سے ممکنہ کوشش کی جا رہی ہے اس کے برخلاف ہاردک پٹیل اور کانگریس مہسانہ کے موضع واڈنگر کے علاقہ میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ضلع مہسانہ کے عوام ضلع کی ترقی سے خوش ہیں لیکن پٹیل تحفظات تحریک اور نوجوان نسل میں پائے جانے والے تحفظات تحریک کے اثرات بھارتیہ جنتا پارٹی کو تذبذب کا شکار بنائے ہوئے ہیں۔ گجرات اسمبلی انتخابات کی مہم کے آخری دن بھی ضلع کو کافی اہمیت حاصل رہی لیکن کہا جارہا ہے کہ بی جے پی اس صورتحال سے نمٹنے میں کامیاب ہوتی جا رہی ہے کیونکہ نریندر مودی کے دور چیف منسٹر میں اس علاقہ کی ترقی ہوئی ہے اور مقامی عوام کا احساس ہے کہ نریندر مودی کے چیف منسٹر بننے سے قبل یہ علاقہ بھی دیگر مواضعات کی طرح ایک دیہی علاقہ ہوا کرتا تھا جہاں عوام کو ناہموار سڑکوں اور برقی کے مسائل کا سامنا تھا لیکن بتدریج اس علاقہ میںتیز رفتار ترقی دیکھی جانے لگی اور کہا جا رہا ہے کہ اس علاقہ میں ہمہ منزلہ عمارتوں اور شاپنگ کامپلکس کو دیکھتے ہوئے عوام مطمٹن ہیں لیکن اس کے برعکس چند لوگوں کا کہنا ہے کہ جب تک نریندر مودی گجرات کے چیف منسٹر رہے اس علاقہ کی ترقی کو ممکن بنایا جاتا رہا لیکن جب وہ وزیر اعظم بن کر دہلی چلے گئے تو اس کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی ہے اور اس علاقہ کو نظر انداز کیا جانے لگا جس کے سبب عوام میں ناراضگی بھی پائی جاتی ہے اور پٹیل برادری میں تحفظات کے مسئلہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی سے ناراضگی بھی نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ مخالف بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ ضلع مہسانہ میں کامیابی حاصل کی جائے تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ وزیر اعظم اپنے آبائی علاقہ میں اپنی وقعت کھو چکے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ مہسانہ کی تمام 7اسمبلی نشستوںپر کامیابی یقینی بنائی جائے جبکہ فی الحال اس ضلع میں بی جے پی کے 5 ارکان اسمبلی ہے اور دو نشستوں پر کانگریس نے کامیابی حاصل کی ہوئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT