Friday , January 19 2018
Home / سیاسیات / مودی کے بائیکاٹ کا فیصلہ درست تھا :سویڈن

مودی کے بائیکاٹ کا فیصلہ درست تھا :سویڈن

نئی دہلی ۔ 2 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی جس وقت گجرات کے چیف منسٹر تھے ، اُن کا یوروپی یونین کا بائیکاٹ ختم کرانے میں سویڈن سب سے آگے رہا ، تاہم اس ملک نے 2002 فسادات کے بعد مودی سے ملاقات کا بائیکاٹ کرنے کے فیصلے کی مدافعت کی ہے۔ سویڈن کے وزیر اُمور خارجہ کارل بلڈ نے اس پابندی کو منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ 2002 ء کے واقعات کے بعد ہمارا فیصلہ درست تھا ۔ تاہم اسے جاری رکھنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے چنانچہ ہم نے موزوں وقت پر یہ فیصلہ کیا کہ بائیکاٹ ختم کیا جانا چاہئے ۔ انھوں نے کہاکہ اُس وقت کے سفیر2008 میں ہم نے گاندھی نگر میں مودی سے ملاقات کے لئے روانہ کرتے ہوئے یہ بائیکاٹ ختم کیا تھا ۔

انھوں نے کہا کہ یہ ایک سونچا سمجھا فیصلہ تھا ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مودی کے ساتھ بات چیت جاری رکھنی چاہئے ۔ سویڈن کے بعد ڈنمارک کے سفیر کی مودی سے ملاقات کے نتیجہ میں گزشتہ سال جنوری میں یوروپی یونین کے سفیروں کے ساتھ انھوں (مودی ) نے ظہرانہ میں شرکت کی اور سرکاری طورپر یوروپی یونین کا بائیکاٹ ختم ہوا ۔ کارل بلڈ نے انتخابات میں مودی کی کامیابی کو متاثرکن اور سب کیلئے حیرت انگیز قرار دیا۔ انھوں نے کہاکہ ہم این ڈی اے حکومت کی معاشی اصلاحات پالیسی میں پیشرفت کے خواہاں ہیں، بالخصوص سنگل برانڈ ریٹیل شعبہ میں ایف ڈی آئی سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔

مودی مخالف تبصرہ : فیس بک صارف کے بیان کا اندراج
نئی دہلی ۔ 2 جون (سیاست ڈاٹ کام) فیس بک کے 21 سالہ سارف دیوو چوڑانکر جنہیں وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر منوہر پاریکر کے خلاف نیٹ ورکنگ سائیٹ پر تبصرے اپ لوڈ کرنے کا ملزم قرار دیا گیا ہے۔ گوا پولیس کے سائبر سیل میں انہوں نے آج اپنا بیان درج کروایا۔ چوڑانکر کے ہمراہ ان کے وکیل صفائی بھی تھے جنہوں نے بی جے پی پر الزام عائد کیا وہ شپ بلڈنگ کے ماہر کو ہراساں کررہی ہے اور سوشل میڈیا پر آزادی تقریر پر تحدید عائد کررہی ہے۔ چوڑانکر سے پولیس نے تقریباً ایک گھنٹہ تفتیش کی۔ سائبر سیل کے باہرپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوڑانکر نے کہا کہ انہیں ہراساں کیا جارہا ہے۔
انہوں نے بی جے پی کی جانب سے سری رام سینا کے سربراہ پرمود متلک کو پارٹی میں شامل کرنے کے بعد یہ تبصرہ شائع کیا تھا لیکن انہیں پارٹی سے خارج کردینے کے بعد فیس بک سے یہ تبصرہ حذف بھی کردیا تھا۔ کانفیڈریشن آف انڈین انڈسٹریز گوا شاہ کے سابق سربراہ بی جے پی کے ہمدرد اتل پائیکانے کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس گذشتہ ایک ماہ سے دیوو کو حراست میں رکھے ہوئے تھی۔ انسانی سماج کے علمبردار کارکنوں کے احتجاج کی بناء پر پولیس کو اپنا جارحانہ رویہ نرم کرنا پڑا اور پاریکر نے اعتراف کیا کہ ایسے مقدمہ میں گرفتاری غیرضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT