Sunday , April 22 2018
Home / ہندوستان / مودی کے اقتدار میں 23 ہزار کروڑ پتی ہندوستانیوں کی نقل مکانی

مودی کے اقتدار میں 23 ہزار کروڑ پتی ہندوستانیوں کی نقل مکانی

ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث اقدام، معیشت متاثر ہونے کا خدشہ
نئی دہلی۔2 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اگرچہ ایک ابھرتی معیشت ہے لیکن مودی حکومت نے گزشتہ چار برسوں کے دوران جس انداز میں معاشی اصلاحات نافذ کرنے کی کوشش کی ہے، جی ایس ٹی، نوٹ بندی جیسے اقدامات کئے ہیں بے نامی جائیدادوں پر ہلہ بولنے کا اعلان کیا ہے۔ ہزاروں لاکھوں کروڑ روپئے کا بینکوں کو دھوکہ دینے والوں کی ملک سے فراری پر خاموش اور غریب قرض داروں کے ساتھ سختی کی جو بدترین مثالیں قائم کی ہیں ان سے مایوس ہوکر ملک کے ارب پتیوں کی ایک کثیر تعداد کاروبار کے ساتھ بودوباش اختیار کرنے دوسرے ملکوں کا رخ کرنے لگی ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پچھلے چار برسوں میں جملہ 23,000 دولت مند ہندوستانیوں نے اپنے وطن کو خیرباد کہہ دیا جو فی کس کم از کم ایک ملین امریکی ڈالرس مالیتی نقد اثاثوں کے مالک ہیں۔ حال ہی میں منظر عام پر آئی رپورٹس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف گزشتہ سال ہی 7000 ہندوستانی ارب پتی اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ملک منتقل ہوگئے۔ ان دولتمند بلکہ ارب پتی ہندوستانیوں کی دوسرے ملکوں کو منتقلی کے بارے میں خدشات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ اس کے ہندوستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ مورگن اسٹانلی انوسٹمنٹ مینجمنٹ جائزے میں بتایا گیا کہ جملہ 23 ہزار ارب پتی ہندوستانی باشندوں نے اپنے ملک سے برطانیہ، دوبئی اور سنگاپور نقل مکانی کی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان ارب پتیوں کی تعداد جملہ ارب پتی آبادی کا صرف 2.1 فیصد ہے لیکن 2.1 فیصد کے عدد سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی ارب پتیوں کو چینی ارب پتیوں سے کہیں زیادہ اپنا وطن چھوڑکر دوسرے ملکوں میں کاروبار کرنے کی جلدی ہے، جن کی متمول آبادی کا صرف 2.1 حصہ نے ہی دوسرے ملکوں کو نقل مکانی کی ہے۔ ارب پتی باشندوں کی دوسرے ملکوں کو منتقلی کا رجحان صرف ہندوستان یا چین تک محدود نہیں ہے بلکہ 2016ء میں فرانس کے 12,000 اور برازیل کے 8,000 ارب پتی دوسرے ملک منتقل ہوئے۔ 2016ء میں اپنے ہندوستانی اور چینی باشندوں کی تعداد بالترتیب 6,000 اور 9,000 رہی۔ ارب پتی باشندوں کی نقل مکانی سے چین کو پچھلے دس برسوں میں 3.8 کھرب ڈالرس کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس کے باوجود چین کی معیشت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا بلکہ اس کی معیشت ترقی کی سمت رواں دواں ہے جس پر امریکی حکومت تشویش میں مبتلا دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ عرصہ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے چینی اشیاء پر بطور خاص تحدیدات عائد کئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ چین کی تجارتی اور معاشی ترقی پر بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا ہے۔ نتیجہ میں دوسرے ملکوں سے بھی اس (امریکہ) کے تجارتی تعلقات متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ جہاں تک انڈیا کا سوال ہے ہندوستانی ماہرین معاشیات کے خیال میں ارب پتی باشندوں کی دوسرے ملکوں کو منتقلی سے ملک کی معیشت پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ دنیا کے کروڑ پتیوں اور ارب پتیوں میں انڈیا کے بالترتیب 2 فیصد اور 5 فیصد باشندے شامل ہیں اور اس تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ہندوستان میں 2,45,000 کروڑپتی ہیں اور 2022ء تک ان کروڑ پتیوں کی تعداد 3,72,000 تک پہنچ جائے گی کیونکہ 2016-17 کے دوران ہندوستان میں موجود دولت میں 10 فیصد کا نمو دیکھا گیا ۔
اس معاملہ میں امریکہ 10.1 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

TOPPOPULARRECENT